أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

هُوَ الۡحَىُّ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَادۡعُوۡهُ مُخۡلِصِيۡنَ لَهُ الدِّيۡنَؕ اَلۡحَمۡدُ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ۞

ترجمہ:

وہی (ہمیشہ) زندہ ہے، اس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے، سو تم اسی کی اطاعت کرتے ہوئے اخلاص کے ساتھ اس سے دعا کرو، تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے

المومن : ٦٥ میں فرمایا : ” وہی (ہمیشہ) زندہ ہے، اس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے۔ “

یعنی اس کی حیات منفرد ہے، وہ ازل سے ابد تک زندہ ہے، اس کی زندگی ذاتی ہے نہ کہ عطائی، وہ اپنی زندگی میں ہر قسم کے عرض اور نقص سے مبرا اور منزہ ہے۔

قرآن اور ذکر میں مشغول ہونا زیادہ افضل ہے یا دعا کرنے میں ؟

اس کے بعد فرمایا : ” سو تم اس کی اطاعت کرتے ہو اخلاص کے ساتھ اس سے دعا کرو۔ “

اس سے پہلے المومن : ٦٠ میں بھی دعا کی ترغیب دی تھی اور اس آیت میں بھی دعا کی ترغیب دی ہے، اس ترغیب پر ایک حدیث سے اعتراض ہوتا ہے، وہ حدیث یہ ہے :

حضرت ابوسعید (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے کہ جس شخص کو قرآن اور میرے ذکر کی مشغولیت نے مجھ سے سوال کرنے سے باز رکھا اس کو میں سوال کرنے سے افضل عطا فرمائوں گا اور اللہ کے کلام کی باقی کلاموں پر ایسی فضیلت نے مجھ سے سوال کرنے سے باز رکھا اس کو میں سوال کرنے سے افضل عطا فرمائوں گا اور اللہ کے کلام کی باقی کلاموں پر ایسی فضیلت ہے جیسے اللہ کی تمام مخلوق پر فضیلت ہے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٩٢٦، سنن دارمی رقم الحدیث : ٣٣٥٩، کتاب الاسماء والصفات جۃ ص ٣٧٢، جامع المسانید السنن مسند ابی سعید الخدری رقم الحدیث : ٧٠٠)

قرآن مجید کی آیات اور بہت احادیث میں دعا کرنے کی فضیلت ہے اور اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ قرآن اور ذکر میں مشغول رہنا دعا کرنے سے افضل ہے۔

اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ذکر کرنے پر ثواب کا وعدہ فرمایا ہے اور دعا کرنے پر قبولیت کا وعدہ فرمایا ہے اور ذکر اور دعا دونوں ہی اللہ تعالیٰ کی عبادت ہیں اور یہ بھی صحیح ہے کہ ذکر دعا ہے اور دعا ذکر ہے، کیونکہ جب جب کریم کی حمدوثناء کی جائے تو وہ دراصل اس سے اس کے کرم کا سوال ہوتا ہے اور جب کوئی شخص کسی کریم سے سوال کرتا ہے تو وہ اس سے اس کا تعریف و توصیف کے ساتھ ذکر کرتا ہے اور اللہ کا ذکر کرنے سے بندہ کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں، حدیث میں ہے :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے ایک دن میں سو مرتبہ ” سبحان اللہ وبحمدہ “ پڑھا اس کے تمام گناہ مٹادیئے جائیں گے، خواہ اس کے گناہ سمندر کے جھاگ سے زیادہ ہوں۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٤٠٥، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٦٩٩٩٩١، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٤٦٨، سنن ابودائود رقم الحدیث : ٥٠٩١، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٧٩٨)

” سبحان اللہ وبحمدہ “ اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے اور اس ذکر سے بندہ کے تمام گناہ مٹا دیئے جاتے ہیں اور دعا سے بھی یہی مقصود ہوتا ہے کہ اس کے گناہ معاف کردیئے جائیں، سو انسان اگر اللہ کا ذکر کرے اور اس میں مشغول ہونے کی وجہ سے دعا نہ کرسکے پھر بھی اس کا مقصود پورا ہوجاتا ہے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ تعالیٰ سے دعا بھی کی ہے اور اس کا ذکر بھی کیا ہے اور دونوں عظیم مقام ہیں اور ان میں باہم کسی ایک کو افضل کہنا بہت مشکل ہے، پس بندہ کو چاہیے کہ وہ اللہ کا ذکر بھی کرے اور اللہ سے دعا بھی کرے اور انشاء اللہ ان دونوں پر کیے ہوئے وعدہ کو پالے گا۔ اس حدیث میں قرآن کی مشغولیت کو ذکر کی مشغولیت پر مقدم رکھا ہے اور قرآن میں مشغول ہونا عام ہے، خواہ قرآن پڑھنے میں مشغول ہو یا قرآن میں تدبر کرنے اور اس کی تفسیر میں مشغول ہو۔ یہ ناکارہ ١٩٩٤ ء سے قرآن مجید کی تفسیر میں مشغول ہے، دنیا میں تو لالہل تعالیٰ نے بہت نعمتیں عطا فرمائی ہیں، اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے امید واثق ہے کہ وہ آخرت میں بھی محروم نہیں فرمائے گا، تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 40 غافر آیت نمبر 65