مولوی ہرگز نہ شد مولائے روم

تا غلام شمس تبریزی نہ شد

اللہ تعالیٰ کا قرآن کریم کے ساتھ ساتھ رسول اللہ کو بھی مبعوث فرمانا اس بات کا واضح پیغام ہے کہ جاہل انسان کے لیے کتب ہی سب کچھ نہیں۔

جس شخص کو اساتذہ کی تربیت میسر نہیں آئی تاریخ گواہ ہے کہ وہ قدم قدم پر ڈگمگاتا ہی رہا اور اسی تربیت کی کمی کے باعث ہی یضل بہ کثیرا کا مصداق بن گیا

امام ابو اسحاق ابراہیم بن موسی شاطبی مالکی رحمہ اللہ (متوفی 790ھ) فرماتے ہیں:

النَّاسُ قَدِ اخْتَلَفُوا: هَلْ يُمْكِنُ حُصُولُ الْعِلْمِ دُونَ مُعَلِّمٍ أَمْ لَا؟ فَالْإِمْكَانُ مُسَلَّمٌ، ولكن الواقع في مجاري العادات أن لا بد مِنَ الْمُعَلِّمِ، وَهُوَ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

مفہوم:

اس میں اختلاف ہے کہ کیا بغیر استاد کے علم کا حصول ممکن ہے؟

تو اگر چہ یہ ممکن تو ہے لیکن یہ بات متفق علیہ ہے کہ واقع میں عادتاً استاد کا ہونا ضروری ہے۔

[الشاطبي، إبراهيم بن موسى، الموافقات،140/1]

امام محمد بن ادریس شافعی رحمہ اللہ (204ھ) فرماتے ہیں:

«مَنْ تَفَقَّهَ مِنْ الْكُتُبِ ضَيَّعَ الأَحْكَامَ».

مفہوم:

جس نے صرف کتابوں سے فقہ حاصل کی اس نے احکام کو ضائع کردیا

[البقاعي، النكت الوفية بما في شرح الألفية، 363/2]

ائمہ کرام فرماتے ہیں:

“من كان شيخه كتابه كان خطأه أكثر من صوابه

مفہوم:

جس کا استاد اس کی کتاب ہو اس کی غلطیاں درستگیوں سے زیادہ ہوتی ہیں۔

[عبد الكريم الخضير، شرح ألفية العراقي ، 32/9]

امام ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ (م 852ھ) ایک حدیث کے تحت فرماتے ہیں:

أن بقاء الكتب بعد رفع العلم بموت العلماء لا يغني من ليس بعالم شيئا

مفہوم:

راسخ علماء کرام کے مرنے کے بعد کتابوں کا باقی رہنا جاہل شخص کو بالکل مفید نہیں

[ابن حجر العسقلاني، فتح الباري لابن حجر، 286/13]

امام ابو اسحاق ابراہیم بن موسی شاطبی مالکی رحمہ اللہ (م790ھ)نقل فرماتے ہیں:

“إِنَّ الْعِلْمَ كَانَ فِي صُدُورِ الرِّجَالِ، ثُمَّ انْتَقَلَ إِلَى الْكُتُبِ، وَصَارَتْ مَفَاتِحُهُ بِأَيْدِي الرِّجَالِ”.

مفہوم:

پہلے علم علماء کے سینوں میں تھا لیکن (اب) کتابوں میں منتقل ہوچکا ہے اور اس کی چابیاں علماء کے ہاتھوں میں ہیں۔

[الشاطبي، إبراهيم بن موسى ,الموافقات ,1/140]

اسی میں ہے:

قَلَّمَا وُجِدَتْ فِرْقَةٌ زَائِغَةٌ، وَلَا أَحَدٌ مُخَالِفٌ لِلسَّنَةِ إِلَّا وَهُوَ مُفَارِقٌ لِهَذَا الْوَصْفِ، وَبِهَذَا الْوَجْهِ وَقَعَ التَّشْنِيعُ عَلَى ابْنِ حَزْمٍ الظَّاهِرِيِّ وَأَنَّهُ لَمْ يُلَازِمِ الْأَخْذَ عَنِ الشُّيُوخِ، وَلَا تَأَدَّبَ بِآدَابِهِمْ،

مفہوم:

اکثر اسی وصف(استاد کی تربیت) کی کمی کی وجہ سے فرقے گمراہ ہوجاتے ہیں اور اسی وصف سے دوری کے باعث انسان مخالف سنت (تک) بن جاتا ہے

اسی وجہ سے ابن حزم ظاہری پر تشنیع کی گئی کیونکہ اس نے اساتذہ کی صحبت نہیں اختیار کی اور نہ ہی ان کے طریقے پہ چلا۔

[الشاطبي، إبراهيم بن موسى، الموافقات،144/1]

✍️زبیرجمالوی

18/06/2021ء