فی زمانہ ہم جس بے لگام سوشل میڈیائی دور سے گزر رہے ہیں آج کل کرامتیں بیان کرنے میں تھوڑا سا پرہیز کرنا چاہیے..

پھر ہمارے اپنوں کی طرف سے ہی سوال ہوتا ہے کیا کرامت برحق نہیں؟

کیوں نہیں!

عرض یہ ہے بالکل کرامت برحق ہے، بلکہ اللہ تعالی قرآن کریم میں بھی اولیاء اللہ کی کرامات بیان کرتا ہے…

حضرت مریم علیہا السلام کے پاس بند کمرہ میں بے موسم پھل آیا کرتے تھے جبکہ وہاں لانے والا کوئی نہ ہوتا تھا… سورہ آل عمران

آصف بن برخیا نے پلک جھپکنے سے پہلے تخت بلقیس کو لا کر حضرت سلیمان علیہ السلام کے دربار میں پیش کردیا:…. سورہ نمل

اسی طرح اصحاب کہف کا واقعہ بھی کراماتِ اولیاء اللہ کی ایک بہترین مثال ہے…. سورۃ کہف پڑھیے

مگر کرامت سنائی جاتی ہے اہل محبت کی محبت میں اضافہ کرنے کے لیے….

یا پھر اللہ والے کرامت دکھایا کرتے تھے کسی کو دینِ اسلام کے قریب لانے کے لیے

لیکن یہ بات ضرور ذہن میں رہے کہ شعبدہ بازی اور کرامت میں فرق کرنا بھی ضروری ہے….

میرے نزدیک اس کی ایک چھوٹی سی پہچان یہ بھی ہے؛ اگر کرامت دکھانے والا اللہ کے قریب کررہا ہے تو کرامت ہے؛ اگر شخصیّت کا لوہا منوانے کے لئے کر رہا ہے تو شعبدہ بازی ہے…

اپنے مقصد کی طرف واپس پلٹتا ہوں

آپ نے کسی کی کرامت کو بڑے خوبصورت انداز میں بیان کر دیا،اور آپ کی ویڈیو ریکارڈنگ تیار ہو کر مارکیٹ میں آ گئی.

پھر چند محبین

کثیر منافقین

حاسدین

ناقدین

شیاطین

اسلام دشمن

سب کے پاس وڈیو پہنچ جاتی ہے

پھر وہاں سے سفر شروع ہوتا ہے، سیاق سباق کے بغیر؛ایڈیٹ شدہ مواد کا…

تبصرے شروع ! دیکھا کہ مولویوں نے قرآن کو چھوڑا حدیث کو چھوڑا صرف قصے کہانیاں بیان کرتے ہیں؛ کہاں سے پڑھ لیتے ہیں ..

اور یہ حقیقت بھی ہے کہ بعض قصہ گو مولوی ایسی ایسی باتیں بیان کرتے ہیں کہ وہ کسی کتاب میں تو کم از کم نظر سے نہیں گزری ہوتیں..

میرے بھائی محتاط ہو کر قرآن و حدیث کو بیان کیا جائے فی زمانہ یہی سب سے بہترین اور معقول رستہ ہے….

کیونکہ بہت سے ناقدین؛ شیاطین؛ اسلام دشمن بھی جب قرآن کی بات آجاتی ہے تو زبان درازی کرنے میں احتیاط کرتے ہیں….

اسی طرح جیسے

میرا والد سارے جہاں کا والد نہیں ہے، میرے لئے جنت کی چوکھٹ ہے؛ مگر کسی کا چھوٹا بھائی؛ کسی کا دوست اور حاسد کی نظر نہ جانے کیا گھٹیا تصویر ہو…

اسی طرح میرا پیر میرے لئے قابل عزت ہے،جنت کی طرف جانے کے لیے ہدایت کا سامان، لیکن یہ ضروری نہیں کہ ہم پورے جہان کو ان کی عزت کرنے پر مجبور کریں…

اس لیے قرآن و حدیث کو بیان کریں، اور اپنے لیے بزرگان دین کو ہدایت کا ذریعہ سمجھیں، لوگوں کو بزرگان دین کی طرف بلانا ہے تو قرآن کے نقطہ نظر، قرآنی فکر و دعوت کے ذریعے بلائیں….

تحریر :- محمد یعقوب نقشبندی