أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلۡ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كَانَ مِنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ ثُمَّ كَفَرۡتُمۡ بِهٖ مَنۡ اَضَلُّ مِمَّنۡ هُوَ فِىۡ شِقَاقٍۢ بَعِيۡدٍ ۞

ترجمہ:

آپ کہیے کہ بھلا یہ بتائو کہ اگر یہ قرآن اللہ کی طرف سے نازل ہوا ہو اور تم نے اس کا کفر کیا ہو تو اس سے بڑھ کر اور کون گمراہ ہوگا جو مخالفت میں حق سے بہت دور چلاجائے

تفسیر:

قرآن پر ایمان لانے کی کافروں کو نصیحت

حٰم ٓ السجدۃ : 53 ۔ 52 میں فرمایا : آپ کہیے کہ بھلا یہ بتائو کہ اگر یہ قرآن اللہ کی طرف سے نازل ہوا ہو اور تم نے اس کا کفر کیا ہو تو اس سے بڑھ کر اور کون گمراہ ہوگا جو مخالفت میں حق سے بہت دور چلاجائے ہم عنقریب ان کو اپنی نشانیاں اطراف عالم میں بھی دکھائیں گے اور خود ان کے نفسوں میں بھی حتیٰ کہ ان پر منکشف ہوجائے گا کہ یہ قرآن برحق ہے، کیا ان کے لیے یہ کافی نہیں ہے کہ آپ کا رب ہر چیز پر گواہ ہے “ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین پر یہ حجت قائم کی ہے کہ تم لوگ جب بھی قرآن مجید کو سنتے ہو تو اس سے اعراض کرلیتے ہو اور اس میں غور و فکر نہیں کرتے اور توحید کو قبول کرنے سے گھبراتے ہو اور دور بھاگتے ہو اور یہ تو واضح بات ہے کہ بداہت عقل یہ نہیں کہتی کہ قرآن مجید منزل من اللہ نہیں ہوسکتا اور نہ بداہت عقل یہ کہتی ہیں کہ اللہ واحد نہیں ہے اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے رسول نہیں ہیں، پس دلیل سے قطع نظر یہ بات صحیح ہو بھی سکتی ہے اور نہیں بھی، پھر جب قرآن مجید کا اللہ کی طرف سے نزول ہوسکتا ہے تو پھر تم اس کا انکار کیوں کرتے ہو اور اس کے انکار پر اصرار کرکے اللہ تعالیٰ کے عظیم عذاب کے مستحق کیوں ہوتے ہو، پھر تم کو چاہیے کہ اس معاملہ میں غور و فکر کرو، اگر دلائل سے یہ ثابت ہو کہ قرآن مجید اللہ کا کلام نہیں ہے تو تم اس کو ترک کردو اور اگر دلائل سے یہ ثابت ہو کہ قرآن مجید اللہ کا کلام ہے تو پھر تم اپنی ضد چھوڑ دو اور اس سے اعراض کرنیکو اور اس کے ترک پر اصرار کرنے کو ترک کردو۔

انسان کے اپنے نفسوں میں اور اس کائنات میں اللہ کی قدرت کی نشانیاں

اور اس آیت میں فرمایا ہے : ہم عنقریب ان کو اپنی نشانیاں اطراف عالم میں بھی دکھائیں گے اور خود ان کے نفسوں میں بھی حتیٰ کہ ان پر منکشف ہوجائے گا کہ یہ قرآن برحق ہے “۔ امام رازی نے واحدی سے نقل کیا ہے کہ افاق افق کی جمع ہے اور افق آسمان اور زمین کے کناروں کو کہتے ہیں۔ (تفسیر کبیر ٩ ص ٥٧٣، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٥ ھ)

