{طاعت و عبادت کے کاموں کا معاوضہ لینا}

مسئلہ : طاعت وعبادت کے کاموں پر اجارہ کرنا جائز ہے مثلاً اذان کہنے کے لئے ، امامت کے لئے ، قرآن وفقہ کی تعلیم کے لئے ، یا حج کے لئے یعنی اس لئے اجیر کیا کہ کسی کی طرف سے حج کرے متقدین فقہاء کا یہی مسلک ہے مگر متاخرین نے دیکھا کہ دین کے کاموں میں سُستی پیدا ہوگئی ہے اگراس اجارہ کی سب صورتوں کو ناجائز کہا جائے تو دین کے بہت سے کاموں میں خلل واقع ہوگا اُنہوں نے اس کُلیہ سے بعض امور کا استثنا ء فرمادیا اوریہ فتویٰ دیا کہ قرآن کی تعلیم ، فقہ اور اذان واقامت پر اجارہ جائز ہے کیونکہ ایسا نہ کیا جائے تو قرآن وفقہ پڑھانے والے طلب معیشت میں مشغول ہوکر اس کام کو چھوڑدیں گے اورلوگ دین کی باتوں سے ناواقف ہوتے جائیں گے اسی طرح اگر مؤذن وامام کو نوکر نہ رکھا جائے توبہت سی مساجد میں اذان واقامت کا سلسلہ بند ہوجائے گا اوراس شعارِ اسلامی میں زبردست کمی واقع ہوجائے گی اسی طرح بعض علماء نے وعظ پر بھی اجارہ کو جائز کہاہے اس زمانے میں اکثر مقامات ایسے ہیں جہاں اہل علم نہیںہیں اِدھر اُدھر سے کبھی کوئی عالم پہنچ جاتاہے جو وعظ کے ذریعہ انہیں دین کی تعلیم دیتاہے اگراس اجارہ کو ناجائز کردیا جائے تو عوام کو جواس ذریعہ سے کچھ علم کی باتیں معلوم ہوجاتی ہیں اس کا انسداد ہوجائے گا۔(بہار شریعت)

{ پیسہ دے کر ایصالِ ثواب کرنا}

مسئلہ : فقہاء کرام نے اس کلیہ سے جن چیزوں کا استثناء فرمایا اور وہ مذکورہوئیں اس سے معلوم ہوا کہ تلاوتِ قرآن پر اجارہ جس طرح قُدَما ء کے نزدیک ناجائز ہے متاخیرین کے نزدیک بھی ناجائز ہے لہٰذا سوئم وغیرہ کے موقع پر اُجرت پر قرآن پڑھوانا ناجائز ہے دینے والا ، لینے والا دونوں گنہگار ہیں اسی طرح اکثر لوگ چالیس دن تک قبر کے پاس یا مکان پر قرآن پڑھوا کر ایصالِ ثواب کراتے ہیں اگر یہ اجرت پر ہے تو ناجائز ہے بغیر اُجرت کے جائز ہے بلکہ اس صورت میں یعنی اُجرت دے کر ایصالِ ثواب بے معنیٰ بات ہے کہ جب پڑھنے والے نے پیسوں کی خاطر پڑھا تو ثواب ہی کہاں جس کا ایصال کیا جائے اس کا ثواب یعنی بدلہ پیسہ ہے جیسا کہ حدیث شریف میں ہے کہ اعمال جتنے ہیں نیت کیساتھ ہیں جب اللہ تعالیٰ کے لئے عمل نہ ہوتو ثواب کی اُمید بیکار ہے ۔(ردالمختار)

{جھاڑ ، پھونک اورتعویذ کا معاوضہ}

مسئلہ : کسی کو سانپ یا بچھونے کاٹا ہواس کے لئے جھاڑ نے کی اُجرت لینا جائز ہے اگر چہ قرآن پاک ہی کی آیت یا سورت پڑھ کر جھاڑ ناان کے پہلے ہی اُجرت مقرر کرلینا اوراس کے اچھے ہونے کے بعد لینا پھر حضور ﷺکے پاس (ہوکہ یہ تلاوت نہیں بلکہ علاج کے قبیل سے ہے حدیث میں ایک صحابی کاسورہ فاتحہ پڑھ کر دم کرنا اوراس کا اچھا ہوجانا)معاملہ کو پیش کرنا اور سرکارِ اعظم ﷺکا انکار نہ کرنا بلکہ جائز رکھنا اس کے جائز ہونے کی دلیل ہے ۔ (ردالمختار)

مسئلہ : بہت سے لوگ تعویذ کا معاوضہ لیتے ہیں یہ جائز ہے مگر شرط یہ ہے کہ تعویذ قرآنی آیات والا، جائز الفاظ والا ہو۔(بہار شریعت)

مسئلہ : میلاد شریف (یعنی سرکارِ اعظم ﷺکی ولادت کابیان) جائز ہے اسی کے ضمن میں واقعات میلاد بیان کرنا، معجزات وحالاتِ مصطفی ﷺکے واقعات بیان ہوتے ہیں ایسی نورانی محافل کا ذکر قرآن وحدیث سے ثابت ہے ۔ میلاد شریف کی محافل منعقد کرنا، نعتیں پڑھنا ، خوشی منانا، صدقہ وخیرات کرنا سب کا سب باعثِ ثواب ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت پر خوشی منانے کا حکم ہے ۔

القرآن: ترجمہ: فرمادیجئے یہ اللہ کے فضل اوراس کی رحمت سے ہے ان پر خوشی منائیں وہ ان کے دُھن دولت سے بہترہے ۔(سورہ یونس آیت58)

جو لوگ میلا دالنبی ﷺکی آڑ میں غلط کام کرتے ہیں اُن کا مسلکِ اہلسنّت سے کوئی تعلق نہیںہے۔ میلاد النبی ﷺکو بدعت کہنا کُھلی گمراہی ہے ۔