أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَقَيَّضۡنَا لَهُمۡ قُرَنَآءَ فَزَيَّنُوۡا لَهُمۡ مَّا بَيۡنَ اَيۡدِيۡهِمۡ وَمَا خَلۡفَهُمۡ وَحَقَّ عَلَيۡهِمُ الۡقَوۡلُ فِىۡۤ اُمَمٍ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ مِّنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ‌ۚ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا خٰسِرِيۡنَ۞

ترجمہ:

اور ہم نے ان کے لیے کچھ ایسے ساتھی ان پر مسلط کردیئے تھے جنہوں نے ان کے لیے ان کے سامنے کے اور ان کے بعد کے امور کو ان کی نگاہوں میں خوش نمابنادیا تھا اور ان کے حق میں اللہ کا وہ قول ثابت ہوگیا جو ان سے پہلے جنات اور انسانوں کے گروہوں میں ثابت ہوچکا تھا اور بیشک وہ نقصان اٹھنے والوں میں سے تھے

قیض کا معنی

حٰم ٓ السجدۃ : ٢٥ میں فرمایا : ” اور ہم نے ان کے لیے کچھ ایسے ساتھی ان پر مسلط کردیئے تھے جنہوں نے ان کے لیے ان کے سامنے کے اور ان کے بعد کے امور کو ان کی نگاہوں میں خوش نمابنادیا تھا اور ان کے حق میں اللہ کا وہ قول ثابت ہوگیا جو ان سے پہلے جنات اور انسانوں کے گروہوں میں ثابت ہوچکا تھا اور بیشک وہ نقصان اٹھنے والوں میں سے تھے “

” قیضنا “ کا مادہ قیض ہے، قیض کا معنی ہے : انڈے کے اوپر والا چھلکا، جو انڈے کے ساتھ چپکا ہوا ہوتا ہے، اس مناسبت سے تقییض کا معنی ہے : کسی کو کسی کے ساتھ لگادینا، لازم کردینا، چمٹا دینا، مسلط کردینا، قیض کا معنی بدل اور عوض بھی ہے۔ اسی مناسبت سے بیع مقایضہ کا معنی ہے : وہ بیع جس میں سامان کا سامان کے عوض تبادلہ ہو۔

(المفردات ج ٥٣٢، مکتبہ نزار مصطفی، مکہ مکرمہ، ١٤١٨ ھ)

اس آیت کا معنی ہے : ہم نے جنات اور انسانوں میں سے بعض شیاطین کو ان کافروں کا دوست بنا کر ان پر مسلط کردیا جو ان کے لیے دنیا اور آخرت کی چیزوں کو خوش نما بنا کردکھاتے ہیں، دنیا کی چیزوں میں سے گناہوں کی لذتوں کو اور آخرت کی چیزوں میں سے حشر ونشر اور حساب و کتاب کے انکار کو پیش کرتے ہیں، جیسے کسی ملحد نے کہا : بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست، یعنی اے بابر ! عیش و عشرت میں زندگی گزارو کہ یہ جہاں دوبارہ نہیں آئے گا، سامنے کے امور سے مراد دنیا ہے اور بعد کے امور سے مراد آخرت ہے۔

جہادبالنفس اور جہاد اکبر کے متعلق احادیث

بعض مفسرین نے کہا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی شخص کے ساتھ خیر کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے ساتھ ایسے خیر خواہ ساتھی مسلط کردیتا ہے جو اس کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کی عبادت کی دعوت دیتے ہیں اور اس میں اس کی مدد کرتے ہیں اور جب اللہ تعالیٰ کسی شخص کے ساتھ شرکا ارادہ کرتا ہے تو اس کے ساتھ ایسے بدخواہ ساتھی مسلط کردیتا ہے جو اس کو اللہ تعالیٰ کے احکام کی مخالفت کی دعوت دیتے ہیں اور فسق وفجور میں اس کی مدد کرتے ہیں اور ان بدخواہ ساتھیوں میں سے لمہ شیطان (ہم زاد) ہے جو اس کو برے کاموں کے وسوسے ڈالتا رہتا ہے اور گناہ کرنے کی ترغیب دیتا رہتا ہے تاکہ انسان بالآخر دوزخ کے عذاب کا مستحق ہوجائے اور اس سے نجات اس طرح حاصل ہوسکتی ہے کہ انسان اپنے نفس امارہ اور اس کے احکا اور اس کی خواہشات کی مخالفت کرے اور اپنے نفس سے جہاد کرے۔