آفاق سے مراد ہے : آسمانوں اور ستاروں کی نشانیاں اور دن اور رات کی نشانیاں اور روشنیوں اور اندھیروں کی نشانیاں اور ان میں سے اکثر کا قرآن مجید میں ذکر ہے اور اپنے نفسوں سے مراد یہ ہے کہ انسان اپنی ماں کے رحم میں کس طرح نطفہ، مضعہ اور ہڈیوں کی تشکل کے مراحل سے گزر کر پیکر انسان میں ڈھلتا ہے، پھر کس طرح دودھ پیتا بچہ ہوتا ہے، پھر کم سن لڑکا ہوتا ہے، پھر بالغ مرد، پھر جوان، پھر ادھیڑعمر کا، پھر بوڑھا اور پھر خاک کا ڈھیر بن جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں میں جو عجائب اور اپنی قدرت کی نشانیاں رکھی ہیں وہ غیر متناہی ہیں اور اللہ تعالیٰ انسان کو ان عجائب پر یومافیوما مطلع فرماتا رہتا ہے اور دن بہ دن انسان کو نئے نئے حقائق معلوم ہوتے رہتے ہیں، ایک زمانہ تھا جب یہ معلوم نہیں تھا کہ شوگر اور بلڈپریشر کیا مرض ہے، یہ انسان کو کیسے لاحق ہوتا ہے اور اس کا کیا علاج ہے اور کیا پرہیز ہے، پھر رفتہ رفتہ یہ حقائق معلوم ہوگئے، پھر ایک زمانہ تھا جب تپ دق کا علاج معلوم نہ تھا، اب اس کا علاج دریافت ہوگیا ہے۔ پہلے چیچک کا علاج معلوم نہیں تھا، اب پاکستان سے چیچک ختم کردی گئی ہے، اگر بچہ ماں کے پیٹ میں آڑا ہو تو پہلے وضح حمل کی کسی صورت کا علم نہیں تھا اور ماں اور بچہ دونوں مرجاتے تھے، اب سرجری کے ذریعہ اس کا علاج ہورہا ہے، اگر دل کی چاروں شریانیں بلاک ہوجائیں تو پہلے اس کا علاج ممکن نہیں تھا، اب معلوم ہوا کہ انسان کی پنڈلیوں میں کچھ شریانیں زائد ہوتی ہیں جنہیں پنڈلیوں سے نکال کر دل کی شریانوں کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے، اس کو آپریشن بائی پاس کہتے ہیں اور ایسی بہت مثالیں ہیں۔ کینسر اور ایڈز کا علاج ابھی تک دریافت نہیں ہوسکا ہے۔ ہوسکتا ہے آئندہ اس کا علاج دریافت ہوجائے، اسی طرح پہلے یہ معلوم نہیں تھا کہ ہوا کہاں تک ہے اور چاند زمین سے کتنے فاصلہ پر ہے، اب یہ معلوم ہوگیا کہ دو سومیل تک ہوا ہے کہ اس کے بعد ہوا نہیں ہے، اسی وجہ سے خلا نورد اپنے ساتھ آکسیجن کی تھلیاں لے کر جاتے ہیں اور اب یہ معلوم ہوگیا کہ چاند زمین سے پونے دو لاکھ میل کے فاصلہ پر ہے۔ پہلے لوگ سمجھتے تھے کہ خلا محال ہے، اب ثابت ہوگیا ہے کہ خلا ایک حقیقت ہے اور یہ بھی معولم ہوگیا کہ اشیاء کا وزن زمین کی کشش کی وجہ سے ہوتا ہے اور خلا میں کسی چیز کا کوئی وزن نہیں ہوتا، زمین کی رفتار اور سورج اور چاند کی رفتار سے پہلے سے معلوم ہوجاتا ہے کہ سورج یا چاند کو گرہن کس تاریخ کو لگے گا اور کتنی دیر گہن لگا رہے گا اور دنیا کے کس کس حصے میں اور کس کس شہر میں کتنی دیر دیکھا جاسکے گا، غرض یہ کہ زمین اور آسمان کے متعلق، سیاروں اور ستاروں کے متعلق جو پہلے ہمیں سائنسی آلات کے ذریعہ بچے کے پیدا ہونے سے پہلے معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ مذکر ہے یامؤنث ہے، یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ لنگڑا، لولا یا اپاہج ہوگا یا کسی خطرناک بیماری کا حامل ہوگا۔ انسان کے جبم میں جو سیال خون ہے اس کے ٹیسٹ کے ذریعہ معلوم ہوجاتا ہے کہ اس میں کون کون سی بیماریاں ہیں، غرض ہمیں اس عالم کبیر (خارجی کائنات) اور عالم صغیر (خودنفس انسان) کے متعلق دن بہ دن نئے نئے حقائق معلوم ہورہے ہیں۔

