مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما

متحد ہو تو بدل ڈالو زمانے کا نظام

سوال:کیا بر صغیر کے تمام برادران اہل سنت وجماعت تمام مشائخ اہل سنت اور تمام علمائے اہل سنت سے اپنی عقیدت ومحبت ختم کر دیں اور صرف امام احمد رضا سے عقیدت ومحبت رکھیں اور صبح وشام رضا رضا کرتے رہیں؟

جواب:امام احمد رضا قادری سے بھی محبت کرنی ہے اور حسب موقع ان کا ذکر خیر کرنا ہے۔اسی طرح جو مشائخ طریقت اور علمائے اہل سنت وجماعت امام احمد رضا کے ہم عقیدہ ہیں,ان تمام سے دینی محبت رکھنی ہے اور حسب ضرورت ان کا ذکر خیر کرنا ہے۔

صدر العلما حضرت علامہ محمد احمد مصباحی (ناظم تعلیمات:جامعہ اشرفیہ۔مبارکپور)نے ماضی قریب کے علمائے اہل سنت کا تذکرہ اپنی عربی تصنیف”حدوث الفتن وجہاد اعیان السنن”میں رقم فرمایا ہے۔ادیب شہیر حضرت علامہ یسین اختر مصباحی(دہلی)نے ماضی قریب کے اسلاف اہل سنت کے تذکرہ کا بہت وسیع تحریری سلسلہ شروع کیاہے۔

رئیس العلما حضرت علامہ عبد الحکیم شرف قادری لاہوری نے “تذکرہ علمائے اہل سنت”میں,نیز مؤرخ شہیر حضرت مولانا محمود احمد رفاقتی کانپوری نے اپنی تصنیف”تذکرہ علمائے اہل سنت”میں بہت سے علما ومشائخ کا ذکر فرمایا ہے۔(علیہما الرحمۃ ولرضوان)دعوت اسلامی نے ماضی قریب کے بہت سے علما ومشائخ کے ذکر پر مشتمل مختصر رسائل شائع کئے ہیں۔

علمائے اہل سنت وجماعت نے بہت سے علمائے شریعت ومشائخ طریقت کی سیرت وسوانح رقم فرمائی ہے۔ان سب کی فہرست اور کتابوں کا مختصر تعارف منظر عام پر لانا ضروری ہے,تاکہ غلط فہمیاں دور ہوں۔

امام احمد رضا سے منسلک ہونے کا مفہوم

برادران اہل سنت وجماعت کو امام احمد رضا قادری سے منسلک کرنے کی ضرورت ہے,تاکہ وہ صراط مستقیم پر قائم ومستحکم رہیں۔

حضرت علامہ فضل حق خیر آبادی(1797-1861)سے لے کر عہد حاضر کے اکابر علمائے اہل سنت وجماعت تک دیکھیں تو کسی کی علمی میراث میں اس قدر علمی ذخیرہ نہیں کہ عہد حاضر کے تمام اعتقادی فتنوں کا تفصیلی جواب اس میں دستیاب ہو سکے۔

فتنۂ وہابیت کے بالمقابل اہل سنت وجماعت کے قائد اول حضرت علامہ فضل حق خیرآبادی قدس سرہ العزیز ہیں۔اس موضوع پر ان کی تصانیف تحقیق الفتوی,امتناع النظیر اور تقریر اعتراضات بر تقویۃالایمان بہت مشہور ہیں۔

رد وہابیہ کے موضوع پر حضرت علامہ فضل رسول بدایونی قدس سرہ العزیز(1798- 1872)کی بہت سی تصانیف ہیں۔اکثر تصانیف مطبوع اور مشہور ومعروف ہیں۔

ان دونوں بزرگوں کے معاصر علمائے اہل سنت اور ان کے تلامذہ کی بھی بہت سی کتابیں رد بدمذہبیت پر ہیں,لیکن اس عہد کے علمائے اہل سنت وجماعت کی تصانیف میں فرقہ وہابیہ کے ذیلی فرقوں یعنی دیابنہ اور غیر مقلدین,اسی طرح قادیانیت,ندویت,نیچریت وغیر ہا کے احکام نہیں مل سکیں گے,پھر لوٹ کر مابعد کے علمائے اہل سنت وجماعت کی طرف آنا ہو گا۔

اس کے بعد امام احمد رضا قادری(1856-1921)کا عہد آیا۔تمام علمائے اہل سنت ومشائخ طریقت نے ان پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا۔تمام اکابر واصاغر اور عام مسلمین ان سے منسلک ہو گئے۔اس وقت ہماری تعداد اسی فی صد تھی۔اب ہمیں سخت کوشش کرنی ہو گی۔

