أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَقَضٰٮهُنَّ سَبۡعَ سَمٰوَاتٍ فِىۡ يَوۡمَيۡنِ وَاَوۡحٰى فِىۡ كُلِّ سَمَآءٍ اَمۡرَهَا‌ ؕ وَزَ يَّـنَّـا السَّمَآءَ الدُّنۡيَا بِمَصَابِيۡحَ ‌ۖ وَحِفۡظًا ‌ؕ ذٰلِكَ تَقۡدِيۡرُ الۡعَزِيۡزِ الۡعَلِيۡمِ ۞

ترجمہ:

تو اس نے دو دن میں ان کو پورے سات آسمان بنادیا اور ہر آسمان میں اسی کے متعلق احکام بھیجے اور ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں سے مزین فرما دیا اور اس کو محفوظ فرما دیا، یہ بہت غالب، بےحد علم والے کا مقرر کیا ہوا اندازہ ہے

حٰم ٓ السجدۃ : ١٢ میں ہے : ” اور ہر آسمان میں اسی کے متعلق احکام بھیجے اور ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں سے مزین فرما دیا اور اس کو محفوظ فرمادیا “

قتادہ نے کہا : آسمان میں سورج، چاند، سیاروں اور ان کے محوروں کو پیدا کیا اور ہر آسمان میں فرشتوں کو پیدا کیا اور اولوں کو اور برف کو پیدا کیا، حضرت ابن عباس نے فرمایا : ہر آسمان میں روشن سیارے ہیں اور آسمان کو اللہ تعالیٰ نے ان شیطانوں سے محفوظ فرمادیا جو فرشتوں کی باتیں سننے کے لیے آسمانوں پر جاتے تھے، ان کے اوپر آگ کے گولے مارے جاتے ہیں جو دور سے شہاب ثاقب دکھائی دیتے ہیں۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ١٥ ص ٣٠٨، دارالفکر، بیروت، ١٤١٥ ھ)

القرآن – سورۃ نمبر 41 فصلت آیت نمبر 12