تمہیں سفیان مل جائے ہمیں عمران مل جائے.

یہ وڈیو جب پہلی بار بے توجہی سے دیکھی میں نے سمجھا شاید اخیر قسم کا یوتھیا ہے.

لیکن اسی وقت میں نے سوال کیا تو

علامہ عاطف سلیم نقشبندی صاحب نے بتایا

سورہ آل عمران میں عمران سے مراد یہ لوگ ابو طالب کو لیتے ہیں…

حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی بنے اس بات پر امت کا اتفاق ہے.

ابو طالب ایمان لائے اور نہ ہی صحابی بنے شروع سے آج تک علما و محققین کا یہی موقف رہا ہے.

صحابہ کرام کے متعلق لکھی گئی معتبر و مشہور کتب میں ابو طالب کو کسی نے بھی بطور صحابی ذکر نہیں کیا.

نہ ہی صحیح احادیث و روایات سے ایمان لانا ثابت ہے.

سوائے چند ایک علماء کے کسی نے بھی ابو طالب کے ایمان لانے کو قبول نہیں کیا

بلکہ صحیح احادیث میں جو ابو طالب کا مقام بیان کیا گیا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں….

اُس مقام کو ذہین نشین کرنے کے بعد دوبارہ اس وڈیو کو دیکھیے

کہ یہ ٹولا کہاں جانے کی تمنا کررہا ہے……..

فتدبر

فرحان رفیق قادری عفی عنہ