اللہ تعالیٰ نے حق حضرت عمر ؓ کی زبان اور دل پر رکھاہے

ازقلم: اسد الطحاوی الحنفی

امام احمد اپنی مسند میں ایک روایت لاتے ہیں :

حدثنا عبد الملك بن عمرو، حدثنا نافع بن أبي نعيم، عن نافع، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ” إن الله تعالى جعل الحق على لسان عمر وقلبه

صحابی رسولﷺ حضرت ابن عمر فرماتے ہیں :

نبی اکرمﷺ نے فرمایا : اللہ نے حق عمر کی زبان اور دل پر رکھا ہے ۔

[مسند احمد برقم : 5145]

یعنی جس طرح شیعہ راویان سے روایت ہے اہلسنت کی کتب حدیث میں کے جدھر علی ہونگے ادھر حق ہوگا ۔۔ اوررافضی راویان سے مروی ہے جدھر قرآن ہوگا حضرت علی بھی ادھرہونگے ۔

اس فضیلت میں مولا علیؓ منفرد نہیں بلکہ یہ جزوی فضیلت میں حضرت عمر بن خطابؓ بھی شامل ہیں

اور قرآن میں متعدد مقامات پر آیات فقط حضرت عمرؓ کی وجہ سے نازل ہوئی ہیں

جیسا کہ پردے کا حکم بھی حضرت عمر بن خطابؓ کی خواہش کی وجہ سے نازل ہوا تھاکیونکہ حضرت عمر بن خطابؓ غیرت مند مومن تھے

اور شریعت پر بہت سختی برتتے تھے یہی وجہ ہے کہ آپکی جلالت و شان کی وجہ سے شیطان بھی رستہ بدل جانے پر مجبورہو جاتا

یہ روایت مشہور ہے اور کثیر الاسناد ہے اسکو متعدد صحابہ کرام نے بیان کیا ہے

جیسا کہ

حضرت بلال

حضرت ابی ھریرہ

حضرت ابو زر غٖفاری

اور

حضرت عائشہ وغیرہم سے مروی ہے

سند کے رجال کا مختصر تعارف!

1۔پہلا راوی : أبو عامر عبد الملك بن عمرو القيسي

امام ذھبی انکے بارے فرماتے ہیں :

الإمام، الحافظ، محدث البصرة،

وكان من مشايخ الإسلام، وثقات النقلة.

ذكره النسائي، فقال: ثقة، مأمون.

[سیر اعلام النبلاء برقم: 173]

2۔دوسرے راوی : نافع بن أبي نعيم أبو رويم الأصبهاني

امام ذھبی انکے بارے لکھتے ہیں :

وثقه: ابن معين.

وقال أبو حاتم: صدوق.

وقال النسائي: ليس به بأس.

ولينه: أحمد بن حنبل

[سیراعلام النبلاء برقم : 121]

3۔تیسرا راوی تابعی امام نافع متفقہ علیہ ثقہ ہیں

4۔ چوتھے راوی : حضرت عبداللہ بن عمر بن خطابؓ صحابی رسولﷺ ہیں ۔۔

اس روایت پر علامہ شعیب فرماتے ہیں :

حديث صحيح، وهذا إسناد جيد، رجاله ثقات رجال الشيخين غير نافع بن أبي نعيم، فقد روى له ابن ماجه في “التفسير”، وهو صدوق.

[مسند احمد ایضا]

دعاگو: اسد الطحاوی الحنفی البریلوی