أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا رُسُلًا مِّنۡ قَبۡلِكَ مِنۡهُمۡ مَّنۡ قَصَصۡنَا عَلَيۡكَ وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ لَّمۡ نَقۡصُصۡ عَلَيۡكَؕ وَمَا كَانَ لِرَسُوۡلٍ اَنۡ يَّاۡتِىَ بِاٰيَةٍ اِلَّا بِاِذۡنِ اللّٰه‌ِۚ فَاِذَا جَآءَ اَمۡرُ اللّٰهِ قُضِىَ بِالۡحَقِّ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الۡمُبۡطِلُوۡنَ۞

ترجمہ:

بیشک ہم نے آپ سے پہلے بھی بہت رسول بھیجے، ہم نے ان میں سے بعض کے قصے آپ کے سامنے بیان کیے اور بعض کے قصے بیان نہیں کیے اور کسی رسول کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی معجزہ لے آئے، پھر جب اللہ کا حکم ہوگا تو حق کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا اور اس وقت باطل پرست نقصان اٹھانے والے ہوں گے ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

بے شک ہم نے آپ سے پہلے بھی بہت رسول بھیجے، ہم نے ان میں سے بعض کے قصے آپ کے سامنے بیان کیے اور بعض کے قصے بیان نہیں کیے اور کسی رسول کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی معجزہ لے آئے، پھر جب اللہ کا حکم ہوگا تو حق کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا اور اس وقت باطل پرست نقصان اٹھانے والے ہوں گے (المومن :78)

مشرکین کے فرمائشی معجزات عطا نہ کرنے کی وجہ

مشرکین میں سے جو آپ کی نبوت میں جدال اور بحث کرتے تھے وہ آپ سے فرمائشی معجزات طلب کرتے تھے مثلاً آپ چشمے جاری کردیں یا انگوروں اور دیگر پھلوں کے باغ کھلادیں یا آسمانوں پر چڑھ جائیں وغیرہ وغیرہ، اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ سے پہلے جتنے نبی بھیجے ہیں خواہ ان کا قصہ آپ سے بیان کیا ہے یا نہیں، سب نبیوں کو اتنے ہی معجزات عطا کیے ہیں جتنے معجزات ان کی نبوت اور سالت کو ثابت کرنے کے لیے کافی تھے اور کسی نبی کو اس کی کافر قوم کے فرمائشی معجزات عطا نہیں کیے اور نہ کسی نبی کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر از خود کوئی معجزہ پیش کردے۔

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علم کلی اور علم ماکان ومایکون پر ایک اعتراض کا جواب

اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ ہم نے بہت رسول بھیجے ہیں اور بعض کے قصے آپ سے بیان کیے ہیں اور بعض کے قصے بیان نہیں کیے، بعض علماء اس آیت سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ یہ آیت اس باب میں نص قطعی ہے کہ آپ کو کل رسولوں کا عم نہیں تھا، تو آپ کے حق میں علم کلی کا یا علم ماکان وما یکون کا دعویٰ کرنا کس طرح صحیح ہوسکتا ہے ؟ اس سے یہ کب لازم آتا ہے کہ اس کے بعد مستقبل میں بھی اللہ تعالیٰ نے آپ سے باقی رسولوں کے قصے بیان نہیں کیے، جب کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے :

کلا نقص علیک من انباء الرسل۔ (ھود :120) ہم آپ کے سامنے تمام رسولوں کی خبریں بیان کررہے ہیں۔

پس زمانہ ماضی میں آپ کو بعض رسولوں کی خبریں نہیں بیان فرمائیں اور مستقبل میں آپ کو تمام رسولوں کی خبریں بیان فرمادیں، سو المومن : ٧٨ آپ کے علم کلی یا علم ماکان وما یکون کے منافی نہیں ہے جب کہ ھود : ١٢٠ میں تمام رسولوں کے علم کا اثبات ہے۔

اور صحابہ کرام کو بھی اس پر اعتماد تھا کہ آپ کو تمام رسولوں کا علم ہے، اس لیے وہ آپ سے پوچھتے تھے کہ نبیوں اور رسولوں کی تعداد کتنی ہے جیسا کہ درج ذیل حدیث سے ظاہر ہوتا ہے۔

نبیوں، رسولوں، کتابوں اور صحیفوں کی تعداد کی تحقیق

امام ابو نعیم اصبہانی نے اپنی سند کے ساتھ ایک بہت طویل حدیث روایت کی ہے، اس موضوع سے متعلق اس روایت کا درمیانی حصہ ہم پیش کررہے ہیں :

