أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلۡ اَئِنَّكُمۡ لَتَكۡفُرُوۡنَ بِالَّذِىۡ خَلَقَ الۡاَرۡضَ فِىۡ يَوۡمَيۡنِ وَتَجۡعَلُوۡنَ لَهٗۤ اَنۡدَادًا‌ؕ ذٰلِكَ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ‌ۚ ۞

ترجمہ:

آپ کہیے : کیا تم واقعی اس ذات کا کفر کررہے ہو جس نے دو دنوں میں زمین کو پیدا کیا اور تم اس کے شرکاء قرار دے رہے ہو، حالانکہ وہی تمام جہانوں کا رب ہے

تفسیر:

اللہ تعالٰ کا ارشاد ہے :

آپ کہیے : کیا تم واقعی اس ذات کا کفر کررہے ہو جس نے دو دنوں میں زمین کو پیدا کیا اور تم اس کے شرکاء قرار دے رہے ہو، حالانکہ وہی تمام جہانوں کا رب ہے اور اس نے زمین کے اوپر بھاری پہاڑ نصف کردیئے اور اس میں برکت رکھی اور زمین میں رہنے والوں کی خدا بھی چار دنوں میں مقدر کی، جو طلب کرنے والوں کے لیے مساوی ہے پھر ان نے آسمان کی طرق قصد فرمایا اور وہ اس وقت دھواں تھا، پھر اس نے آسمان اور زمین سے فرمایا کہ تم دونوں خوشی یا ناخوشی سے حاضر ہو، ان دونوں نے کہا : ہم دونوں بہ خوش حاضر ہیں تو اس نے دو دن میں ان کو پورے سات آسمان بنادیا اور ہر آسمان میں اسی کے متعلق احکام بھیجے اور ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں سے مزین فرما دیا اور اس کو محفوظ فرما دیا، یہ بہت غالب، بےحد علم والے کا مقرر کیا ہوا اندازہ ہے پھر بھی اگر وہ اعراض کریں تو آپ کہیے کہ میں نے تمہیں ایسے ہولناک کڑک والے عذاب سے ڈرایا ہے جیسا ہولناک کڑک والا عذاب عاد اور ثمود پر آیا تھا

(حٰم ٓ السجدۃ : 9-13)

مشرکین کے کفر کی تفصیل

اس سے پہلے حٰم ٓ السجدۃ : ٦ میں فرمایا تھا : ” آپ کہیے میں محض تمہاری مثل بشر ہوں، میری طرف یہ وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا معبود صرف واحد معبود ہے “ اس اس کے موافق یہ فرمایا ہے کہ عبادت کے استحقاق میں تمہارا ان بتوں کو اللہ کا شریک قرار دینا جائز نہیں ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اتنے عظیم الشان آسمانوں، زمینوں اور ان کے درمیان سب چیزوں کو بہت قلیل مدت یعنی چھ دنوں میں پیدا فرمادیا ہے، پس جس ذات کی یہ شان ہے اس کی عبادت کے استحقاق میں ان بےجان لکڑی اور پتھر کی مورتیوں کو اس کا شریک قرار دینا کس طرح درست ہوسکتا ہے۔

حٰم ٓ السجدۃ : ٩ میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے کفر اور شرک و گناہوں کا ذکر فرمایا ہے، ان کے کفر کی حسب ذیل وجوہ ہیں :

(١) مشرکین یہ کہتے ہیں تھے کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے پر قادر نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کا انکار کرنا کفر ہے۔

(٢) وہ اللہ تعالیٰ کے مکلف ہونے کا انکار کرتے تھے، رسولوں کی بعثت کا انکار کرتے تھے، خصوصاً انسان اور بشر کے رسول ہونے کا انکار کرتے تھے او یہ تمام چیزیں کفر ہیں۔

(٣) وہ اللہ تعالیٰ کی طرف اولاد کی اضافت کرتے تھے اور فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں کہتے تھے اور یہ تمام باتیں کفر ہیں۔

اور ان کا شرک واضح تھا، وہ اپنے ہاتھوں سے تراش کر بت بناتے تھے، پھر ان کو اللہ کا شریک کہتے تھے، اللہ تعالیٰ ان کا رد فرمارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا یہ عالم ہے کہ اس نے چھ دنوں میں پوری جیتی جاگتی کائنات کھڑی کردی، تم ایسے عظیم الشان خالق کو چھوڑ کر لکڑی او پتھر کے بےجان اور حقیر مجسموں کی پرستش کررہے ہو۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 41 فصلت آیت نمبر 9