عنوان:🌴 دور حاضر میں الحادی فکر کی کارستانیاں

تحریر:🌻 پروفیسر مسعود اختر ہزاروی

اشاعت:🌺 روزنامہ اوصاف کے تمام ایڈیشنز کے ادارتی

صفحہ1 پر ۔۔۔۔ ☘ جمعة المبارک، 18 جون 2021

 

آج کے سائنسی و تحقیقی د ور میں انٹرنیٹ زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے۔ اس کے ذریعے جہاں بے شمار تحقیقی کام ہوئے اور شعور انسانی کو جلا ملی وہاں اس کے ذریعے الحاد اور لادینیت کی شورشیں بھی عروج پرہیں۔اشکالات اور وساوس پیدا کرکے اسلام کے خلاف جھوٹا پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے۔ مسلمانوں کو شکوک و شبہات میں مبتلا کر کے اسلام بیزار کرنے کی بھرپور کوششیں ہو رہی ہیں۔ ویسے تو سوشل میڈیا کے کئی’’ پلیٹ فارمز ‘‘الحادی افکار کو عام کرنے کے مکروہ دھندوں کیلئے استعمال کیے جا رہے ہیں لیکن ’’فیس بک‘‘ ان میں سے سب سے زیادہ استعمال ہورہی ہے۔ فیس بک کا آغاز معاشرے میں ایک دوسرے کو جاننے پہچاننے والوں کے انٹر نیٹ کے ذریعے آسان رابطوں کیلئے ہوا تھا تاکہ لوگ اپنے خاندان اور دوست احباب کے ساتھ اپنے ذاتی معاملات، تصاویر اور وڈیوز شیئر کرلیا کریں۔ لیکن معاشرے میں جس طرح کے لوگوں کے رجحانات، مقاصد اور نظریات ہوتے ہیں اسی طرح ان پلیٹ فارمز کو زیر استعمال لاتے ہیں۔ اسلام دشمنی کوئی نئی بات نہیں بلکہ روز اول سے لیکر آج تک مختلف ادوار میں نئے نئے انداز میں سر اٹھاتی رہی اور کچلی بھی جاتی رہی۔ چند سالوں سے فیس بک کو اسلام اور پاکستان کے خلاف استعمال کیا جارہا ہے۔ یہ شاخسانہ ان طاقتوں کا ہے کہ جنہیں پاکستان کی ترقی و بقا ایک آنکھ بھاتی ہے اور نہ اسلام کا دنیا بھر کے معاشروں میں بڑھتا ہوا اثر و رسوخ اور پرچار راس آتا ہے۔ چونکہ پاکستان کی قومی زبان اردو ہے اور دنیا بھر میں مقیم پاکستانی اچھی طرح اس زبان کو بولتے اور سمجھتے ہیں۔ اس لئے اس نظریاتی جنگ میں زیادہ تر اردو زبان میں اکانٹس، پیجزاور گروپس تشکیل دئے جاتے ہیں۔ ان کی بنیاد نظریہ الحاد اور اسلام دشمنی ہوتی ہے۔ طریقہ واردات یہ ہے کہ اسلامی نام کی آئی ڈیز بنا کر عام لوگوں اور خصوصا مسلمانوں کو فرینڈ لسٹ میں شامل کیا جاتا ہے۔ بعد ازاں انہیں مختلف گروپس میں بلا اجازت ایڈ کرلیاجاتا ہے۔ یہ وہ گروپس ہوتے ہیں جو بد نیتی کی بنا پر بنائے جاتے ہیں اورہمہ وقت اسلام کی مقدس تعلیمات کے خلاف بھیانک اور زہریلا پراپیگنڈہ کرتے ہیں۔ اسلام کے بنیادی عقائد کو ہدف تنقید بنا کر ان پر جارحانہ حملے کیے جاتے ہیں تاکہ لوگوں کواسلامی تعلیمات سے کنفیوز، متزلزل کر کے جذباتی کیا جاسکے۔ اس کے نتیجے میں مسلمان نوجوان اسلامی غیرت و حمیت کے ساتھ ان کی بے ہودہ حرکات پر سیخ پا ہوکر سخت اور تلخ لہجے میں رد عمل ظاہر کرتے ہیں۔ کبھی کبھار بات گالی گلوچ تک بھی پہنچ جاتی ہے۔ ان پوسٹس کو یہ لوگ مختلف فورمز اور پیجز پر چسپاں کرتے ہیں۔ لوگوں کو بتاتے ہیں کہ یہ مذہبی جنونی مسلمان ہیں۔ دلچسب بات یہ ہے کہ جن کمنٹس میں علمی و فکری مواد ہو اور ان کی بیہودگی کا مکمل جواب ہو ان پوسٹس کو Delete کر دیتے ہیں جبکہ گالی گلوچ والے کمنٹس برقرار رکھ کر اپنے مضموم مقاصد پورے کرتے ہیں۔ اس حوالے سے گزارش ہے کہ یہ مکروہ دھندہ کرنے والے ساری پوسٹس ایک ناپاک ایجنڈے کے تحت لگاتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ رد عمل میں گالیاں لکھنے کی بجائے نظر انداز کرتے ہوئے بلاک کرتے جائیں تاکہ آئندہ وہ پوسٹس نظر سے بھی نہ گزریں۔ ان سے انتقام کا یہ بہترین طریقہ ہے کیونکہ جب ان کی پوسٹس پر کوئی کمنٹس نہیں کرے گا تو یہ پوسٹس خود بخود زیرو ہو جائیں گی۔اگر ان ملحدین کے اعتراضات علمی و فکری ہوتے اور نیک نیتی کے ساتھ تلاش حق مقصود ہوتا تو ان کے سوالوں کے جوابات دینا مسلمانوں کی اخلاقی ذمہ داری بنتی تھی۔ ہردور میں مستشرقین اور ملحدین کی طرف سے اسلام پر اٹھنے والے اعتراضات اور سوالات کے جوابات اہل علم نے دیے اور قیامت تک دیتے رہیں گے۔ حضور ضیاء الامت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری رحمة اللہ علیہ نے اپنی سیرت کی کتاب “ضیاء البنی صلی اللہ علیہ والہ و سلم ” کی ایک پوری جلد صرف مستشرقین کے سوالوں کے جوابات پر لکھی ہے۔ لیکن سوشل میڈیا پر ان ملحدین کے طریقہ کار سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان کا مقصد تخریب کاری اور اسلام دشمنی کے سوا کچھ بھی نہیں۔ کیونکہ جو بھی علمی و فکری جواب ان کو دیا جاتا ہے اس کو فورا ڈیلیٹ کر دیتے ہیں۔ دوسری بات یہ کہ جواب دینا اہل علم کا کام ہے اورعام آدمی اس میں الجھ کے پریشان اور کنفیوز ہوگا۔ یاد رہے کہ ان ملحدین کی قابل مذمت کاروائیوں کے ذریعے (نعوذ باﷲ من ذلک)ذات باری تعالی کا انکارکیا جاتا ہے۔ ہمارے آقا ومولی محمدﷺ کی ذات اقدس پر بہتان تراشی کی جاتی ہے۔ اسلام کو دہشت گرد مذہب ثابت کرنے کی ناکام کوشش ہوتی ہے۔ قرآن پاک کے بارے میں گھٹیا اور لغوزبان استعمال کی جاتی ہے۔ اسلامی تاریخ کے جھروکوں سے مختلف واقعات کو مسخ کرکے پیش کرتے ہیں اور مسلمانوں کو برا ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اسی طرح پاکستان کے خلاف زہر اگل کر اسے جنونیوں کی آماج گاہ تک کہا جاتا ہے۔ یہ الحادی فورمز افواج پاکستان کے خلاف جھوٹے پراپیگنڈے کرتے ہیں۔ ان تمام مکروہ اور بھیانک دھندوں کا مقصد اسلام کو بدنام کرنا اور مسلمانوں کے دلوں سے حب الہی، عشق رسول ﷺ اور حب الوطنی کو کھرچ کر نکالنا اور افواج پاکستان سے بد دل کرنا ہے۔۔ ایک منصوبے کے تحت اپنے آپ کو سابق مسلمان ظاہر کرتے ہیں اور لوگوں کو بتاتے ہیں کہ تحقیق کے بعد ہم مرتد ہوئے ہیں۔ یہ بھی فقط ان کے پھیلائے ہوئے جالوں میں سے ایک جال ہے۔ اسی طرح مختلف مسالک کی اہم شخصیات کی تصویریں چسپاں کر کے پیجز اور فورمز بناتے ہیں۔ دوسرے مسلک کے لوگوں کے بارے میں نفرت آمیز لٹریچرز اور پوسٹس لگا کر تکفیری مہم شروع کردیتے ہیں۔ اس طرح مسلمانوں کو آپس میں باہم دست و گریباں کر کے اپنے مذموم مقاصد پورے کرتے اور ہماری سادگی اور غفلت پر ہنستے ہیں۔ کچھ لوگوں کوگمنام جعلی پیر کا روپ دے کر ان کی غیر اسلامی حرکات پر مشتمل وڈیوز تیار کر کے سوشل میڈیا پر پھیلا دی جاتی ہیں تاکہ حقیقی تصوف اسلامی کو بد نام کیا جا سکے۔ ہم اپنی سادہ لوحی کی وجہ سے یا جانتے بوجتے ہوئے بھی انہیں موضوع بحث بنا کر اپنی توانائیاں ایک دوسرے پر طعن و تشنیع میں صرف کرتے رہتے ہیں۔اس وقت اہل اسلام خصوصا علمائے ملت اسلامیہ کو بیدار مغز ہونے کی ضرورت ہے۔ایسے دگر گوں حالات میں کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرنے سے طوفان ٹل نہیں جایا کرتے۔ موجودہ دور کے تقاضوں کو سمجھنا اور پیش آمدہ مسائل سے نبرد آزما ہونا ان کی منصبی ذمہ داری ہے۔ جس طرح امام غزالی رح نے اپنے دور کے فتنہ الحاد کو ’’تحافۃ الفلاسفہ‘‘ لکھ کر دفن کیا تھا۔ آج پھر اسی نہج پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ یاد رہے کہ آج کا فتنہ الحاد پہلے سے بھی خطرناک اور نقصان دہ ہے۔ کیونکہ اس دور کے الحادیوں کے پاس ایسی سائینس اور سوشل میڈیا نہ تھا کہ اپنے نظریات کو پھیلا سکیں جیسا کہ آج پھیلایا جارہا ہے۔ البتہ یہ خبر قابل ستائش ہے پاکستانی حکام بالا کی کوششوں سے ان الحادیوں کی خاصی ویب سائیٹس اور فیس بک اکاؤنٹس ختم کیے جاچکے ہیں ۔ لیکن پھر بھی معاشرے میں ہر سطح پر اس فتنے کا مقابلہ کرنے کیلئے ہمیں اپنا اپنا کردار ادا کرنے کی اشد ضرورت ہے.