حدیث میں ہے، امام ابونعیم احمد بن عبداللہ اصفہانی متوفی ٤٣٠ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوذر (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا : کون سا جہاد افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا : تم اللہ عزوجل کی اطاعت میں اپنے نفس سے اور اس کی خواہشات سے جہاد کرو۔

علاء بن زیاد بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن عمر ابن العاص (رض) سے سوال کیا کہ مجاہدین میں سے کون افضل ہے ؟ انہوں نے کہا : جو شخص اللہ عزوجل کی اطاعت میں اپنے نفس سے جہاد کرے، سائل نے کہا : یہ آپ کا قول ہے یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے ؟ انہوں نے کہا : بلکہ یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے۔ (حلیۃ الاولیاء ج ٢ ص ٢٤٩ طبع قدیم، حلیۃ الاولیاء ج ٢ ص ٢٨٢، رقم الحدیث : ٢٢٣٣۔ ٢٢٣٢)

حضرت فضالہ بن عبید (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مجاہد وہ ہے جو اپنے نفس سے جہاد کرے۔ ایک روایت میں ہے : جو اللہ کے لیے یا اللہ کی کی اطاعت میں اپنے نفس سے جہاد کرے۔ (مسند احمد) (سنن ترمذی رقم الحدیث : ١٦٢١، مسند احمد ج ٦ ص ٢٢۔ ٢٠ طبع قدیم، مسند احمد ج ٣٩ ص ٣٧٥، رقم الحدیث : ٢٣٩٥١، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت، ٢٤٢١, ھ، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٤٦٢٤، المعجم الکبیر ج ١٨ رقم الحدیث : ٨٠٣۔ ٨٠٢، المستدرک ج ٢ ص ١٤٤۔ ٧٢، سنن سعید بن منصور رقم الحدیث : ٢٤١٤، مسند البزار رقم الحدیث : ٣٧٥٣ )

اور اسی معنی میں یہ حدیث مشہور ہے۔ علامہ علی متقی بن حسام الدین متوفی ٩٧٥ ھ لکھتے ہیں :

قدمتم خیر مقدم قدمتم من الجھاد الاصغر الی الجھاد الاکبر مجاھدۃ العبد ھواہ۔ (الدیلمی)

تم آئے ہو، تمہارا آنا مبارک ہے، تم جہاد اصغر سے جہاد اکبر کی طرف آئے ہو اور وہ بندہ کا اپنی خواہشات کے خلاف جہاد کرنا ہے، اس حدیث کو دیلمی نے روایت کیا ہے۔

حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے آزاد شدہ غلام بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق نے فرمایا : جو شخص اللہ کی اطاعت میں اپنے نفس پر غضب ناک ہوا، اللہ اس کو اپنے غضب سے مامون رکھے گا۔ (کنزالعمال ج ٤ ص ٦١٦، رقم الحدیث : ١١٧٧٨)

مشرکین کے متعلق اللہ تعالیٰ کا جو قول ثابت ہے اس کا بیان

نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : اور ان کے حق میں اللہ کا وہ قول ثابت ہوگیا جو ان سے پہلے جنات اور انسانوں کے گروہوں میں ثابت ہوچکا تھا “ اس قول سے مراد یہ آیات ہیں :

وتمت کلمۃ ربک لا ملئن جھنم من الجنۃ والناس اجمعین (ھود :119) اور آپ کے رب کی یہ بات پوری ہے کہ میں جنات اور انسانوں سب سے دوزخ کو بھردوں گا