حضرت ابوذر (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! انبیاء کتنے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : ایک لاکھ چوبیس ہزار، میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! رسول کتنے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : تین سو تیرہ جم غفیر ہیں، میں نے کہا : بہت اچھے ہیں، میں نے کہا : یارسول اللہ ! پہلا نبی کون ہے ؟ آپ نے فرمایا : آدم، میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! کیا وہ نبی مرسل ہیں ؟ آپ نے فرمایا : ہاں ! اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور ان میں اپنی پسندیدہ روح پھونکی، پھر ان کو اپنے سامنے بنایا، پھر آپ نے فرمایا : اے ابوذر ! چار نبی سریانی ہیں : آدم، شیث اور خنوخ، یہ ادریس ہیں جنہوں نے سب سے پہلے قلم سے خط کھینچا اور نوح اور چار نبی عرب ہیں : ھود، صالح، شعیب اور تمہارے نبی، اے ابوذر ! میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! اللہ تعالیٰ نے کتنی کتابیں نازل کیں، آپ نے فرمایا : سو صحیفے اور چار کتابیں، شیث پر پچاس صحیفے نازل کیے گئے، خنوخ پر تیس صحیفے نازل کیے گئے، ابراہیم پر دس صحیفے نازل کیے گئے اور موسیٰ پر تورات سے پہلے دس صحیفے نازل کیے گئے اور تورات، انجیل، زبور اور فرقان کو نازل کیا گیا۔ (حلیۃ الاولیاء ج ١ ص ١٦٧، مطبوعہ دارالکتاب العربی، بیروت، ١٤٠٧ ھ)

اس حدیث کو امام ابن حبان نے بھی اپنی صحیح میں حضرت ابوذر (رض) سے روایت کیا ہے۔ (مواردالظلمآن ص ٥٤۔ ٥٢، مطبوعہ دارالکتاب العلمیہ، بیروت)

امام احمد نے بھی دو سندوں سے اس حدیث کو حضرت ابوذر سے روایت کیا ہے، مگر اس میں تین سو پندرہ رسولوں کا ذکر ہے۔ (مسند احمد ج ٥ ص ٢٦٦، ١٧٩، مطبوعہ مکتب اسلامی، بیروت، ١٣٩٨ ھ، طبع قدیم)

(مسند احمد ج ٣٥ ص ٤٣٨۔ ٤٣٥، رقم الحدیث : ٢١٥٥٠، مسند احمد ج ٣٦ ص ٦١٩۔ ٦١٨، رقم الحدیث : ٢٢٢٨٨، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت ١٤٢١ ھ اس حدیث کے رجال ثقہ ہیں، سنن ابودائود رقم الحدیث : ٥٠٧، المستدرک ج ٢ ص ٢٧٤، صحیح ابن خزیمہ رقم الحدیث : ٣٨١، مشکل الاثار للطی دی رقم الحدیث ٤٧٨، السنن الکبریٰ ج ١ ص ٣٩١۔ ٤٢٠، ج ٢ ص ٢٩٦، ج ٣ ص ٢٠٠، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٥٩١، المعجم الکبیر ج ٢٠ رقم الحدیث : ٢٦٩۔ ٢٦٧، مصنف ابن ابی شیبہ ج ١ ص ٢٠٤، مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ١٧٨٨)

امام ابن عساکر نے بھی اس حدیث کو حضرت ابوذر (رض) سے روایت کیا ہے۔

(تہذیب تاریخ دمشق ج ٢ ص ٣٥٧۔ ٣٥٦، مطبوعہ داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤٠٧ ھ)

حافظ الہیثمی نے بھی امام احمد اور امام طبرانی کے حوالوں سے تین سو پندرہ رسولوں کا ذکر کیا ہے اور اس حدیث کو ضعیف لکھا ہے۔ (مجمع الزوائد ج ١ ص ١٥٩، مطبوعہ دارالکتاب العربی، بیروت، ١٤٠٢ ھ)

حافظ سیوطی نے الجامع الکبیر میں اس حدیث کو امام ابن حبان، امام اصبہانی اور امام ابن عساکر کے حوالوں سے لکھا ہے اور اس میں تین سو تیرہ رسولوں کا ذکر ہے۔ (جامع الاحادیث الکبیر ج ١٧ ص ٢٠٦۔ ٢٠٤، مطبوعہ دارالفکر، بیروت، ١٤١٤ ھ، جمع الجوامع ج ١٥ ص ٥٤٦۔ ٥٤٤، رقم الحدیث : ٥٠٧٦)

علامہ علی متقی نے بھی اس حدیث کا حافظ سیوطی کے حوالوں سے ذکر کیا ہے۔

(کنزالعمال ج ١٦ ص ١٣٤۔ ١٣٣، مطبوعہ مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت، ١٤٠٥ ھ)

