سیلف ڈفینس ایک قانونی حق

غلام مصطفےٰ نعیمی

روشن مستقبل دہلی

انسانی جان کا تحفظ دنیا کے تمام ممالک میں انسان کا بنیادی حق مانا گیا ہے۔ہمارے وطن میں بھی انسانی جان کو قانونی تحفظ فراہم کیا گیا ہے تاکہ سماج دشمن عناصر کی تخریب کاریوں سے معاشرہ محفوظ رہ سکے۔اور ایک عام انسان بھی بے خوف وخطر زندگی گزار سکے۔اسے Right to self Defense “اپنے دفاع کا حق” کہا جاتا ہے۔

تعزیرات ہند کی دفعات 96 تا 106 میں حق دفاع (رائٹ ٹو سیلف ڈفینس) پر بحث کی گئی ہے۔جس میں کل گیارہ دفعات شامل ہیں۔ان دفعات کے تحت ان اسباب وعوامل کا ذکر کیا گیا ہے جن کی موجودگی میں کسی بھی شخص کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہوتا ہے۔حملہ روکنے اور اپنے دفاع کے لیے ضروری طاقت کے استعمال کی اجازت ہے۔اگر اس طاقت کے استعمال کے نتیجے میں مد مقابل کا جانی یا مالی نقصان ہوتا ہے تو یہ دفاع کرنے والے کے حق میں “جرم” نہیں مانا جائے گا، کیوں سیلف ڈفینس کے تحت یہ اس کا قانونی حق ہے۔

سیلف ڈفینس کی قانونی تشریح

سیلف ڈفینس قانونی حق ہونے کے ساتھ ساتھ ہر شخص کا بنیادی حق (Fundamental right) بھی ہے۔سپریم کورٹ نے کئی فیصلوں میں اس پر زور دیا ہے کہ رائٹ ٹو سیلف ڈفینس انسان کا بنیادی حق ہے۔

قانون حق دفاع کے ساتھ کچھ ہدایات بھی ذہن نشیں رہیں:

1-یہ قانون ہر شخص کو اپنی، بیوی بچوں، اپنی جائداد اور دوسروں کی جان وجائداد کی حفاظت کا حق دیتا ہے، جب کہ حملے کے وقت دفاع کے علاوہ کوئی اور صورت موجود نہ ہو۔

2-سیلف ڈفینس کا حق انتقام لینے یا کسی کو نقصان پہنچانے کے لئے نہیں ہے، اس کا مطلب صرف اپنا دفاع ہے بالفاظ دیگر “حق دفاع ڈھال ہے تلوار نہیں۔”

3-یہ حق اسی وقت تک حاصل ہے جب تک خطرے کی شدید خدشات ہوں، خطرہ سامنے ہو یا حملہ ہونے والا ہو۔اگر خطرہ ٹل جاتا ہے تو یہ حق ختم ہوجاتا ہے۔

سیلف ڈفینس کی اہم دفعات کی قانونی تشریح ملاحظہ فرمائیں:

🔹 دفعہ 96: اس کے تحت اپنے دفاع کے لیے کیا گیا کوئی بھی کام جرم کے دائرے میں نہیں آتا۔

🔹دفعہ 97: اس کے تحت ہر فرد کو کسی ایسے جرم سے خود کو یا کسی اور کو بچانے کا حق حاصل ہے جو جسم کو نقصان پہنچاتا ہو۔نیز اس دفعہ کے تحت چوری، ڈکیتی، نقصان رسانی ، مجرمانہ طور پر جائیداد میں دخل اندازی یا ان جرائم کی کوششوں سے جائیداد کے دفاع کا حق بھی حاصل ہے۔جائیداد اپنی ہو یا کسی اور کی، منقولہ ہو یا غیر منقولہ۔مثلاً آپ نے رات کے وقت دیکھا کہ کچھ لوگ آپ کی دکان یا مکان کا تالہ توڑنے کی کوشش کررہے ہیں، بھلے تالہ نہیں کھلا، نہ ہی وہ لوگ دکان میں داخل ہوئے ہیں مگر تب بھی آپ کو اپنی دکان/مکان کی حفاظت کے لیے ان پر حملہ کرنے کی اجازت ہے۔ آپ کا یہ عمل “حق دفاع” مانا جائے گا اور جرم کے زمرے میں نہیں آئے گا۔

🔹دفعہ 98: کے تحت دماغی طور پر کمزور، مخبوط الحواس، پاگل شخص کے خلاف بھی دفاع کا حاصل رہے گا چاہے ان کا عمل جرم کے زمرے میں آتا ہو یا نہ آتا ہو، مثلاً کسی شخص نے پاگل پن کے زیر اثر دوسرے پر قاتلانہ حملہ کیا، تو دوسرے شخص کو دفاع کا بھر پور حق حاصل رہے گا۔اسی طرح غلط فہمی، حملہ آور کا کم عمر ہونا، حملہ آور کا نشہ میں ہونا وغیرہ مقابل کے حق دفاع کو ختم نہیں کرتا۔