ولو شئنا لا تینا کل نفس ھدھا ولکن حق القول منی لاملئن جھنم من الجنۃ والناس اجمعین (السجدۃ :13)

اور اگر ہم چاہتے تو ہر شخص کو ضرور ہدایت یافتہ بنادیتے، لیکن میرا یہ قول برحق ہے کہ میں ضرور بہ ضرور جہنم کو جنات اور انسانوں سے سب سے بھردوں گا

قال اخرج منھا امذئو ماقدحورا لمن تبعک منھم لا ملئن جھنم منکم اجمعین (الاعراف : 18)

فرمایا : (اے ابلیس ! ) تو یہاں سے ذلیل و خوار ہو کر نکل جا، ان میں سے جو شخص تیری پیروی کرے گا تو میں ضرور بہ ضرور تم سب سے جہنم کو بھردوں گا

اللہ تعالیٰ کے گناہ کا ارادہ کرنے کے متعلق امام رازی اور ابو علی جپائی کی معرکہ آرائی

اما فخر الدین محمد بن عمررازی متوفی ٦٠٦ ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

اس آیت میں فرمایا ہے : اور ہم نے ان کے لیے کچھ ایسے ساتھی ان پر مسلط کردیئے تھے جنہوں نے ان کے لیے ان کے سامنے کے اور ان کے بعد کے امور کو ان کی نگاہوں میں خوش نما بنادیا تھا “۔

ہمارے اصحاب نے اس آیت سے اس پر استدلال کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کافر سے کفر کا ارادہ فرماتا ہے، انہوں نے کہا : اس موقف کی تقریر اس طرح ہے کہ اللہ کو علم تھا کہ جب وہ کافروں کے لیے ایسے ساتھیوں کو ان پر مسلط فرمائے گا تو وہ ان کے لیے باطل کو خوش نما بنادیں گے اور ہر وہ شخص جو کوئی ایسا کام کرے جس پر لامحالہ ایک اثر مرتب ہوگا تو ضروری ہے کہ اس فعل فاعل اس اثر کا اردہ کرنیوالا ہو، پس ثابت ہوگیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کافروں کے لیے ایسے ساتھیوں کو ان پر مسلط کیا تو اس نے ان کافروں سے کفر کا ارادہ کیا۔ اس کا جبائی نے یہ جواب دیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں کا ارادہ کرے تو پھر کفار گناہ کرکے اللہ تعالیٰ کیا طاعت گزار ہوں گے، حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے والے ہیں۔ نیز اللہ تعالیٰ کافروں سے ان کے کفر اور معصیت کا ارادہ کیسے کرسکتا ہے، جب کہ اس نے خود فرمایا ہے :

وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون (الذرایت :56) اور میں نے جن اور انس کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں

اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ انسانوں سے صرف عبادت کا ارادہ کرتا ہے اور اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ انسانوں سے کفر اور معصیت کا ارادہ نہیں کرتا اور رہی یہ آیت تو اس میں اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ ہم نے کافروں کے لیے ان کے ساتھیوں کو ان پر اس لیے مسلط کیا ہے کہ وہ ان کے لیے دنیا اور آخرت کی چیزوں کو مزین اور خوش نما کریں، بلکہ یہ فرمایا ہے کہ ہم نے ان ساتھیوں کو ان کافروں پر مسلط کردیا تو انہوں نے ان کے لیے دنیا اور آخرت کی چیزوں کو مزین کردیا، بایں طور کہ ہر ایک نے دوسرے کی طرف اپنی جنس سے کوئی چیز نکالی۔ پس شوہر اور بیوی میں سے ایک کو دوسرے پر مسلط کردیا اور غنی کو فقیر کے لیے اور فقیر کو غنی کے لیے مسلط کردیا، پھر اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ ان میں سے بعض نے بعض دوسروں کے لیے گناہوں کو مزین کردیا۔