حافظ سیوطی نے الدرامنثور میں لکھا ہے : امام عبدبن حمید، امام حکیم ترمذی نے نوادر الاصول میں، امام ابن حبان نے اپنی صحیح میں، امام حاکم اور امام ابن عساکر نے حضرت ابوذر (رض) سے روایت کیا ہے، میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! انبیاء کتنے تھے ؟ فرمایا : ایک لاکھ اور چوبیس ہزار نبی تھے، میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! ان میں سے رسول کتنے تھے ؟ فرمایا : تین سو تیرہ جم غفیر تھا، اس حدیث کو امام ابن حبان نے اپنی صحیح میں وارد کیا ہے اور امام ابن الجوزی نے موضوعات میں وارد کیا ہے اور یہ دونوں متضاد ہیں اور صحیح بات یہ ہے : یہ حدیث ضعیف ہے، نہ موضوع ہے نہ صحیح ہے، جیسا کہ میں نے مختصر الموضوعات میں بیان کیا ہے۔ (الدرالمنثور ج ٢ ص ٢٤٦، مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ العظمی ایران، الدرالمنثور ج ٢ ص ٦٩١، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤٢١ ھ)

امام ابویعلیٰ روایت کرتے ہیں :

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے آٹھ ہزار نبی مبعوث کیے۔ چار ہزار بنواسرائیل کی طرف اور چار ہزار باقی لوگوں کی طرف۔ (مسند ابویعلیٰ ج ٤ ص ١٥٧، مطبوعہ دارالمامون تراث، بیروت، ١٤٠٤ ھ)

امام حاکم نے اس حدیث کو حضرت انس سے موقوفاً روایت کیا ہے۔ (المستدرک ج ٢ ص ٥٩٧، مطبوعہ درارالباز، مکہ مکرمہ)

امام ابویعلیٰ اور امام حاکم نے جن سندوں سے اس حدیث کو روایت کیا ہے ان میں ابراہیم اور یزید رقاشی نام کے دو راوی ہیں۔ امام ذہبی نے ان دونوں کے متعلق لکھا ہے کہ یہ ضعیف راوی ہیں۔ (تلخیص المستدرک ج ٢ ص ٥٩٧، مطبوعہ دارالباز، مکہ مکرمہ)

علامہ بدرالدین عینی نے امام ابن حبان کی صحیح اور امام ابن مردویہ کی تفسیر کے حوالوں سے حضرت ابوذر کی حدیث ذکر کی ہے اور امام ابویعلیٰ اور حافظ ابوبکر اسماعیل کے حوالوں سے حضرت انس کی روایت ذکر کی ہے اور کوئی محاکمہ نہیں کیا۔ (عمدۃ القاری ج ١٥ ص ٢٠٤، مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ ” مصر “ ١٣٤٨ ھ)

حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں :

حضرت ابوذر نے مرفوعاً بیان کیا ہے کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی ہیں اور ان میں سے تین سو تیرہ رسول ہیں، اس حدیث کو امام ابن حبان نے صحیح قرار دیا ہے۔ (فتح الباری ج ٦ ص ٣٦١، مطبوعہ دارانشر الکتب الاسلامیہ، لاہور، ١٤٠١ ھ)

حافظ ابن حجر نے امام ابویعلیٰ اور امام حاکم کی روایت کا ذکر نہیں کیا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ روایت ان کے نزدیک ایک معبتر نہیں ہے اور امام ذہبی نے اس کے راویوں کی جو تضعیف کی ہے اس سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے اور انہوں نے امام ابن حبان کی تصحیح کو بلاتبصرہ نقل کیا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایت ان کے نزدیک صحیح ہے اور حدیث کی تحقیق کے سلسلہ میں حافظ ابن حجر عسقلانی بہت معتمد ہیں، اس لیے یہی صحیح ہے کہ انبیاء کی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار ہے اور ان میں سے تین سو تیرہ رسول ہیں۔

علامہ تفتازانی نے لکھا ہے کہ ایک روایت میں ہے کہ دو لاکھ چوبیس ہزار انبیاء ہیں۔ (شرح عقائد ص ٩٧، مطبوعہ محمد سعید اینڈ سنز، کراچی)

علامہ پر ہاروی نے لکھا ہے کہ میرا گمان ہے کہ حافظ سیوطی نے کہا ہے کہ میں اس روایت سے واقف نہیں ہوں۔ (نبر اس ص ٤٤٧، مطبوعہ مکتبہ قادریہ، لاہور، ١٣٩٧ ھ)