قرائن عقلیہ اور شواہد کے خلاف شہادت کا غیر معتبر ہونا

سائنسی علوم کے ذریعہ چاند کی رئویت اور پہلی تاریخ کے تعین میں بھی مدد ملتی ہے اور اس سے ہمیں شہادتوں کے پرکھنے کا بھی موقع ملتا ہے کہ یہ شہادت بچی ہے یا جھوٹی ہے، جب سائنسی آلات کے ذریعہ یہ معلوم ہوجائے کہ آج چان کی تولید نہیں ہوئی ہے اور اس کی رئویت ممکن نہیں ہیں اور مطلع بالکل صاف ہو اور پورے ملک میں کہیں چاند نظر نہ آیا ہو اور ایسے میں چندآدمی یہ گواہی دے دیں کہ ہم نے چاند دیکھا ہے تو ان کی گواہی جھوٹی ہوگی اور سائنسی تحقیقات کے خلاف ان کی گواہی کا شرعاً اعتبار نہیں کیا جائے گا کیونکہ قرائن اور شواہد کے خلاف جو گواہی دی جائے وہ شرعاً معتبر نہیں ہوتی۔ علامہ ابن قیم جو زیہ (متوفی ٧٥١ ھ) نے اس مسئلے پر کافی بحث کی ہے اور دلائل سے یہ ثابت کیا ہے کہ عقلی شواہد اور دلائل کے خلاف گواہوں کی گواہی کا شرعاً اعتبار نہیں کیا جائے گا۔ علامہ ابن قیم جو زیہ کی چند عبارات ملاحظہ فرمائیں۔

(١) ہمیشہ سے ائمہ اور خلفاء اس صورت میں چور کا ہاتھ کاٹنے کا فیصلہ کرتے رہے ہیں جب اس شخص سے مال برآمد ہوجائے جس پر چوری کا الزام ہو اور یہ قرینہ گواہوں اور اقرار سے زیادہ قوی ہے۔ کیونکہ گواہوں میں صدق اور کذب کا احتمال ہے اور جب چور کے پاس سے مال برآمد ہوجائے تو یہ نص صریح ہے جس میں کوئی شبہ نہیں۔ (الطرق الحکمیہ ص ٦، دارالکتب ص ٦، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤١٥ ھ)

(٢) بہت سے قرائن اور علامتیں انکار قسم سے زیادہ قوی ہوتی ہیں تو ان کا معطل کرنا کس طرح جائز ہوگا۔ (الطرق الحکمیہ ص ٦)

(٣) اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ گواہوں کے علاوہ دوسرے دلائل گواہی سے زیادہ قوی ہوتے ہیں، جیسے وہ حال جو صدق مدعی پر دلالت کرتا ہو کیونکہ وہ گواہ کی خبر سے زیادہ قوی دلیل ہے۔ اس پر دلیل یہ ہے کہ امام ابودائود اور دیگر ائمہ نے حضرت جابر (رض) سے روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے خیبر کی طرف سفر کا اردہ کیا، جب میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور میں نے عرض کیا کہ میرا خیبر کی طرف جانے کا ارادہ ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم میرے وکیل کے پاس جائو تو اس سے ١٥ وسق کھجوریں لے لینا (ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے اور ایک صاع چار کلو کا ہوتا ہے) اور جب وہ تم سے کوئی نشانی طلب کرے تو تم اپنا ہاتھ اپنے گلے پر رکھ دینا۔ الحدیث (سنن ابودائود رقم الحدیث : ٣٦٣٢، سنن بیہقی ج ٦ ص ٨٠، مشکوٰۃ رقم الحدیث : ٢٩٣٥) اس میں یہ دلیل ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے علامات اور قرائن کو گواہی کے قائم مقام قرار دیا ہے، پس شارع علیہ الصلوٰۃ السلام نے قرائن، علامات اور دلائل احوال کو لغو قرار نہیں دیا بلکہ ان پر احکام شرع کو مرتب کیا۔ (الطرق الحکمیہ ص ١٠)

