أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِذۡ جَآءَتۡهُمُ الرُّسُلُ مِنۡۢ بَيۡنِ اَيۡدِيۡهِمۡ وَمِنۡ خَلۡفِهِمۡ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰهَ‌ؕ قَالُوۡا لَوۡ شَآءَ رَبُّنَا لَاَنۡزَلَ مَلٰٓئِكَةً فَاِنَّا بِمَاۤ اُرۡسِلۡتُمۡ بِهٖ كٰفِرُوۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

جب ان سے پہلے زمانہ میں اور ان کے بعد کے زمانہ میں (متواتر) رسول آئے کہ تم اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرو، تو انہوں نے کہا : اگر ہمارا رب چاہتا تو ضرور فرشتے نازل فرما دیتا سو تمہیں جو پیغام دے کر بھیجا گیا ہے ہم اس کا انکار کرنے والے ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

جب ان سے پہلے زمانہ میں اور ان کے بعد کے زمانہ میں (متواتر) رسول آئے کہ تم اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرو، تو انہوں نے کہا : اگر ہمارا رب چاہتا تو ضرور فرشتے نازل فرما دیتا سو تمہیں جو پیغام دے کر بھیجا گیا ہے ہم اس کا انکار کرنے والے ہیں پس رہے عاد تو انہوں نے زمین میں ناحق تکبر کیا اور کہا : ہم سے زیادہ قوت والا کون ہے ؟ کیا انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ اللہ جس نے انہیں پیدا کیا ہے وہ ان سے زیادہ قوت والا ہے، اور وہ ہماری آیتوں کا انکار کرتے رہے تھے سو ہم نے (ان کے) منحوس دنوں میں ان پر خوفناک آواز والی آندھی بھیجی تاکہ ہم انہیں دنیا کی زندگی میں ذلت کے عذاب کا مزا چکھائیں اور آخرت کا عذاب زیاد رسوا کرنے والا ہے اور ان کی (بالکل) مدد نہیں جائے گی اور رہے ثمود تو ہم نے ان کو ہدایت دی تھی، لیکن انہوں نے گمراہی کو ہدایت پر ترجیح دی، سو ان کے کرتوتوں کے باعث سخت ذلت کے عذاب کی کڑک نے ان کو اپنی گرفت میں لے لیا اور ہم نے ان لوگوں کو (اس عذاب سے) بچا لیا جو ایمان لے آئے تھے اور وہ اللہ سے ڈرتے تھے (حٰم ٓ السجدۃ : 14-18)

قوم عاد کی طرف متعدد رسول آنے کے محامل

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید اور اپنی قدرت پر دلائل فرمائے تھے کہ جو ذات اتنی عظیم الشان قدرت والی ہے اس کو چھوڑ کر تم ان پتھر کی بےجان مورتیوں کی پرستش کررہے ہو اور اب بھی اگر تم اپنی جہالت اور ہٹ دھرمی پر قائم رہو گے اور توحید سے اعراض کرو گے تو تم اسی طرح کے عذاب کے مستحق ہو جیسا عذاب عاد اور ثمود پر آیا تھا۔

حٰم ٓ السجدۃ : ١٤ کا معنی علامہ قرطبی نے اسی طرح کیا ہے جس طرح ہم نے اس کا ترجمہ کیا ہے یعنی جب ان سے پہلے زمانہ میں اور ان کے بعد کے زمانہ میں (متواتر) رسول آئے۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ١٥ ص ٣٠٩) اور امام رازی نے کہا : اس کے معنی کے دو محمل ہیں۔

(١) جو رسول ان کی طرف بھیجے گئے تھے وہ ان کے پاس ہر جانب سے آئے اور انہوں نے ان کے ایمان کے لیے تمام جتن کیے لیکن ان رسولوں نے ان سے سرکشی اور ہٹ دھرمی کے سوا اور کوئی چیز نہیں دیکھی، اس کی نظیر قرآن مجید کی یہ آیت ہے :

ثم لا تینم من بین ایدیھم ومن خلفھم۔ (الاعراف :17)

پھر میں ان ضرور حملہ کروں گا ان کے سامنے سے اور ان کے پیچھے سے۔

یعنی میں ہر طرف سے ان پر حملہ کروں گا اور ان کو گمراہ کرنے کے لیے ہر حیلہ کو بروئے کار لائوں گا۔

(٢) رسول ان کے پاس ان سے پہلے زمنہ میں بھی آئے اور ان کے بعد کے زمانہ میں بھی آئے۔

اگر اس معنی پر یہ اعتراض کیا جائے کہ جو رسول ان سے پہلے زمانہ میں آئے اور ان کے بعد کے زمانہ میں آئے ان کے متعلق یہ کہنا کس طرح صحیح ہوگا کہ وہ ان کے پاس آئے، اس کا جواب یہ ہے کہ ان کے پاس حضرت ھود اور حضرت صالح اسی پیغام کو لے کر آئے تھے جو پیغام ان سے پہلے اور ان کے بعد تمام رسول لے کر آتے رہے تھے۔

(تفسیر کبیرج ٩ ص ٥٥١ )

اس کے بعد فرمایا : ان رسولوں نے یہ پیغام دیا کہ تم صرف اللہ کی عبادت کرو، ان کو توحید پر ایمان لانے اور شرک کا انکار کرنے کا حکم دیا اور ان کافروں نے ان رسولوں کی تکذیب کی اور یہ کہا کہ ” اگر ہمارا رب چاہتا تو ضرور فرشتے نازل فرما دیتا ، سو تمہیں جو پیغام دے کر بھیجا گیا ہے ہم اس کا انکار کرنے والے ہیں “ ان کے جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ تمہار دعویٰ رسالت کی تکذیب کے لیے یہ کافی ہے کہ اگر اللہ نے واقعی کسی کو اپنا پیغام دے کر بھیجنا ہوتا تو فرشتوں کو بھیجتا اور جب تم بشر ہو اور فرشتے نہیں ہو تو پھر تم رسول بھی نہیں ہو، لہٰذا تمہارا کلام ہم پر حجت نہیں ہے اور ہم تمہاری رسالت کا انکار کرنے والے ہیں۔ سو اسی طرح کفار مکہ نے بھی ہمار نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کا انکار کیا تھا اور پھر عتبہ بن ربیعہ کو آپ کے پاس مذاکرہ کرنے کے لیے بھیجا تھا جس کی تفصیل ہم متعدد حوالوں کے ساتھ اس سورت کے مقدمہ میں لکھ چکے ہیں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عتبہ بن ربیعہ کے دلائل کے جواب میں حٰم ٓ السجدۃ کی تیرہ آیتیں تلاوت فرمائیں اور ان کے آخر میں ہے : ” پھر بھی اگر وہ اعراض کریں تو آپ کہیے کہ میں نے تمہیں ایسے ہولناک کڑک والے عذاب سے ڈرایا ہے جیسا ہولناک کڑک والا عذاب عاد اور ثمود پر آیا تھا “

اس آیت میں ” صاعقۃ مثل صاعقۃ عاد وثمود “ فرمایا ہے، صاعقۃ کا معنی ہم حٰم ٓ السجدۃ : ١٧ میں بیان کریں گے۔ انشاء اللہ تعالیٰ

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 41 فصلت آیت نمبر 14