🔹دفعہ 99: کے تحت ان امور کو بیان کیا ہے جن میں حق دفاع حاصل نہیں ہوگا۔جب تک مناسب وجوہات سے اس کا یقین نہ ہوجائے کہ جان کا خطرہ یا شدید زخمی ہوجانے کا اندیشہ ہے۔مثلاً سرکاری ملازمین(پولیس، انکم ٹیکس فوج وغیرہ) کے خلاف حق دفاع حاصل نہیں جب کہ وہ اپنی ڈیوٹی کر رہے ہوں۔

🔹 دفعہ 100: یہ دفعہ حق دفاع میں سب سے اہم ہے، اس کے تحت ان اسباب و وجوہات کا تذکرہ ہے جن کی بنا پر کوئی بھی شخص اپنا حق دفاع استعمال کرتے ہوئے حملہ آور کی جان بھی لے سکتا ہے یا اس کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اس دفعہ کے مطابق سات جرائم ایسے ہیں جن کے خلاف اپنی جان کے دفاع کا انتہائی حق حاصل ہوگا، وہ سات جرائم حسب ذیل ہیں:

1- ایسا حملہ جس کی شدت سے ظاہر ہو کہ اگر اس کا دفاع نہ کیا گیا تو خود کی جان جاسکتی ہے۔

2- حملہ ایسا ہو جس کا دفاع نہ کیا جائے تو خود کے شدید زخمی ہونے کا قوی اندیشہ ہو۔

3- زنا بالجبر کی نیت سے حملہ کرنے والے کا دفاع۔

4- غیر فطری شہوت کی نیت سے کیے جانے والے حملے کا دفاع۔

5- اغوا کرنے کی نیت سے کیے جانے والے حملے کا دفاع۔

6- حبس بے جا میں رکھنے کی نیت سے کئے جانے والے حملے کا دفاع۔بشرطیکہ اسباب و عوامل سے ظاہر ہو کہ دفاع کیے بغیر خارجی مدد کا کوئی راستہ نہیں ہے۔

7- تیزاب کے حملے سے بچنے کا دفاع۔اس صورت حال میں حملہ آور کی جان لی جاسکتی ہے، بشرطیکہ صورت حال ایسی ہو کہ بغیر دفاعی حملہ کیے خود کی جان نہیں بچائی جاسکتی۔

مذکورہ بالا مواقع میں حملہ آور کی “بالارادہ و بالقصد” جان لینے والا شخص قتل کا مجرم نہیں کہلائے گا۔یہ بات واضح رہے کہ مذکورہ جرائم خود پر ہوں یا کسی اور پر، ہر دو صورت میں دفاع کا حق حاصل رہے گا، مثلاً آپ نے اپنے پڑوس میں دیکھا کہ ایک شخص دوسرے کو قتل کررہا ہے اور آپ کو یقین ہے کہ فوراً کوئی کاروائی نہ کی گئی تو قاتل کامیاب ہوجائے گا، ایسے میں دوسرے شخص کی جان بچانے کے لئے اگر اگر آپ پہلے فرد پر گولی چلائیں یا شدید زخمی کردیں تو آپ مجرم نہیں مانے جائیں گے، کیوں کہ ایسا کرنا آپ کا قانونی حق ہے۔

🔹دفعہ 103: اس دفعہ کے تحت چار جرائم کی صورت میں جائیداد کے دفاع میں حملہ آور کی “بالقصد و بالارادہ” جان لینے کی اجازت ہوگی، وہ چار جرائم یہ ہیں:

1- ڈکیتی 2- رات کے وقت نقب زنی 3- انسانی استعمال میں موجود عمارت یا خیمہ میں آگ لگانا 4- ایسی چوری یا غیر قانونی مداخلت جس کے تعلق سے یقین ہو کہ اگر دفاع نہ کیا جائے تو جان کا خطرہ ہے۔

🔹دفعہ 106: سیلف ڈفینس کی آخری اور اہم دفعہ میں اس نکتہ پر بحث کی گئی ہے کہ اگر جان کا دفاع کرتے وقت یہ محسوس ہو کہ کوئی غیر متعلق فرد بھی دفاعی حملے کی زد میں آسکتا ہے، تو کیا دفاع کا حق استعمال کیا جائے گا یا نہیں؟ تعزیرات ہند میں اس مسئلہ کو ایک دلچسپ مثال سے واضح کیا گیا ہے، مثال کے مطابق اگر کسی شخص پر کوئی بھیڑ قاتلانہ حملہ کر دے اور اس بھیڑ میں بچے وغیرہ بھی شامل ہیں، مقابل اپنے دفاع کا حق گولی چلائے (یا اندھا دھند تلوار چلائے) بغیر استعمال نہیں کرسکتا ہے تو اپنے حق کے استعمال کی صورت میں اگر کوئی غیر متعلق مرجائے یا اسے نقصان پہنچ جائے تو مقابل شخص کا یہ عمل جرم کے دائرے میں نہیں آئے گا، حالانکہ وہ غیر متعلق صرف بھیڑ کا حصہ تھے حملہ آور نہیں تھے۔