(٤) نیز اس سلسلہ میں علامہ ابن قیم جو زیہ نے اس حدیث سے بھی استدلال کیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کو قتل کرنے کا حکم دیا جس پر یہ الزام تھا کہ اس نے آپ کی ام ولد سے زنا کیا ہے اور جب یہ معلوم ہوگیا کہ وہ خصی ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس حکم پر عمل کرنے کو ترک کردیا۔ (الطرق الحکمیہ ص ١٠)

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حرم محترم کا تہمت سے بری ہونا

علامہ ابن قیم جو زیہ نے جس حدیث کا حوالہ دیا ہے وہ یہ ہے : حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ام ولد کے ساتھ مہتم کیا جاتا تھا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) سے کہا : جائو اس کی گردن اڑادو، حضرت علی (رض) اس کے پاس گئے تو وہ ٹھنڈک حاصل کرنے کے لیے ایک کنویں میں غسل کررہا تھا، حضرت علی (رض) نے اس سے کہا : نکلو اور اپنے ہاتھ سے پکڑ کر اس کو نکالا، دیکھا تو اس کا عضو تناسل کٹا ہوا تھا، پھر حضرت علی اس کو قتل کرنے سے رک گئے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں جاکر یہ واقعہ عرض کیا اور کہا : یارسول اللہ ! اس کا عضو تناسل تو کٹا ہوا ہے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٧٧١، مسند احمد ج ٣ ص ٢٢١ طبع قدیم، مسند احمد ج ٢١ ص ٤٠٥، رقم الحدیث : ١٣٩٨٩، مؤسستہ الرسالۃ، بیروت، ١٤١٩ ھ، المستدرک ج ٤ ص ٤٠۔ ٣٩) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جس ام ولد کا ذکر ہے وہ حضرت ماریہ قبطیہ تھیں، جن سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صاحب زادے حضرت ابراہیم پیدا ہوئے تھے۔ (الطبقات الکبریٰ ج ٨ ص ١٧٢، دارالکتب العلمیہ، بیروت)

علامہ یحییٰ بن شرف نواوی متوفی ٦٧٦ ھ اس کی شرح میں لکھتے ہیں :

