أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَذٰلِكُمۡ ظَنُّكُمُ الَّذِىۡ ظَنَنۡتُمۡ بِرَبِّكُمۡ اَرۡدٰٮكُمۡ فَاَصۡبَحۡتُمۡ مِّنَ الۡخٰسِرِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور تمہارا اپنے رب کے ساتھ یہی گمان ہے جس نے تہیں ہلاک کردیا، پس تم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگئے

حٰم ٓ السجدۃ : ٢٣ میں فرمایا : ” اور تمہارا اپنے رب کے ساتھ یہی گمان ہے جس نے تہیں ہلاک کردیا، پس تم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگئے “

اللہ کے ساتھ حسن ظن رکھنے کے متعلق احادیث

یہ آیت اس باب میں نص صریح ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ گمان رکھتا ہے کہ اللہ کو اس کے کاموں کا علم نہیں ہوگا وہ ان لوگوں میں سے ہوگا جو ہلاک ہونے والے ہیں اور نقصان اٹھانے والے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کے ساتھ گمان کی دو قسمیں ہیں : ظن حسن اور ظن فاسد، ظن فاسد کی ایک مثال یہی ہے جس کا اس آیت میں ذکر فرمایا ہے اور ظن حسن کی مثال یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ سے یہ گمان رکھے کہ وہ اس پر فضل اور رحمت فرمائے گا، اس کے گناہوں پر پردہ رکھے گا، اس کی توبہ قبول فرمائے گا، اس کو بخش دے گا اور اس کو دارین میں اجر وثواب عطا فرمائے گا، حدیث میں ہے :

حضرت داخلہ بن اسقع (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : میں اپنے بندے کے گمان کے پاس ہوں وہ میرے متعلق جو چاہے گمان کرے۔ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ (مسند احمد ج ٣ ص ٤٩١، ج ٤ ص ١٠٦ طبع قدیم، مسند احمد ج ٢٥ ص ٣٩٨، رقم الحدیث : ١٦٠١٦، ج ٢٨ ص ١٨٧، رقم الحدیث : ١٦٩٧٩، مؤسسۃ الرسالۃ، ١٤١٩، المعجم الکبیر ج ٢٢ رقم الحدیث : ٢١١)

یزید بن اسود بیان کرتے ہیں کہ میں سخت بیمار تھا، حضرت واثلہ میری عیادت کے لیے آئے اور پوچھا : تمہارے اللہ کے ساتھ کیا گمان ہے ؟ میں نے کہا : جب میں اپنے گناہوں کو دیکھتا ہوں تو مجھے اپنی ہلاکت قریب نظر آتی ہے لیکن میں اللہ کی رحمت کی امید رکھتا ہوں، حضرت واثلہ نے کہا : اللہ اکبر اور گھر والوں نے بھی کہا : اللہ اکبر، حضرت واثلہ نے کہا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے : اللہ فرماتا ہے : میں اپنے بندے کے گمان کے پاس ہو، وہ میرے متعلق جو چاہے گمان کرے۔ (جامع شعب الایمان رقم الحدیث : ٩٧٥، رسائل ابن ابی الدنیا حسن الظن باللہ رقم الحدیث : ٢، الادب للبیہقی رقم الحدیث : ١٦٠، الزہدالابن المبارک رقم الحدیث : ٩٠٩، المستدرک ج ٤ ص ٢٤٠ )

اسی طرح ایک اور حدیث ہے :

حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات سے تین دن پہلے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : تم میں سے کسی شخص پر ہرگز موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ وہ اللہ کے ساتھ حسن ظن رکھتاہو (اس حدیث کی سندصحیح ہے) ۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٨٧٧، سنن ابودائود رقم الحدیث : ٣١١٣، مسند احمد ج ٣ ص ٦٩٣ طبع قدیم، مسند احمد ج ٢٢ ص ٢٩، رقم الحدیث : ٤١٢٥، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت، ١٤١٩ ھ، مسند ابویعلیٰ رقم الحدیث ١٩٠٧، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٦٣٧، المعجم الاوسط رقم الحدیث : ١٦١٣، حلیۃ الاولیاء ج ٥ ص ٨٧، سنن بیہقی ج ٣ ص ٣٧٧، شعب الایمان رقم الحدیث : ١٠١١، شرح السنۃ رقم الحدیث ١٤٥٥، جامع المسانید والسنن مسند جابر رقم الحدیث : ١٣٩٥)

اسی طرح اللہ کے ساتھ ظن رکھنے والوں کی دو قسمیں ہیں : ایک قسم ان کی ہے جو نجات یافتہ ہیں جن کے متعلق فرمایا تھا :

الذین یظنون انھم ملقوا ربھم وامھم الیہ رجعون (البقرہ : 46)

جن لوگوں کا یہ ظن ہے کہ وہ اپنے رب سے ملاقات کرنے والے ہیں اور اس کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں

اور جو لوگ عذاب یافتہ ہیں ان کا اللہ کے ساتھ وہ ظن ہوتا ہے جس کا اس آیت میں ذکر فرمایا ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 41 فصلت آیت نمبر 23