أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلَمۡ تَرَ اِلَى الَّذِيۡنَ يُجَادِلُوۡنَ فِىۡۤ اٰيٰتِ اللّٰهِؕ اَنّٰى يُصۡرَفُوۡنَ ۞

ترجمہ:

کیا آپ نے ان لوگوں کی طرف نہیں دیکھا جو اللہ کی آیتوں میں جھگڑا رہے ہیں، وہ کہاں پھیرے جارہے ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

کیا آپ نے ان لوگوں کی طرف نہیں دیکھا جو اللہ کی آیتوں میں جھگڑا رہے ہیں، وہ کہاں پھیرے جارہے ہیں جن لوگوں نے کتاب اللہ کی تکذیب کی اور اس پیغام کی تکذیب کی جس کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو بھیجا تھا پس عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا (المومن : 69-70)

المومن : ٦٩ میں مجادلین سے مراد مشرکین ہیں یا منکرین تقدیر ؟

یعنی اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا آپ نے ان معاندین اور مکذبین کی طرف نہیں دیکھا جو اللہ تعالیٰ کی آیات کا رد کرنے کے لیے بےجا حجت بازی کررہے ہیں، جب کہ یہ آیتیں اللہ تعالیٰ کی توحید اور آپ کی رسالت کے ثبوت میں بالکل واضح ہیں اور اگر انصاف سے ان آیات کو پڑھا جائے اور ان پر ٹھنڈے دل سے غور کیا جائے تو انسان کے لیے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لائے بغیر کوئی چارہ نہیں رہے گا، اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جدال اور جھگڑا کرنے والوں کی اس سورت میں بھی کئی جگہ مذمت کی ہے اور اس کے علاوہ دیگر سورتوں میں بھی مذمت کی ہے، دوسری آیت میں یہ فمایا کہ یہ آپ اور اللہ کے پیغام کی تکذیب کرتے ہیں اور چونکہ وہ آپ کے مکذب تھے، اسی لیے آپ سے جھگڑا کیا کرتے تھے۔

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متویف ٣١٠ ھ لکھتے ہیں :

اس آیت کی تفسیر میں اختلاف ہے، بعض نے کہا : اللہ تعالیٰ کی آیتوں میں جدال اور جھگڑا کرنے والے منکرین تقدیر میں جن کو قدریہ کہتے ہیں اور بعض نے کہا : اس سے مراد مشرکین مکہ ہیں۔

ابن سیرین نے کہا : اگر یہ آیت قدریہ کے متعلق نازل نہیں ہوئی تو پھر مجھے معلوم نہیں کہ یہ کس کے متعلق نازل ہوئی ہے۔

حضرت عقبہ بن عامر الجہنی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عنقریب میری امت میں سے اہل کتاب اور اہل لین ہلاک ہوجائیں گے، حضرت عقبہ نے پوچھا : یارسول اللہ ! اہل کتاب کون ہیں ؟ آپ نے فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جو کتاب اللہ کا علم حاصل کرتے ہیں اور مسلمانوں سے جدال اور بحث کرتے ہیں، پھر حضرت عقبہ نے پوچھا : یارسول اللہ ! اہل لین کون ہیں ؟ آپ نے فرمایا : یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی ہوائے نفس کی پیروی کرتے ہیں اور نمازوں کو ضائع کرتے ہیں ابوقبیل نے کہا : میرا گمان یہ ہے کہ تقدیر کے منکرین وہی لوگ ہیں جو مسلمانوں سے جدال اور بحث کرتے ہیں اور اہل لین میرے گمان میں وہ لوگ ہیں جن کا کوئی امام جماعت ہوتا ہے اور نہ وہ رمضان کا مہینہ کو پہنچانتے ہیں۔

اور ابن زید نے اس آیت کی تفسیر میں کہا : مسلمانوں سے جدال اور بحث کرنے والے مشرکین تھے۔ (جامع البیان جز ٢٤ ص ١٠٥۔ ١٠٤، دارالفکر، بیروت، ١٤١٥ ھ)

منکرین تقدیر کے متعلق احادیث اور ان سے تعلقات کا شرعی حکم

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قدریہ (منکرین تقدیر) اس امت کے مجوس ہیں، اگر وہ بیمار ہوں تو ان کی عیادت نہ کروں اور اگر وہ مرجائیں تو ان کے جنازہ میں نہ جائو۔

(سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٦٩١، جامع المسانید والسنن مسند ابن عمر رقم الحدیث : ٦٣٢)

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قدریہ کو مجوس اس لیے فرمایا کیونکہ مجوس دو خدا مانتے ہیں، یزداں اور اہرمن، یزداں نور ہے، وہ خیر کا خالق ہے اور اہرمن ظلمت ہے، وہ شرکا خالق ہے، اسی طرح قدریہ بھی کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ صرف خیر کا خالق ہے اور شر کا خالق کوئی اور ہوے حالانکہ اللہ سبحانہ خیر اور شر دونوں کا خالق ہے اور اس نے شر کو کسی حکمت کی وجہ سے پیدا کیا ہے، نیز قدریہ یہ کہتے ہیں کہ انسان کے افعال کا خود انسان خالق ہے، ہم کہتے ہیں : اللہ تعالیٰ انسان کا بھی خالق ہے اور اس کے افعال کا بھی خالق ہے، البتہ انسان کے افعال کا کسب اور قصد انسان کرتا ہے اور جس چیز کا انسان کسب اور قصد کرتا ہے اس کو اللہ تعالیٰ پیدا کردیتا ہے، پس اللہ تعالیٰ خالق ہے اور انسان کا سب ہے۔

حضرت حذیفہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر امت میں مجوس ہوتے ہیں اور اس امت کے مجوس وہ لوگ ہیں جو تقدیر کا انکار کرتے ہیں، ان میں سے جو مرجائے تم اس کے جنازہ پر نہ جائو اور جو ان میں سے بیمار ہوجائے تم اس کی عیادت نہ کرو، یہ دجال کا گروہ ہے اور اللہ پر حق ہے کہ وہ ان کو دجال کے ساتھ ملادے۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٦٩٣)

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قدریہ کا جو حکم بیان فرمایا ہے کہ اگر یہ مرجائیں تو ان کے جنازہ پر نہ جائو اور اگر یہ بیمار ہوں تو ان کی عیادت نہ کرو، تمام گمراہ فرقوں کا یہی حکم ہے۔

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے مجھے پسند فرما لیا اور میرے لیے میرے اصحاب کو اور میرے سسرالی رشتہ داروں اور دامادوں کو پسند فرمالیا اور عنقریب کچھ لوگ آئیں جو ان کو بُرا کہیں گے اور ان کا نقص بیان کریں گے، تم ان کے ساتھ نہ بیٹھنا اور نہ ان کے ساتھ کھانا پینا اور نہ ان کے ساتھ نکاح کرنا۔ (کتاب الضعفاء الکبیر ج ١ ص ١٢٦، رقم الحدیث : ١٥٣، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤١٨ ھ، کنز العمال ج ١١ ص ٥٢٩، جمع الجوامع ج ٢ صظ ٢٢٨، المستدرک ج ٣ ص ٦٣٢، مجمع الزوائد ج ١٠ ص ١٧، السنۃ لا بن ابی عاصم ج ٢ ص ٤٨٣، حلیۃ الاولیاء ج ٢ ص ١١)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 40 غافر آیت نمبر 69