أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ثُمَّ اسۡتَـوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ وَهِىَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلۡاَرۡضِ ائۡتِيَا طَوۡعًا اَوۡ كَرۡهًا ؕ قَالَتَاۤ اَتَيۡنَا طَآئِعِيۡنَ ۞

ترجمہ:

پھر ان نے آسمان کی طرق قصد فرمایا اور وہ اس وقت دھواں تھا، پھر اس نے آسمان اور زمین سے فرمایا کہ تم دونوں خوشی یا ناخوشی سے حاضر ہو، ان دونوں نے کہا : ہم دونوں بہ خوش حاضر ہیں

حٰم ٓ السجدۃ : ١١ میں فرمایا ہے : پھر اس نے آسمان کی طرف قصد فرمایا ” اس آیت سے معلوم ہوا کہ پہلے زمین بنائی گئی، پھر آسمان بنایا گیا، حالانکہ دوسری آیت میں ہے کہ پہلے آسمان بنایا پھر زمین بنائی، ارشاد ہے :

رفع سمکھا فسوھا واغطش لیلھا واخرج ضعھا والارض بعد ذلک دحھا (النزعت : 28-29-30)

اللہ نے آسمان کو بلند کیا پھر اس کو برابر کیا اس کی رات کو تاریک کیا اور اس کے روشن دن کو نکالا اور اس کے بعد زمین کو ہموار کیا اور اس کو پھیلایا

اس کا جواب یہ ہے کہ حٰم ٓ السجدۃ : ١١ میں جو زمین کو آسمان سے پہلے پیدا کرنے کا ذکر ہے اس سے مراد یہ ہے کہ نفس زمین اور اس کے مادے کو آسمان سے پہلے بنایا اور النزعت :30 میں جو آسمان کے بعد زمین کے بنانے کا ذکر ہے اس سے مراد زمین کو پھیلانا اور اس کو ہموار کرنا۔

نیز حٰم ٓ السجدۃ : میں فرمایا ہے : ” پھر اس نے آسمان اور زمین سے فرمایا کہ تم دونوں خوشی یا ناخوشی سے حاضر ہو، ان دونوں نے کہا : ہم دونوں بہ خوش حاضر ہیں “ اس سے زمین اور آسمان کا آنا جانا یا معروف طریقہ سے حاضر ہونا مراد نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین اور آسمان سے فرمایا : تم وجود میں آجائو سو وہ وجود میں آگئے، جیسے اللہ تعالیٰ نے کسی چیز کے متعلق فرمایا : ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے۔

زمین، آسمان اور ان کے درمیان کی چیزوں کو پیدا کرنے کے متعلق احادیث اور آثار

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا : اللہ عزوجل نے زمین کو ہفتہ کے دن پیدا فرمایا اور اتوار کے دن اس میں پہاڑوں کو پیدا کیا اور پیر کے دن درختوں کو پیدا فرمایا اور مکروہ چیزوں کو منگل کے دن پیدا فرمایا اور نور کو بدھ کے دن پیدا فرمایا اور جمعرات کے دن اس میں چوپایوں کو پھیلا دیا اور حضرت آدم (علیہ السلام) کو سب کے بعد جمعہ کے دن عصر کے بعد پیدا فرمایا اور وہ ساعات جمعہ میں آخری ساعت تھی۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٧٨٩، مکتبہ نزار مصطفی، مکہ مکرمہ، ١٤١٧ ھ)

اس روایت میں آسمانوں کے پیدا کرنے کا ذکر نہیں ہے، امام ابن جریر نے حضرت ابن عباس سے جو حدیث روایت کی ہے اس میں پوری تفصیل ہے۔ وہ حدیث یہ ہے :

