أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

هُوَ الَّذِىۡ خَلَقَكُمۡ مِّنۡ تُرَابٍ ثُمَّ مِنۡ نُّطۡفَةٍ ثُمَّ مِنۡ عَلَقَةٍ ثُمَّ يُخۡرِجُكُمۡ طِفۡلًا ثُمَّ لِتَبۡلُغُوۡۤا اَشُدَّكُمۡ ثُمَّ لِتَكُوۡنُوۡا شُيُوۡخًا ؕ وَمِنۡكُمۡ مَّنۡ يُّتَوَفّٰى مِنۡ قَبۡلُ وَلِتَبۡلُغُوۡۤا اَجَلًا مُّسَمًّى وَّلَعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ۞

ترجمہ:

وہی ہے جس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفہ سے، پھر جمے ہوئے خون سے، پھر وہ تم کو بچہ کی حالت میں (ماں کے پیٹ سے) نکالتا ہے، پھر (تمہاری پرورش کرتا ہے) تاکہ تم جوانی کو پہنچو، پھر (تم کو زندہ رکھتا ہے) تاکہ تم بڑھاپے کو پہنچو اور تم میں سے بعض اس سے پہلے فوت ہوجاتے ہیں اور (تمہیں اس لیے بھی زندہ رکھتا ہے) تاکہ تم اپنی مقررہ معیاد تک پہنچ جائو اور تاکہ تم عقل سے کام لو

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

وہی ہے جس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفہ سے، پھر جمے ہوئے خون سے، پھر وہ تم کو بچہ کی حالت میں (ماں کے پیٹ سے) نکالتا ہے، پھر (تمہاری پرورش کرتا ہے) تاکہ تم جوانی کو پہنچو، پھر (تم کو زندہ رکھتا ہے) تاکہ تم بڑھاپے کو پہنچو اور تم میں سے بعض اس سے پہلے فوت ہوجاتے ہیں اور (تمہیں اس لیے بھی زندہ رکھتا ہے) تاکہ تم اپنی مقررہ معیاد تک پہنچ جائو اور تاکہ تم عقل سے کام لو وہی ہے جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے، پس جب وہ کسی چیز کا فیصلہ فرماتا ہے تو اس سے صرف یہ فرماتا ہے کہ ” ہوجا “ سو وہ ہوجاتی ہے (المومن : 67-68)

تخلیق انسان کے مراحل

المومن : ٦٧ میں فرمایا : ” وہی ہے جس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفہ سے، پھر جمے ہوئے خون سے “۔ (الاٰیۃ)

اس آیت پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ ہر انسان کو تو اللہ تعالیٰ نے مٹی سے پیدا نہیں کیا ؟ اس کا مفسرین نے یہ جواب دیا ہے کہ اس آیت کا معنی یہ ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی خلقت کے ضمن میں ہر انسان کو مٹی سے پیدا فرمایا، کیونکہ ہر انسان حضرت آدم کی اولاد ہے اور ان کی تمام اولاد ان کی پشت میں تھی۔ اس کا دوسرا جواب یہ ہے کہ ہر انسان کو منی اور حیض کے خون سے پیدا کیا ہے اور منی اور خون، انسان کے جسم میں غذا میں بنتا ہے اور غذا زمین سے حاصل ہوتی ہے اور زمین مٹی ہے، اس سے واضح ہوا کہ ہر انسان کی اصل مٹی ہے۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کے تین مراحل بیان کیے ہیں : ایک حالت طفولیت ہے، ایک حالت جوانی ہے اور ایک حالت بڑھاپا ہے۔

حالت طفولیت میں انسان اللہ تعالیٰ کی نعمتیں وصول کرتا رہتا ہے اور اللہ تعالیٰ اسے کسی حکم کا مکلف نہیں کرتا اور بلوغت سے بڑھاپے تک وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کا مکلف ہوتا ہے، جوانی میں وہ بہت آسانی سے عبادت کرسکتا ہے اور بڑھاپے میں مشکل ہوتی ہے لیکن ہمارے ہاں لوگ جوانی کو غفلت میں گزار دیتے ہیں اور بڑھاپے میں مسجد کا رخ کرتے ہیں، جب ان کی بیویوں، بہوئوں اور بیٹیوں پر ان کا وجود ناگوار ہونے لگتا ہے، بڑھاپے میں انسان ویسے بھی چڑ چڑا ہوجاتا ہے اور یہ بوڑھے لوگ مسجدوں میں آکر بات بات پر امام اور مؤذن پر نکتہ چینی کرتے ہیں، بڑھاپے میں انسان کے اعصاب کمزور ہوجاتے ہیں اور اس کے چہرے سے کمزور ظاہرہوتی ہے۔

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر بڑھاپے کے آثار

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر نے کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ بوڑھے ہوگئے، آپ نے فرمایا : مجھے ھود، الواقعہ، والمرسلات اور ” عم یتساء لون “ نے اور ” واذ الشمس کورت “ نے بوڑھا کردیا۔ (امام ترمذی نے کہا : یہ حدیث حسن غریب ہے) (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٢٩٧، جامع المسانید والسنن مسند ابن عباس رقم الحدیث : ٢٥٧٠)

یعنی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر بڑھاپے کا وقت آنے سے پہلے بڑھاپے کے آثار طاہر ہوگئے تھے، اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ آپ کے بال زیادہ سفید ہوگئے تھے کیونکہ حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے گنا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ڈاڑھی اور سر کے بالوں میں بیس (٢٠) سے بھی کم بال سفید تھے۔ (موطا امام مالک رقم الحدیث : ١٧٥٣ )

حضرت ابوبکر صدیق (رض) کا مطلب یہ تھا کہ بڑھاپے میں جس طرح خوف خدا کی شدت ہوتی ہے اور آدمی کا چہرہ خوف سے زرد رہتا ہے آپ پر وہ کیفیت بڑھاپے کا وقت آنے سے پہلے ہی طاری ہوگئی ہے، آپ نے فرمایا : مجھے سورة ھود، سورة الواقعہ، والمرسلات عرفا، عم یتساء لون اور ” واذالشمس کورت “ نے بوڑھا کردیا۔ یعنی ان سورتوں میں قیامت کے احوال اور قیامت کی سنگینیوں اور سختیوں کا ذکر ہے اور ان کے ذکر نے میرے اندر خوف خدا کی ایسی شدت پیدا کی جس نے مجھے کمبلا کر اور دبلا کر رکھ دیا اور وہ دن ایسا ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

یوما یجعل الولدان شیبا (المزمل : 17) وہ دن جو بچوں کو بوڑھا کردے گا

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 40 غافر آیت نمبر 67