یہ بھی ذہن نشیں رہے کہ مقدمے کے دوران آپ کو یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ آپ کا اقدام صرف سلیف ڈفینس کے لیے تھا کوئی اور منشا یا سازش نہیں تھی اگر آپ عدالت میں یہ ثابت کر دیتے ہیں کہ آپ نے جو کچھ کیا وہ اپنے دفاع میں کیا تو آپ کو رائٹ ٹو سیلف کے تحت قانونی رعایت مل جائے گی۔

موجودہ دور میں سیلف ڈفینس کی اہمیت

موجودہ حالات میں سیلف ڈفینس کی اہمیت وضرورت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے کیوں کہ سماج دشمن عناصر اور قانون سے کھلواڑ کرنے والے غنڈے بدمعاش جابجا خواتین کے ساتھ بدتمیزی کرتے ہیں، راہ گیروں پر حملہ کرکے جانی مالی نقصان پہنچاتے ہیں۔یہ غنڈے بدمعاش جھنڈ کے جھنڈ میں آتے ہیں اس لیے جان ومال اور عزت وآبرو کی حفاظت کے لیے سیلف ڈفینس کا آنا بے حد ضروری ہے، اس ضمن میں چند نکات درج کیے جاتے ہیں تاکہ ان پر عمل کرکے کسی ناگہانی مصیبت سے خود کو اور دوسروں کو بچا سکیں۔

🔹 سب سے پہلے تو خود کو ذہنی طور پر مضبوط رکھیں، حواس پر قابو رہے، اکیلے بھی ہوں تو خوف زدہ نہ ہوں اور آپ کی باڈی لینگویج بہادرانہ ہو بزدلانہ نہ ہو۔

🔹 آنکھ ناک کان بیدار اور کھلے رکھیں، حملے کا خدشہ محسوس ہو تو قرب وجوار میں محفوظ راستہ اور کچھ ایسے سامان تلاشیں جس سے آپ حملہ آوروں کو کچھ دیر روک سکیں یا وہاں سے نکل سکیں۔

🔹اسکولی لیول سے ہی لڑکے لڑکیوں کو سیلف ڈفینس کی ٹریننگ دی جائے تاکہ وہ کسی حملے کے وقت اپنی حفاظت کرسکیں۔

🔹سماجی تنظیمیں مختلف مواقع پر عام لوگوں کے لئے سیلف ڈفینس کی ٹریننگ کا اہتمام ضرور کریں تاکہ عام انسان بھی بوقت حملہ خود کو بچا سکیں۔

🔹محرم وغیرہ کے موقع پر چلنے والے اکھاڑوں میں سیلف ڈفینس کی ٹریننگ دی جائے اور لوگوں کو اس حوالے سے بیدار کیا جائے۔

🔹جو لوگ تعلیمی یا کاروباری غرض سے زیادہ تر سفر میں رہتے ہیں، ان لوگوں کو ترجیحی طور پر سیلف ڈفینس کی تربیت ضرور لینا چاہیے۔

🔹 دوران سفر اپنے ساتھ ایسا حفاظتی سامان ضرور رکھیں جو قانونی طور پر درست ہو، مثلاً پیپر اسپرے ، مرچی پاؤڈر وغیرہ

🔹 اگر کہیں بدمعاشوں کے نرغے میں گھر بھی جائیں تو ہمت وبہادری سے کسی ایک کو ٹارگیٹ کریں تاکہ دوسرے لوگ خوف زدہ ہوجائیں۔جھنڈ میں آنے والے اکثر بزدل ہوتے ہیں، مضبوط جواب ملتے ہی بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔

سیلف ڈفینس کے بہت سارے طریقے یوٹیوب کے ذریعے بھی سیکھے جاسکتے ہیں مگر ان کی عملی مشق ضروری ہے۔اس لیے زیادہ بہتر یہی ہے کہ کسی ٹرینر سے سیکھا جائے اور پھر ہلکی پھلکی مشق کی جاتی رہے تاکہ ضرورت کے وقت آپ خود کو غنڈے بدمعاشوں سے بچا سکیں۔سماجی تنظیموں کو چاہیے کہ وہ آگے آئیں اور جرائم فری معاشرہ بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

(بعض نکات کی قانونی تشریح میں ایڈووکیٹ نوید سیف کے افکار سے استفادہ کیا گیا ہے)

13 ذوالقعدہ 1442ھ

25 جون 2021 بروز جمعہ