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ یہودی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور آپ سے آسمانوں اور زمینوں کے پیدا کرنے کے متعلق سوال کیا، آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے اتوار اور پیر کے دن زمین پیدا کی اور منگل کے دن پہاڑوں کو پیدا کیا اور ان نفع آور چیزوں کو پیدا کیا جو پہاڑوں میں ہیں اور بدھ کے دن درختوں کو اور پانی کو اور شہروں کو اور آبادیوں کو اور ویرانوں کو پیدا کیا، یہ وہ چار دن ہیں جن کا اس آیت میں ذکر ہے “ آپ کہیے : کیا تم واقعی اس ذات کا کفر کررہے ہو جس نے دو دنوں میں زمین کو پیدا کیا اور تم اس کے شرکاء قرار دے رہے ہو، حالانکہ وہی تمام جہانوں کا رب ہے اور اس نے زمین کے اوپر بھاری پہاڑ نصب کردیئے اور اس میں برکت رکھی اور زمین میں رہنے والوں کی غذا بھی چار دنوں میں مقرر کی جو طلب کرنے والوں کے لیے مساوی ہے “ (حٰم ٓ السجدۃ :9-10) اور اس نے جمعرات کے دن آسمان کو پیدا کیا اور جمعہ کے دن ستاروں، چاند، سورج اور فرشتوں کو تین ساعتوں تک پیدا کیا اور ان تین ساعتوں میں سے پہلی ساعت میں لوگوں کی مدت حیات مقرر فرمائی اور دوسری ساعت میں جن چیزوں سے لوگ نفع اٹھاتے ہیں ان پر آفت کو پیدا کیا اور تیسری ساعت میں حضرت آدم کو پیدا کیا اور ان کو جنت میں رکھا اور ابلیس کو حکم دیا کہ ان کو سجدہ کرے اور آخری ساعت میں اس کو جنت سے نکال دیا، یہود نے پوچھا : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! پھر کیا ہو ؟ آپ نے فرمایا : پھر اللہ عرش پر جلوہ فرما ہوا، یہود نے کہا : اگر آپ پوری بات بتادیتے تو آپ کی بات صحیح تھی، سو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سخت غضب ناک ہوئے اور اس وقت یہ آیت نازل ہوئی :

ولقد خلقنا السموت والارض وما بینھما فی ستۃ ایام وما مسنا من لغوب فاصبر علی مایقولون۔ (ق :38-39)

ہم نے آسمانوں اور زمینوں کو اور ان کے درمیان کی سب چیزوں کو چھ دنوں میں پیدا کیا اور ہمیں کوئی تھکاوٹ نہیں ہوئی سو جو کچھ یہ کہتے ہیں آپ اس پر صبر کیجئے۔ (جامع البیان رقم الحدیث : ٢٣٤٧٨، کتاب العظمۃ ص ٢٩١، رقم الحدیث : ٨٧٩، المستدرک ٢ ص ٥٤٣ طبع قدیم، المستدرک رقم الحدیث : ٣٩٩٧، المکتبۃ العصریہ، ١٤٢٠ ھ، الدرالمنثور ج ٧ ص ٢٧١، کنز العمال : ٦ ص ١٢٤ )

نیز اس آیت میں ہے : ” جو طلب کرنے والوں کے لیے مساوی ہے “ امام ابن جریر اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

جس شخص کو بھی رزق کی حاجت ہو اور وہ اپنے رب سے اس کے متعلق سوال کرے تو اللہ تعالیٰ نے اس کی ضرورت کے اعتبار سے زمین میں اس کی روزی کی مقدر کردیا ہے اور اس کے پیدا ہونے سے پہلے اس کے رزق کو مقرر کردیا ہے۔ (جامع البیان جز ٢٤ ص ١٢٣ )

زمین اور آسمان کو جو حاضر ہونے کا حکم دیا اس کی تفسیر میں حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے آسمانوں سے فرمایا : میرے سورج اور چاند کو اور میرے ستاروں کو طلوع کرو اور زمین سے فرمایا : میرے دریائوں کو جاری کرو اور میرے پھلوں کو نکالو تو انہوں نے کہا : ہم اطاعت کرتے ہیں۔ (جامع البیان رقم الحدیث : ٢٣٤٩٧)

القرآن – سورۃ نمبر 41 فصلت آیت نمبر 11