اکیلی عورت

۔

عنوان : میں بھی کہتی تھی شادی کی کیا ضرورت؟

۔

27 جون رات 12 بجے ابوالحسن اصفہانی روڈ گلشن اقبال کراچی کے ایک فلیٹ نما مکان میں مَیْں اپنی زندگی کی 52 ویں سالگرہ کا کیک کاٹ رہی تھی ۔میرے آس پاس سناٹا تھا نہ رشتے دار تھے نہ دوست احباب ۔زندگی کی آخری سانسیں تھیں اور میری تنہائی تھی ۔

۔

تنہائیوں کی وحشتوں کا بسیرا تھا اور میں کسمپرسی سے دوچار تھی ۔دل بہلانے کےلئے کبھی کبھی لیاقت لائیبریری جاتی تھی ۔اُس دن لائیبریرین کی پرمیشن سے ایک کتاب ساتھ لےآئ تھی ۔

۔

رات کا سناٹا تھا اور مجھے نیند بھی نہیں آرہی تھی ،روم کی لائیٹ آن کی اور کتاب پڑھنے بیٹھ گئ ۔بڑھاپے اور نظر کی کمزوری کے باعث کتاب پڑھنے میں مشکل پیش آرہی تھی لیکن اِس کے سوا میرے پاس سکون حاصل کرنے ،دل بہلانے کا کوئی اور ذریعہ بھی نہیں تھا ۔کتاب کی ورق گردانی کرتے ہوئے اچانک میری نظر ایک پیراگراف پر ٹک گئ لکھاتھا!

۔

“جس عورت کا شوہر نہیں ہے وہ مسیکن ہے “

۔

اِس پیراگراف کے پڑھتے ہیں میں ماضی کے خیالات میں گم ہوگئی ۔وہ وقت جب میں 19 سال کی تھی اور ایک این جی او والی آنٹی کے کہنے پر میں نے خلع لی پھر اِس کے بعد میں اُس این جی او سے رلیٹڈ ہوگئ ۔

۔

ہماری این جی او کا بنیادی مقصد عورتوں کو مِس گائیڈ کرنا، معاشرے میں گھریلو زندگی اور میاں بیوی کے رشتے کے متعلق غلط باتیں پھیلانا تھا ۔

این جی او والی آنٹی نے مجھے بھی یہی سمجھایا تھا کہ شادی عورت کےلئے قیدخانہ ہے ۔شادی شوہر کی غلامی اور عمر بھر اُس کے خاندان کی خدمت کرنے کا نام ہے ۔شادی کے بعد عورت کی اپنی کچھ مرضی نہیں ہوتی بس نوکرانی بن کر شوہر کی غلامی کرتی رہے ۔۔

۔

این جی او والی آنٹی نے مجھے یہ بھی سمجھایا کہ ہم عورتیں کسی بھی طرح مردوں سے کم نہیں ہیں ہم جاب کرکے خود مختار زندگی گزار سکتی ہیں ۔آنٹی کی چکنی چپڑی باتوں میں آکر میں نے اپنا گھر برباد کردیا تھا اور خلع لےکر این جی او ورکر بن کر جاب کرنے لگی تھی۔

۔

جب تک جوانی تھی این جی او کےلئے کام کرتی رہی ۔این جی او میں جاب کےوقت ہمیں مختلف ورکشاپس کے ذریعے یہ ذہن دیا گیا کہ۔شوہر اور گھریلو زندگی عورت کی ترقی میں بنیادی رکاوٹ ہے۔عورت خود مختار ہے وہ کیا کھائے ،کیا پیئے، کیا پہنے، کیا دیکھے یہ سب اُس کی مرضی پر ڈپینڈ کرتا ہے شوہر کون ہوتا ہے روک ٹوک کرنے والا؟ گمراہ کن باتوں کے جھانسے میں آکر میری طرح کی اوربھی بہت سی عورتیں اِس گمراہی کے دلدل میں پھنس چکی تھیں ۔ہم لوگ دن میں جاب کرتے اور راتوں میں مختلف بڑے لوگوں، میڈیا پرسنس، سیاست دانوں، ججز، وکلاء،کالجز، یونیورسٹیوں کے اسٹوڈنٹس کے ساتھ راتیں گزارتے ۔ہم جن بڑے لوگوں کے ساتھ راتیں گزارتے اُن کی بیگمات کہیں اور کسی کے ساتھ راتیں گزار رہی ہوتیں ۔

۔

جوانی کب رخصتی ہوئ پتا ہی نہیں چلا ۔45 سال کی ایج میں این جی او والوں نے بھی جاب پر رکھنے سے معذرت کرلی ۔