میں نے اس سلسلہ میں تمام متداول کتب حدیث اور علماء کی تصانیف کو دیکھا ہے لیکن دو لاکھ کی روایت کہیں نہیں ملی، حافظ ابن کثیر اور حافظ سیوطی نے اس سلسلہ میں تمام روایات کو جمع کیا ہے، لیکن دو لاکھ کی روایت ان میں نہیں ہے اور حافظ ابن کثیر اور حافظ سیوطی کے مقابلہ میں علم روایت حدیث پر علامہ تفتازانی کی نظر بہت کم ہے، لی کہ علامہ تفازانی نے کئی ایسی احادیث ذکر کی ہیں جن کا کوئی وجود نہیں مثلاً یہ حدیث ” جس نے اپنے زمانہ کے امام کو نہیں پہچانا وہ جاہلیت کی موت مرا “۔ (شرح عقائد ص ١٠٦، شرح مقاصد ج ٥ ص ٢٣٩)

حافظ ابن کثیر نے ان تمام احادیث کو تفصیل اور سندوں کے ساتھ لکھا ہے جن کے ہم نے حوالے دیئے ہیں اور ان سب کو ضعیف قرار دیا ہے، پھر اس کے آخر میں انہوں نے لکھا ہے کہ امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے حضرت ابو سعید سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں ہزار یا اس سے زیادہ نبیوں کا خاتم ہوں، امام احمد کی یہ سند زیادہ صحیح ہے اور اس حدیث کو امام بزار نے بھی حضرت جابر (رض) سے روایت کیا ہے۔ (تفسیر ابن کثیر ج ١ ص ٦٦٤، دارالفکر، بیروت، ١٤١٩ ھ، تفسیر ابن کثیر ج ٢ ص ٤٥٤، مطبوعہ ادارہ اندلس، بیروت، ١٣٨٥ ھ)

ہر چند کو حافظ ابن کثیر کی تحقیق یہی ہے لیکن زیادہ تر محدثین کا اعتماد حضرت ابوذر کی اس روایت پر ہے کہ انبیاء کی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار ہے اور ان میں سے تین سو تیرہ رسول ہیں۔

جن نبیوں کا قرآن مجید میں صراحتاً نام ہے اور جن کا اشارتاً نام ہے

بہرحال اس پر ایمان لانا واجب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس قدر بھی رسول بھیجے وہ سب صادق اور برحق ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کو جو پیغام دے کر بھیجا وہ صحیح اور صادق ہے، اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسے معجزات دے کر بھیجا جو ان کے صدق پر دلالت کرتے تھے، پہلے نبی حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں اور آخری نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں اور باقی انبیاء پر اس طرح ایمان ہوگا کہ ان کی شریعت ان کے زمانہ میں نافذالعمل تھی اور اب ان کی شریعت منسوخ ہوچکی ہے اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر یہ ایمان لانا ضروری ہے کہ آپ خاتم الانبیاء والرسل ہیں اور جو شخص آپ کے رسول ہونے پر ایمان لایا اور آپ کے خاتم الرسل ہونے پر ایمان نہیں لایا وہ مومن نہیں ہوگا۔

قرآن مجید میں اٹھائس (٢٨) انبیاء (علیہم السلام) کے نام مذکور ہیں : (١) حضرت آدم (٢) حضرت نوح (٣) حضرت ادریس (٤) حضرت صالح (٥) حضرت ہود (٦) حضرت ابراہیم (٧) حضرت اسماعیل (٨) حضرت اسحاق (٩) حضرت یعقوب (١٠) حضرت یوسف (١١) حضرت لوط (١٢) حضرت موسیٰ (١٣) حضرت ہارون (١٤) حضرت شعیب (١٥) حضرت زکریا (١٦) حضرت یحییٰ (١٧) حضرت عیسیٰ (١٨) حضرت دائود (١٩) حضرت سلیمان (٢٠) حضرت الیاس (٢١) حضرت الیسع (٢٢) حضرت ذوالکفل (٢٣) حضرت ایوب (٢٤) حضرت یونس (٢٥) حضرت محمد علیہم الصلوٰۃ والسلام، ان کے علاوہ تین ناموں کا اور ذکر ہے : ذوالقرنین، عزیر اور لقمان لیکن ان کی نبوت میں اختلاف ہے، بعض نبیوں کا قرآن مجید میں اشارۃً ذکر ہے، ” وقال لھم نبیھم “ (البقرہ : 247) اس میں الشمویل کی طرف اشارہ ہے، ” اوکالذی مرعلی قریۃ “ (البقرہ : 259) اس میں ارمیاہ کی طرف اشارہ ہے، ” واذقال موسیٰ لفسہ “ (الکہف : 160) اس میں حضرت یوشع کی طرف اشارہ ہے، ” فواجدا عبدا من عبادنا “ (الکہف :65) میں حضرت خضر کی طرف اشارہ ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 40 غافر آیت نمبر 78