وہ شخص منافق تھا اور کسی وجہ سے قتل کا مستحق تھا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے نفاق یا کسی اور سبب سے اس کے قتل کا حکم دیا تھا نہ کہ زنا کے سبب اور حضرت علی (رض) یہ سمجھ کر اس کے قتل سے رک گئے کہ آپ نے اس کے زنا کی وجہ سے اس کے قتل کا حکم دیا تھا اور ان کو یقین ہوگیا تھا کہ اس نے زنا نہیں کیا ہے۔ (شرح مسلم للنووی ج ٢ ص ٣٦٨، اضح الطابع، کراچی، ١٣٧٥ ھ) میں کہتا ہوں کہ علامہ نووی اور دیگر شارحین کا یہ لکھناصحیح نہیں ہے کہ آپ نے اس کے نفاق یا کسی اور سبب سے اس کے قتل کا حکم دیا تھا نہ کو زنا کے سبب سے، کیونکہ اگر یہ وجہ ہوتی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت علی (رض) کو دوبارہ اس کو قتل کرنے کے لیے بھیجتے اور صحیح یہی ہے کہ اس شخص پر تہمت تھی کہ اس نے حضرت ماریہ سے زنا کیا ہے اور آپ کے نزدیک یہ بات گواہوں سے ثابت ہوگئی تھی، اس لیے آپ نے حضرت علی کو اس کو قل کرنے کے لیے بھیجا۔ قاضی عیاض بن موسیٰ مالکی متوفی ٥٤٤ ھ، علامہ ابی مالکی متوفی ٨٢٨ ھ اور علامہ سنوسی مالکی متوفی ٨٩٥ ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں : لوگوں نے اس شخص پر حضرت ماریہ قبطیہ کے ساتھ زنا کی تہمت لگائی اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس شخص کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا، اس تہمت کا بھی کوئی سبب ہون ا چاہیے اور اس کو قتل کرنے کی وجہ بھی ہونی چاہیے، تہمت کی وجہ یہ ہے کہ وہ شخص قبطی تھا اور چونکہ حضرت ماریہ بھی قبطیہ تھیں اس لیے ہم جنس اور ہر زبان ہونے کی وجہ سے وہ دونوں ایک دوسرے سے ملتے جلتے تھے اور ایک دوسرے سے باتیں بھی کرتے تھے، اس وجہ سے لوگوں نے اس پر تہمت لگا دی اور رہی اس کو قتل کرنے کی وجہ تو امام رازی نے یہ کہا ہے کہ اس حدیث میں اس کو ساقط کردیا گیا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ممکن ہے آپ کے نزدیک گواہوں سے یہ ثابت ہوگیا ہو کہ اس شخص نے حضرت ماریہ کے ساتھ زنا کیا ہے، اس لیے آپ نے حضرت علی کو حکم دیا کہ وہ اس کو قتل کردیں۔ لیکن جب حضرت علی نے دیکھا کہ اس کا عضو کٹا ہوا ہے تو انہوں نے اس کو قتل نہیں کیا اور اس پورے واقعہ میں حکمت یہ تھی کہ یہ ظاہر ہوجائے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حرم اور آپ کی ام ولد اس تہمت سے بری ہیں (جیسے حضرت عائشہ (رض) پر منافقوں نے حضرت صفوان بن معطل (رض) کے ساتھ تہمت لگائی تھی حالانکہ حضرت صفوان نے بعد میں بتایا کہ وہ نامرد ہیں اور اس فعل کے اہل ہی نہیں ہیں۔ صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٧٥٧، سنن ابودائود رقم الحدیث : ٢١٣٨، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٩٧٠) اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ نے حقیقتاً اس کو قتل کرنے کا حکم نہ دیا ہو اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ علم ہو کہ اس کا آلہ کٹا ہوا ہے اور آپ نے حضرت علی (رض) کو اس لیے اس کے قتل کا حکم دیا ہو تاکہ اس کا معاملہ منکشف ہوجائے اور آپ کے حرم سے تہمت دور ہوجائے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ کی طرف وحی کی گئی ہو کہ حضرت علی (رض) اس کو قتل نہیں کریں گے اور حضرت علی پر اس شخص کا نااہل ہونا منکشف ہوجائے، جیسا کہ اس کنویں میں اس کو برہنہ دیکھنے سے حضرت پر منکشف ہوگیا اور باوجود علم کے آپ نے حضرت علی کو اس لیے حکم دیا تھا تاکہ حضرت علی بھی اس چیز کو دیکھ لیں اور ان کے نزدیک بھی آپ کی حرممحترم حضرت ماریہ قبطیہ (رض) کی اس تہمت سے برأت ثابت ہوجائے۔ (اکمال المعلم بفوائد مسلم ج ٨ ص ٣٠٤، دارا الوفاء، بیروت، ١٤١٩ ھ، اکمال اکمال المعلم ج ٩ ص ٢١٧۔ ٢١٦، معلم اکمال الاکمال علی ھامش شرح الابی ج ٩ ص ٢١٧۔ ٢١٦، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤١٥ ھ)

قاضی عیاض مالکی کی شرح کی تائید امام محمد بن سعد متوفی ٢٣٠ ھ کی اس روایت میں ہے :

