أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَا تَسۡمَعُوۡا لِهٰذَا الۡقُرۡاٰنِ وَالۡغَوۡا فِيۡهِ لَعَلَّكُمۡ تَغۡلِبُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور کافروں نے کہا : اس قرآن کو مت سنا کرو اور (اس کی قرأت کے وقت) لغو باتیں کیا کرو تاکہ تم غالب آجائو

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

اور کافروں نے کہا : اس قرآن کو مت سنا کرو اور (اس کی قرأت کے وقت) لغو باتیں کیا کرو تاکہ تم غالب آجائو بیشک ہم ان کافروں کو سخت عذاب کا مزا چکھائیں گے اور ان کو ہم ان کے بدترین کاموں کی سزا ضرور دیں گے یہ ہے اللہ کے دشمنوں کی سزا (جو) دوزخ کی آگ ہے، اس میں ان کے لیے ہمیشہ رہنے کا گھر ہے، یہ اس چیز کی سزا ہے کہ یہ ہماری آیتوں کا انکار کرتے تھے اور کافر کہیں گے : اے ہمارے رب ! ہمیں جنات اور انسانوں میں سے وہ دنوں گروہ دکھا جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا کہ ہم ان کو اپنے پائوں تلے رکھ کر پامال کریں تاکہ وہ دوزخ کے سب سے نچلے طبقہ سے ہوجائیں (حٰم ٓ السجدۃ :26-29)

کفار کے جرائم اور ان کی سزا

اس آیت میں ” والغوا “ کا لفظ ہے، اس کا مادہ لغو ہے، اس کا معنی ہے : بےفائدہ کلام جو اس لائق ہو کہ اس کو ساقط کردیا جائے، لغو کلام وہ ہوتا ہے جو ناقابل شمار ہو، بغیر غور و فکر کے جو کسی سے بات کی جائے اور وہ خرافات اور ہذیان پر مشتمل ہو، یا جھوٹے قصے کہانیاں جیسے کفار نے رستم اور اسفند یار کے قصے گھڑ رکھے تھے، جب مسلمان قرآن پڑھتے تھے تو وہ بلند آواز سے ایسی فضول باتیں سناتے، اشعار پڑھتے اور تالیاں بجاتے تاکہ قرآن پڑھنے والوں کو تشویش ہو، اس کا ذہن مضطرب ہو اور وہ بھول جائیں کہ وہ کیا پڑھ رہے تھے۔

ان کے لغو باتیں کرنے کی وجہ یہ تھی کہ اہل مکہ کو یہ معلوم تھا کہ قرآن مجید لفظی اور معنوی اعتبار سے کلام ہے اور جو شخص بھی اس کے الفاظ کی فصاحت اور بلاغت میں غور کرے گا اور اس کے معنی میں تدبر کرے گا تو اس کی عقل یہ فیصلہ کرے گی کہ یہ برحق کلام ہے اور کسی انسان یا جن کے بس میں ایسا کلام پیش کرنا ممکن نہیں ہے، یہ انسان کا نہیں اللہ کا کلام ہے، پھر جو شخص یہ کلام سنے گا وہ اپنے کفر پر قائم نہیں رہے گا، بلکہ فوراً اللہ تعالیٰ کی توحید پر اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت پر ایمان لے آئے گا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 41 فصلت آیت نمبر 26