حنفیت کے دعویداروں کا ایک طبقہ دیوبند میں تھا۔در اصل فرقہ وہابیہ کی یہ ایک مضبوط شاخ تھی۔یہ لوگ فقہی مسائل میں حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کی تقلید کرتے تھے اور باب اعتقادیات میں اسماعیل دہلوی کے پیروکار تھے۔اس جماعت کا قائد اول اسماعیل دہلوی(1779-1831)کا جانشیں اسحاق دہلوی (1783-1846)تھا۔اسحاق دہلوی نے مملوک علی نانوتوی(1780-1851)کو اپنا جانشیں بنایا۔

اکابر دیوبند,قاسم نانوتوی, رشید احمد گنگوہی,یعقوب نانوتوی وغیرہ مملوک علی نانوتوی کے شاگرد ہیں۔خلیل احمد انبیٹھوی (1852-1927)مملوک علی نانوتوی کا نواسہ ہے۔اشرف علی تھانوی(1863-1943)مدرسہ دیوبند کا فارغ اور مملوک علی نانوتوی کے بیٹے یعقوب نانوتوی کا شاگرد اور صحبت یافتہ تھا۔

مملوک علی نانوتوی دہلی میں انگریزوں کے قائم کردہ”دہلی عربک کالج”کا مدرس تھا۔یہ دہلی میں رہتا تھا۔ابتدائی عہد میں مقلد وہابیہ کو”کلابی وہابی”کہا جاتا تھا۔جب اس جماعت کا مرکز دیوبند منتقل ہو گیا,تب مقلد وہابیہ کو دیوبندی کہا جانے لگا۔

علمائے اہل سنت اور مشائخ طریقت نے غیر مقلد وہابیہ کی طرح مقلد ویابیہ سے بھی اپنے روابط وتعلقات منقطع کر لئے۔تمام اہل حق امام احمد رضا قادری سے منسلک ہو گئے۔

امام احمد رضا قادری نے تمام بدمذہب فرقوں کے احکام ومسائل تفصیل کے ساتھ رقم فرمائے۔ان کے سوالوں کے جواب تحریر فرمائے۔

چوں کہ عہد حاضر کے تمام اعتقادی فتنوں کے احکام ومسائل اور فقہی احکام ومسائل کا سب سے وسیع ذخیرہ اور علمی ضرورتوں کا عظیم الشان خزانہ امام احمد رضا قادری کی تحریروں میں موجود تھا,پس علمائے کرام خود بھی اس جانب متوجہ رہے اور عوام اہل سنت کو بھی اس جانب متوجہ کرتے رہے,اور شان وشوکت کے ساتھ ملی وحدت قائم رہی۔

سلطان الہند حضرت خواجہ غریب نواز رضی اللہ تعالی عنہ کی ذات با برکات سے کسی کو اختلاف نہیں۔ان کی تبلیغ دین کے سبب قریبا نوے لاکھ غیر مسلموں نے اسلام قبول کیا۔حضور اقدس علیہ الصلوۃ والسلام نے انھیں ہند کی بادشاہت وسلطنت عطا فرمائی۔وہ اولیائےہند کے سردار اور غیر منقسم بھارت کے سب سے بڑے ولی ہیں۔

اگر باب اعتقادیات میں ہم برادران اہل سنت وجماعت کو حضور خواجہ غریب نواز رضی اللہ تعالی عنہ سے منسلک کر دیں تو بھی عہد حاضر کے اعتقادی احکام ومسائل کے لئے امام احمد رضا کی طرف رجوع کرنا ہو گا۔

حضور خواجہ غریب نواز علیہ الرحمۃ والرضوان کے عہد مسعود میں نہ عہد حاضر کے بدمذہب فرقے موجود تھے,نہ ان کی تعلیمات میں ان فرقوں کے صریح احکام دستیاب ہو سکتے ہیں۔یہی حال عہد ماضی کے علما وفقہا ومجددین کرام کے علمی ترکہ کا ہے کہ ان کے علمی ذخیروں میں ہمیں عہد حاضر کے اعتقادی فتنوں کے صریح احکام نہیں مل سکتے۔