۔

جوانی کی شوخیاں ختم ہوتے ہی سارے دوست بھی چھوڑ گئے ۔زبدگی کی جمع پونجی بھی تیزی سے ختم ہوتی جارہی ہے اب اللہ جانے آگے کیا ہوگا ۔

۔

اِنہی سوچوں میں گم تھی کہ کتاب کی اُسی عبارت پر دوبارہ نظر گئ “جس عورت کا شوہر نہیں وہ مسکین ہے “

۔

میں نے اپنے آپ سے پوچھا کہ عورت بغیر شوہر کے کیسے مسکین ہے؟

دل سے آواز آئ مسکین وہ ہے جس کے پاس کچھ بھی نہ ہو وہ دوسروں کا محتاج رہے ایسے ہی وہ عورت جس کا شوہر نہیں وہ بھی مسکین ہے ۔

میرے ضمیر نے مجھے جھنجھوڑ کر کہا! خود پر ہی غور کرلو بات سمجھ آئے گی کہ عورت بغیر شوہر کے کیسے مسکین ہے؟

۔

میں خود پر غور کرنے لگی کہ میں کیسے کسی کا محتاج ہوں یا میں کیسے کسی کا محتاج تھی؟

فکر کی وادیوں میں سرگرداں تھی کہ آواز آئ عورت کی فطرت نازونخروں کی مٹی سے گوندھی گئی ہے ۔شوہر والی عورت اپنے شوہر کو نخرے دکھاتی ہے، شوہر اُس کی ناز برداریاں اٹھاتا ہے جبکہ این ،جی ،اوز، شوبزنس، میڈیا سے تعلق رکھنے والی آنٹیاں کسی کو نخرے دکھانے سے محروم رہتی ہیں کیونکہ نخرے دکھائیں تو اُنہیں دوبارہ کوئی گھاس بھی نہیں ڈالے گا۔

۔

شوہر والیاں جب شوہر کے ساتھ سسرال سے میکے جاتی ہیں تو اُن کی خوشی دیدنی ہوتی ہے جبکہ این جی اوز اور مغربی تہذیب سے متاثر ہوکر بغیر نکاح کے کسی کے ساتھ سونے والی آنٹیاں اِس نعمت اور خوشی سے محروم رہتی ہیں یوں اس خوشی اور نعمت کے حوالے سے وہ محتاج ہیں، مسکین ہیں ۔

۔

عورت جب بناؤ سنگھار کرتی ہے تو شوہر اُس کی تعریفیں کرتا ہے۔عورت شوہر کی زبانی اپنی تعریف سنکر ایک خاص خوشی فیل کرتی ہے جب کہ بغیر نکاح کے کسی کےلئے بناؤ سنگھار کرنے والی تعلیم یافتہ جاھلات اِس خوشی سے محروم رہتی ہیں،ایسی جاھلات عورتیں سڑی ہوئی اُس مردار گوشت کی طرح ہیں جنہیں مُردار خور چیلیں چونچیں مارکر چھوڑ دیتی ہیں ۔

۔

ابتداء حمل سے لےکر بچے، بچیوں کی شادی ہونے تک ہر لمحہ ہرگھڑی عورت اپنے شوہر سے بچے کے حوالے سے کوئی نہ کوئی بات منوا رہی ہوتی ہے جبکہ بغیر نکاح کے کسی کی پیادہ بننے والیاں اِس نعمت سے محروم رہتی ہیں یوں وہ محتاج ومسکین ہیں ۔

۔

عورت دکھ اور تکلیف میں اپنے شوہر کے کندھے پر سر رکھ اپنا غم ہلکا کرتی ہے جبکہ شوبزنس ،میڈیا، این جی اوز کی جھانسے میں آکر بغیر نکاح کے بلی مروانے والیاں ہمدرد مخلص کندھے پر سر رکھنے سے محروم رہتی ہیں یوں وہ محتاج ومسکین ہیں ۔

رب نے فرمایا “وانکحوا الایامٰی منکم ” اپنے میں سے بےشوہر والیوں کی شادیاں کراؤ دنیا کی ہرشادی شدہ عورت اپنے ولی کی اجازت سے شادی کی اِس حکم پر عمل پیرا ہے جبکہ بغیر نکاح کے ٹیکسی پر بیٹھنے والیاں اس حکم پر عمل کرنے سے محروم ہیں یو وہ مسکین ہیں ۔

۔

میں آج سوچتی ہوں اے کاش میں این جی او والی آنٹی کے جھانسے میں آکر یہ نہ کہتی کہ شادی کرنے کی کیا ضرورت ۔

۔

✍️ ابوحاتم

27/6/2021/