امام رازی نے جبائی کے رد میں پھر اپنی اس دلیل کو دہرایا ہے کہ جب ایک فاعل کو قطعی طور پر معلوم ہو کہ وہ کوئی کام کرے گا تو اس سے فلاں اثر برآمد ہوگا اور پھر وہ اس کام کو کرے تو اس کا لازماً یہی مطلب ہے کہ اس نے اس اثر کا ارادہ کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کو قطعی طور پر معلوم تھا کہ جب دو کافروں پر ان کے ساتھیوں کو مسلط کرے گا تو ہو ساتھی ان کو کفر اور گمراہی میں مبتلا کریں گے تو اس کا لازماً یہی مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے کفر اور گمراہی کا ارادہ کیا ہے اور جبائی نے اس کے جواب میں جو یہ کہا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان سے معاصی کا ارادہ کیا اور انہوں نے وہ معاصی کرلیے تو پھر وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت گزار ہوگئے، حالانکہ وہ اللہ کے نافرمان ہیں، جبائی کے اس جواب سے ہماری دلیل کا رد نہیں ہوتا، کیونکہ اگر کوئی شخص دوسرے کے ارادہ کے موافق کام کرنے سے اس کی اطاعت گزار ہوجائے تو اس سے لازم آئے گا کہ جب اللہ تعالیٰ بندوں کے ارادہ کے موافق افعال کو پیدا کرے تو اللہ تعالیٰ بندوں کا اطاعت گزار ہوجائے حالانکہ یہ بدابۃً باطل ہے، نیز ہم یہ کہتے ہیں کہ یہ الزام لفظی ہے کیونکہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ اطاعت سے اگر یہ مراد ہے کہ ارادہ کے موافق فعل کیا جائے تو جس طرح یہ لازم آرہا ہے کہ کافر اللہ کے اطاعت گزار ہوجائیں اسی طرح یہ بھی لازم آرہا ہے کہ اللہ بندوں کا اطاعت گزار ہوجائے اور اگر اطاعت سے کوئی اور معنی مراد ہے تو اس کو بیان کیا جائے تاکہ دیکھا جائے کہ وہ صحیح ہے یا نہیں۔ (تفسیر کبیرج ٩ ص ٥٥٨، دارحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٥ ھ)

امام رازی اور ابوعلی جبائی کے درمیان مصنف کا محاکمہ اور اللہ تعالیٰ کی تنزیہ اور تعظیم

امام رازی نے جبائی کی اس دلیل کا کوئی جواب نہیں دیا کہ اللہ تعالیٰ انسانوں کے گناہ کرنے کا ارادہ کیسے کرسکتا ہے جب کہ اللہ تعالیٰ نے یہ خود فرمایا ہے :

وماخلقت الجن والانس الا لیعبدون (الذرایت :56) اور میں نے جن اور انس کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں

دوسری بات یہ ہے کہ امام رازی کا بیان کردہ یہ قاعدہ صحیح ہے کہ جب کوئی فاعل ایسا فعل کرے جس پر لامحالہ ایک اثر مرتب ہو اور وہ اس چیز کے علم کے باوجود ایسا فعل کرے تو اس کا لازماً معنی یہ ہے کہ اس نے اس فعل کا ارادہ کیا ہے۔ لیکن حٰم ٓ السجدۃ ٢٥ پر اس قاعدہ کا اطلاق اور انطباق صحیح نہیں ہے، اس آیت میں فرمایا ہے : ” اور ہم نے ان کے لیے کچھ ایسے ساتھی مسلط کردیئے تھے جنہوں نے ان کے لیے ان کے سامنے کے اور ان کے بعد کے امور کو ان کی نگاہوں میں خوشنما بنادیا تھا “۔ کیونکہ اگر مثلا شیطان یا اس کے چیلوں نے انسانوں کے لیے دنیا میں گناہوں کو اور آخرت میں حشر ونشر کے انکار کو مزین کردیا ہے تو اس سے یہ کب لازم آتا ہے کہ انسان اس کے وسوسوں کو قبول کرلے، تمام انبیاء (علیہم السلام) اور اکثر صحابہ کرام، اولیاء اللہ اور اللہ کے نیک اور ثابت قدم بندوں کے لیے بھی شیطان دنیا کو اور اسکی پر معصیت لذتوں کو خوشنما بنا کر دکھاتا ہے لیکن وہ اس کے دام فریب میں نہیں آتے اور شیطان ناکام رہتا ہے، اور شیطان نے خود اعتراف کیا کہ وہ لوگوں کے سامنے گناہوں کو مزین کرے گا اور انہیں خوشنما بنا کر دکھائے گا لیکن اس کے باوجود وہ اللہ کے نیک بندوں کو راہ استقامت سے نہیں ہٹا کے گا، قرآن مجید میں ہے : قال رب بما اغویتنی لازینن لھم فی الارض ولا غوینھم اجمعین الا عبادک منھم المخلصین (الحجر : 39-40)