پس اب ایک ہی صورت باقی رہتی ہے کہ امام احمد رضا قادری کو تمام اولیائے سابقین واسلاف کرام علیہم الرحمۃ والرضوان کا نمائندہ قرار دیا جائے۔امام احمد رضا قادری کے تلامذہ وخلفا نے یہی نظریہ قوم کے سامنے پیش کیا تھا اور سب خوش دلی کے ساتھ ہمارے ساتھ سفر حیات طے کر رہے تھے۔

اس کے بعد خطبا ومقررین کے عدم تجربہ اور حقائق فطریہ سے غفلت شعاری کے سبب انتشار کی آہٹ سنائی دینے لگی۔خطبا ومقررین نے امام احمد رضا قادری کو اس انداز میں پیش کرنا شروع کیا کہ دیگر خانقاہوں کے جو لوگ ہم سے وابستہ تھے,وہ کبیدہ خاطر ہونے لگے۔

درحقیقت دینی خدمات بہت سے بزرگوں نے انجام دی تھیں۔موقع بہ موقع ان کا بھی ذکر ہوتے رہنا چاہئے تھا۔ہم کسی کے احسان کو فراموش نہیں کر سکتے۔عہد حاضر کے خطبا ومقررین ہماری عملی مدد فرمائیں اور ماحول کو قابو میں کرنے کی کوشش کریں۔

فطری محبت کے مثبت ومنفی اثرات

انسان کے ذاتی روابط وتعلقات جن افراد سے ہوتے ہیں,ان سے فطری محبت ہوتی ہے,مثلا خاندانی رشتہ دار,دوست واحباب,استاذ وشاگرد,پیر ومرید,پڑوسی وہم وطن,ہم درس وہم پیشہ,ہم زبان وہم مزاج افراد سے فطری محبت وقربت ہوتی ہے۔

جن مومنین سے ان کو فطری محبت ہو گی,وہاں ایمانی محبت اور اخوت دینی بھی ہو گی,پس ہمیں چاہئے کہ ان کے مومن متعلقین سے ہم بھی اپنی محبت ایمانی کا اظہار کریں۔یہ بھی مسلمات میں سے ہے کہ دوست کا دوست بھی دوست ہوتا ہے,پس اس نسبت کا بھی لحاظ ہوتا رہے۔

جب آپ ان کے متعلقین سے اظہار محبت نہیں کریں گے تو وہ آپ سے دور ہوتے جائیں گے,پھر قطع تعلق کی صورت پیدا ہو جائے گی۔یہ آپ کے لئے کچھ بھی مضر نہیں,لیکن فروغ سنیت کے لئے ضرور نقصان دہ ہے۔

عقلی محبت کی تقسیم وتفہیم

چوں کہ انسان مختلف الطبائع ہے۔محبت کا تعلق قلب انسانی سے ہوتا ہے۔انسان کا قلبی میلان کسی کی طرف زیادہ اور کسی کی طرف کم ہو سکتا ہے۔لا محالہ جس جانب قلبی میلان زیادہ ہو گا,اس کی طاعت وفرماں برداری کا جذبہ انسان کے دل میں پیدا ہوتا ہے۔

حضور اقدس حبیب کبریا علیہ التحیۃ والثنا نے سب سے زیادہ اپنی ذات با برکات سے محبت کا حکم فرمایا,تاکہ امت مسلمہ کے دلوں میں محبت نبوی کی کثرت کے سبب ان کی طاعت وفرماں برداری کا جذبہ برقرار رہے,اور وہ صراط مستقیم پرقائم ومستحکم رہے۔

یہ فطری محبت نہیں,بلکہ عقلی محبت ہے۔فطری محبت کسی کو اپنی اولاد سے زیادہ ہوتی ہے,کسی کو اپنے والدین سے زیادہ ہوتی ہے۔بہت سے لوگ اپنی بیوی سے اٹوٹ محبت کرتے ہیں۔یہ سب فطری محبت ہے۔

حضور اقدس تاجدار دوجہاں علیہ التحیۃ والثنا سے عقلی محبت زیادہ کرنی ہے,یعنی ان کو ہر امر میں ساری کائنات پر ترجیح دینی ہے۔

طبقۂ خواص اپنی محبت عقلی کو تقسیم ہی نہیں کرتے۔محبت عقلی کے تمام اجزا وحصص حضور اقدس علیہ التحیۃ والثنا کی ذات اقدس پر نثار کر دیتے ہیں۔وہ محبت عقلی کا کروڑواں حصہ بھی کسی دوسرے کے لئے مختص نہیں کرتے,بلکہ وہ محبت عقلی کی تقسیم کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔

مومنین کے لئے وہ بالواسطہ محبت تسلیم کرتے ہیں۔حضور اقدس حبیب کبریا علیہ التحیۃ والثنا نے جن سے جس قدر محبت کا حکم فرمایا ہے,ارشاد مصطفوی کے واسطے سے ان سے اتنی محبت کرتے ہیں,اور عشق مصطفوی میں مستغرق رہتے ہیں۔

مثلا آپ کے پاس سو روپے ہیں۔آپ کے والد ماجد نے کہا کہ نوے روپے مجھے دے دو,باقی دس روپے اپنے بھائیوں اور بہنوں کو دے دو۔آپ نے کل سو روپے اپنے والد ماجد کو دے کر کہا کہ میں نے سب آپ کی خدمت میں پیش کر دیا۔آپ جن کو جتنا دینا چاہیں,میں راضی ہوں۔یہی خواص کا طریق محبت ہے۔

انھیں جانا انھیں مانا نہ رکھا غیر سے کام

للہ الحمد میں دنیا سے مسلمان گیا

عقل مند آدمی اپنے دل کا سودا وہاں کرتا ہے,جہاں قیمت زیادہ ملتی ہے۔اگر امام احمد رضا قادری دربار رسالت مآب علیہ التحیۃ والثنا سے منسلک نہ ہوتے تو امید نہیں کہ اس قدر علوم وفنون میں انہیں کمال حاصل ہوتا۔

ہم مسلک اعلی حضرت کو ماننے والے ہیں۔ہم امام احمد رضا کی طرح مسلمانوں کو محبت نبوی اورعشق مصطفوی کی ترغیب دیتے ہیں۔اگر کوئی ہمارا شیخ طریقت ہے تو ہم خود ان سے محبت کریں گے۔ذاتی تعلق کے سبب فطری محبت بھی اور مومن ہونے کے سبب بالواسطہ محبت بھی,لیکن تمام مسلمانوں کو ہم اپنے شیخ طریقت سے خاص محبت کی دعوت نہیں دیں گے۔ہر کوئی اپنے شیخ طریقت سے محبت کرے۔امام احمد رضا قادری نے ہمیں یہی بتایا تھا۔انہوں نے تمام مومنین کو سوئے حرم مصطفوی متوجہ کیا تھا,نہ کہ جانب مارہرہ مقدسہ۔شعور پختہ کرو۔شور نہ مچاؤ۔

جان ودل ہوش وخرد سب تو مدینے پہنچے

کیوں نہیں چلتے رضا سارا تو سامان گیا

فروغ سنیت کے لئے ہمیں کیا کرنا چاہئے؟

ہر عالم ومبلغ اپنے آس پاس کی سنی خانقاہوں سے ربط وتعلق بڑھائیں۔ان کے مشائخ کی دل جوئی کریں۔دینی جلسوں میں انہیں مدعو کریں۔ان کو امام احمد رضا قادری سے قریب کریں۔مشائخ کے پاس عوام الناس کی فوج ہوتی ہے۔پیر کے سبب مریدین صحیح رہیں گے۔

(یسروا ولا تعسروا وبشروا ولا تنفروا)

(بخاری ومسلم)

ترجمہ:آسان راہ اختیار کرو,مشکل راستہ نہ اپناؤ۔خوش خبری سناؤ,نفرت نہ دلاؤ۔

فروغ سنیت پر توجہ دیں۔بدمذہبیت کی روک تھام کریں۔ایسی راہ نہ اپنائیں کہ اپنے لوگ برگشتہ ہو کر غیروں سے جا ملیں۔لوگوں کو جوڑنے کی کوشش کریں۔با ہمی تنازعات اور لا مرکزیت یہ دونوں بہت نقصان دہ ہیں۔مسائل ظنیہ اجتہادیہ میں ہر مجتہد ومحقق کو اپنے قول پر عمل کا شرعی حکم ہے۔عند اللہ کون سا قول حق ہے,وہ بندوں کو معلوم نہیں۔

اہل علم سے اپنے معاصرین کے حق میں کوئی سخت کلمہ صادر ہو جائے تو موافق شرع اس کی تاویل کریں۔جو مفہوم خلاف شرع ہو,اس کو صاحب قول کی مراد بتانا غلط ہے۔

ان شاء اللہ تعالی مضمون مابعد میں باب اعتقادیات میں امام ابو الحسن اشعری,امام ابو منصور ماتریدی اور امام احمد رضا قادری علیہم الرحمۃ والرضوان کی خاص حیثیت پر تبصرہ مرقوم ہو گا۔

طارق انور مصباحی

جاری کردہ:22:جون 2021