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابراہیم (رض) کی والدہ جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کنیز تھیں ان کے بالا خانے میں ایک قبطی آیا کرتا تھا، وہ پانی اور لکڑیاں لاکر دیتا تھا، لوگ اس کے متعلق چہ مہ گوئیاں کرنے لگے کہ ایک عجمی مرد عجمی عورت کے پاس آتا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک یہ بات پہنچی تو آپ نے حضرت علی بن ابی طالب کو بھیجا، اس وقت وہ قبطی ایک کھجور کے درخت پر چڑھا ہوا تھا، اس نے جب حضرت علی کے ہاتھ میں تلوار دیکھی تو وہ گھبرا گیا اور گھبراہٹ میں اس کا تہبند کھل کر گرگیا اور وہ عریاں ہوگیا، حضرت علی نے دیکھا، اس کا آلہ کٹا ہوا تھا، پھر حضرت علی (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گئے اور آپ کو اس واقعہ کی خبر دی اور کہا : یارسول اللہ ! جب آپ ہم میں سے کسی شخص کو کسی کام کا حکم دیں، پھر وہ شخص اس کام میں اس کے خلاف کوئی، معاملہ دیکھے تو کیا وہ شخص آپ کے پاس (وہ کام کیے بغیر) واپس آجائے ؟ آپ نے فرمایا، ہاں ! پھر حضرت علی نے بتایا کہ انہوں نے دیکھا کہ اس قبطی کا تو آلہ کٹا ہوا تھا، حضرت انس نے کہا : پھر حضرت ماریہ (رض) کے ہاں حضرت ابراہیم (رض) کی ولادت ہوئی، پھر حضرت جبریل (علیہ السلام) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور کہا : السلام علیک اے ابوابراھیم ! تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مطمئن ہوگئے (کہ حضرت ماریہ پاک دامن ہیں اور ان سے آپ ہی کے بیٹے کا تولد ہوا ہے) ۔ (الطبقات الکبریٰ ج ٨ ص ١٧٢، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤١٨ ھ) ہرچند کہ مسلم کی روایت میں ہے کہ وہ قبطی کنویں میں نہارہا تھا اور امام ابن سعدی کی روایت میں ہے کہ وہ کھجور کے درخت پر تھا، لیکن بنیادی چیز میں دونوں روایتیں متحد ہیں کہ اس قبطی کی وجہ سے لوگوں نے حضرت ماریہ کو متہم کیا تھا اور لوگوں نے اس کے خلاف نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے شہادت دی جیسا کہ شارحین نے ذکر کیا ہے اور اس وجہ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی کو حکم دیا کہ وہ اس کو قتل کرکے آئیں اور اس موقع پر حضرت علی نے اس کو برہنہ دیکھ لیا اور معلوم ہوگیا کہ اس کا آلہ کٹا ہوا ہے اور اس سے حضرت ماریہ قبطیہ (رض) کی براءت ثابت ہوگئی۔ تاہم ان دونوں حدیثوں سے یہ امر ثابت ہوگیا کہ جب کوئی شہادت قرائن اور شواہد کے خلاف ہو تو اس شہادت کا شرعاً اعتبار نہیں کیا جاتا، فقہاء اسلام بھی اس امر پر متفق ہیں کہ اگر گواہوں کی گواہی قرائن اور شواہد کے خلاف ہو تو اس کا شرعاً اعتبار نہیں ہوگا۔ فقہاء اسلام کی تصریحات حسب ذیل ہیں۔

قرائن عقلیہ اور شواہد کے خلاف شہادت کی غیر معتبر ہونے کے متعلق فقہاء اسلام کی تصریحات

علامہ ابن قدامہ حنبلی (متوفی ٦٢٠ ھ) نے لکھا ہے کہ امام ابو حنیفہ، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل کا یہ موقف ہے کہ اگر چار گواہ یہ گواہی دیں کہ فلاں عورت نے زنا کیا لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ وہ عورت کنواری ہے تو اس پر حد نہیں لگائی جائے گی۔ اسی طرح اگر چار گواہ یہ گواہی دیں کہ فلاں شخص نے زنا کیا ہے لیکن بعد میں یہ معلوم ہوا کہ اس کا آلہ کٹا ہوا ہے تو اس پر حد نہیں لگائی جائے گی۔ (المغنی ج ٩ ص ٧١، دارالفکر، بیروت، ١٤٠٥ ھ) فقہا شافعیہ کی تصریحات حسب ذیل ہیں : علامہ ابوالحسن علی بن محمد الماوردی الشافعی المتوفی ٤٥٠ ھ لکھتے ہیں :