ابلیس نے کہا : اے میرے رب ! چونکہ تو نے مجھے گمراہ کیا ہے تو قسم ہے میں ضرور ان کے لیے زمین میں گناہوں کو مزین کروں گا اور ضرور ان سب کو گمراہ کروں گا ان میں سے ماسوا تیرے ان بندوں کے جو اصحاب اخلاص ہیں

اس آیت سے یہ واضح ہوگیا کہ شیطان جب انسانوں کے لیے گناہوں کو مزین کرتا ہے تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ انسان ضرور وہ گناہ کر بیٹھیں لہٰذا اللہ تعالیٰ نے جب کافروں کے لیے کچھ ایسے ساتھی مسلط کردیئے تھے جنہوں نے ان کے لیے گناہوں کو خوش نما بنادیا تھا تو یہ لازم اور ضروری نہیں تھا کہ وہ ان کے بہکانے میں آکر کفر یا گناہ کرلیتے اور یہ ایسا فعل نہیں ہے کہ اس کے نتیجہ میں وہ لازماً کفر یا گناہ کریں حتیٰ کہ یہ کہا جائے کہ جب اللہ کا علم تھا کہ وہ اس فعل کے بعد کفر کریں گے تو ثابت ہوا کہ اللہ نے ان کے کفر کا ارادہ کرلیا تھا۔

نیز اللہ تعالیٰ نے صرف کفر اور گمراہی کے داعی نہیں بھیجے، ایمان اور اطاعت کے داعی بھی بھیجے ہیں، اگر دنیا میں شیطان اور اس کے چیلوں کو مسلط کیا ہے تو ان کے وسوسوں کے ازالہ کے لیے انبیاء (علیہم السلام) اور اولیاء کرام کو بھی مقرر کیا ہے اور ہر انسان کے ساتھ نیکی کی ترغیب دینے کی ایک روح پیدا کی اور بُرائی کی تحریک کے لیے بھی ایک روح پیدا کی ہے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٨١٤)

و ھدینہ النجدین (البلد :10) اور ہم نے اس کو دونوں راستے دکھادیئے

ونفس وما سوھا فالھمھا فجورھا وتقوھا قد افلح من رکھا وقد خاب من دسھا (الشمس :7-10)

اور قسم ہے نفس کی اور اسکو درست بنانے کی پس اس کو اس کے برے کاموں کی اور برے کاموں سے اجتناب کی فہم عطا کی جس نے اپنے باطن کو صاف کرلیا وہ کامیاب ہوگیا اور جس نے اپنے آپ کو اللہ کی اطاعت میں نہ لایا وہ ناکام ہوگیا

سو اللہ تعالیٰ نے صرف یہ نہیں کیا کافر کے اوپر صرف شیطانی ساتھیوں کو مسلط کردیا کہ وہ اس کو گمراہ کرڈالیں بلکہ انبیاء (علیہم السلام) کو شیانی وسوسوں کے ازالہ کے لیے بھی بھیجا ہے تاکہ وہ اس کو ہدایت دیں، اگر شیاطین انسان کے سامنے گنوں کو مزین کرکے دکھاتے تو انبیا (علیہم السلام) اس کے سامنے ایمان اور نیکیوں کو مزین کرکے دکھاتے ہیں اور جس طرح انبیاء (علیہم السلام) کے نیکیوں کو مزین کرنے سے لازم نہیں آتا کہ انسان ضرور مومن اور صالح ہوجائے اسی اسی طرح شیطانوں کے گناہوں کو مزین کرنے سے لہ لاز نہیں آتا کہ کہ انسان ضرور کافر اور فاسق ہوجائے، اللہ تعالیٰ نے انسان کو خیر اور شر، ایمان اور کفر اطاعت اور معصیت کے دونوں راستے دکھا دیئے اور اس کو عقل اور فہم عطا کردی، وہ اپنے لیے جس چیز کو بھی اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے وہی چیز پیدا کردیتا ہے اور اسی اعتبار سے اس کو جزاء اور سزا ملتی ہے، بہرحال امام رازی نے اللہ تعالیٰ کے لیے گناہ کا ارادہ ثابت کرنے کے لیے جو بنیاد قائم کی تھی وہ منہدم ہوگئی، امام رازی نے جو یہ کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ بندوں کے کفر اور ان کے گناہوں کا ارادہ کرتا ہے یہ اس لیے غلط ہے کہ پھر اس نے ہدایت دینے کے لیے انبیاء اور رسل کیوں بھیجے، گناہوں پر ملامت اور مذمت کیوں کی، جزاء اور سزا کا نظام کیوں قائم کیا، اللہ تعالیٰ امام رازی کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، انہوں نے بہت سنگین بات کہی ہے اور اللہ ہی کے لیے حمد ہے۔

ہم اس سے پہلے الزمر : ٦٢ میں ” اللہ خالق کل شیء “ کی تفسیر میں بیان کرچکے ہیں کہ اصول یہ ہے کہ ہرچند کو ہر چیز کا خالق اللہ ہے۔ لیکن قبیح چیزوں کو خالق کرنے کا اللہ تعالیٰ کی طرف اسناد کرنا جائز نہیں ہے، اس لیے یہ کہا جائے گا کہ اللہ تعالیٰ ایمان اور اطاعت کا خالق ہے، لیکن یہ نہیں کہا جائے گا کہ وہ کفر اور معصیت کا خالق ہے، نیز اگر یہ کہا جائے گا کہ کافر کے کفر کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ کیا تھا تو اس سے منکروں اور ملحدوں کو یہ کہنے کا موقع ملے گا کہ جب کافر کے کفر کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ کیا تھا اور اس میں کفر اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا تھا تو پھر کافر کے کفر کرنے میں اس کا کیا قصور ہے اور پھر اس کفر کی سزادینے میں کیا اس پر ظلم نہیں ہے ؟

اس لیے صحیح یہی ہے اور اسی میں سلامتی ہے کہ یہ کہا جائے کہ ہر انسان خواہ وہ مومن ہو یا کافر وہ اپنے افعال میں آزاد اور مختار ہے، وہ جس فعل کو اختیار کرتا ہے اور جس کام کا ارادہ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس میں اسی فعل اور اسی کام کو پیدا کردیتا ہے اور اسی اعتبار سے وہ انسان جزاء اور سزا کا مستحق ہوتا ہے اور ازل میں اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ جب بندوں کو اختیار دیا جائے گا تو وہ اپنے اختیار سے کیا کریں گے اور کیا نہیں کریں گے۔

میں نے اس آیت کی تفسیر میں جو کچھ لکھا ہے اس سے امام رازی کی تغلیط یا تنقیص مقصود نہیں ہے۔ مقصود صرف احقاق حق اور ابطال باطل ہے، اللہ تعالیٰ کی تنزیہ اور تعظیم کو بیان کرنا ہے۔

وما توفیقی الا باللہ العلی العظیم، والحمدللہ رب العلمین۔

القرآن – سورۃ نمبر 41 فصلت آیت نمبر 25