المزنی نے کہا ہے کہ امام شافعی حمہ اللہ نے فرمایا : اگر چار آدمیوں نے کسی عورت کے خلاف زنا کی شہادت دی اور چار نیک عورتوں نے یہ بتایا کہ وہ کنواری ہے تو اس پر حد نہیں لگائی جائے گی۔ (الحاوی الکبیر ج ١٧ ص ٨١، دارالفکر، بیروت، ١٤١٤ ھ) فقہاء احنفا نے اپنی متعدد کتب میں یہ لکھا ہے کہ کسی عورت کے خلاف چار مردوں نے گواہی دی کہ اس نے زنا کیا ہے پھر بعد میں ثابت ہوگیا کہ وہ کنواری ہے تو اس پر حد نہیں لگائی جائے گی۔ اسی طرح اگر کسی مرد کے خلاف چار مردوں نے گواہی دی کہ اس نے زنا کیا ہے پھر بعد میں ثابت ہوا کہ اس کا آلہ کٹا ہوا ہے تو اس پر حد نہیں لگائی جائے گی، یہ تصریحات فقہاء احناف کی درج ذیل کتب میں مذکور ہیں۔ (المبسوط ج ١٠ ص ٥٧، ہدایہ اولین ص ٥٢٢، الفتاویٰ الولواجیہ ج ٢ ص ٢٣٩، المحیط ابرھانی ج ٥ ص ١٤٦، فتح القدیر ج ٥ ص ٢٧٣، البحر الرائق ج ٥ ص ٢٢، تبیین الحقائق ج ٣ ص ٥٩٨، فتاویٰ شامی ج ٤ ص ٤٢، مجمع الانھر ج ٢ ص ٣٥٥، اعلاء السنن ج ١١ ص ٦٥٤، النھر الفائق ج ٣ ص ٣٤٥، البنایہ ج ٦ ص ٢٨٧، حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختارج ٢ ص ٤٠٠، عالم گیری ج ٢ ص ١٥٣ )

فقہاء اسلام کی ان تصریحات سے واضح ہوگیا کہ جب کوئی شہادت قرائن عقلیہ اور شواہد کے خلاف ہو تو اس کا شرعاً اعتبار نہیں ہوگا، اسی طرح اگر ماہرین فلکیات اور محکمہ موسمیات والے بتائیں کہ آج چان کی تولید نہیں ہوئی ہے اور اس کی رئویت ممکن نہیں ہے اور چند آدمی یہ گواہی دیں کہ ہم نے چاند کو دیکھا ہے تو ان کی گواہی مردود ہوگی۔

اسی طرح اس مسئلہ پر عقلی دلیل یہ ہے کہ : اگر کسی مقتول کے پاس ایک شخص پستول بدست کھڑا ہو اور دو گواہ یہ گواہی دیں کہ اس نے پانے پستول سے فائر کرکے اس کو ہلاک کیا ہے اور بعد میں پوسٹ مارٹم کی رپورٹ یہ ہو کہ اس مقتول کے جسم سے جو گولی برآمد ہوئی ہے، وہ اس کے پستول سے نہیں چلائی گئی تو ان گواہوں کی گواہی جھوٹی قرار پائے گی اور اس شخص کو رہا کردیا جائے گا۔

اس ضمنی بحث کے بعد اب ہم پھر اصل تفسیر کی طرف لوٹ رہے ہیں۔

آفاق اور انفس کی نشانیوں کا تجزیہ

اس آیت میں جو فرمایا ہے : ہم عنقریب ان کو اپنی نشانیاں آفاق میں بھی دکھائیں اور خود ان کے نفسوں میں “۔ اس آیت سے حسب ذیل مسائل معلوم ہوتے ہیں اور حسب ذیل فوائد مستنبط ہوتے ہیں :

(١) مخلوق اس وقت تک اللہ کی نشانیوں کو از خود نہیں دیکھ سکتی جب تک کہ اللہ تعالیٰ اس کو اپنی نشانیاں نہ دکھائے۔

(٢) اللہ تعالیٰ نے آفاق کو پیدا کیا اور انسان کو اپنی آیات کا مظہر بنایا۔

(٣) انسان کو نفس اللہ تعالیٰ کی آیات کی مظہریت کے لیے آئنہ ہے اور جب اللہ تعالیٰ انسان کو اپنی نشانیاں دکھانا چاہتا ہے تو اس کے نفس میں اپنی نشانیاں دکھا دیتا ہے۔

(٤) عوام کے اعتبار سے جب انسان کائنات میں بار بار دن اور رات کے توارد کو دیکھتا ہے، اسی طرح اس کائنات میں واقع اور حادث ہونے والی چیزوں کو دیکھتا ہے اور اپنے اندر تغیرات کو دیکھتا ہے کہ وہ پیدا ہوا، پھر اس پر بچپن آیا، پھر جوانی آئی، پھر بڑھاپا آیا، اس سے اس پر یہ منکشف ہوجاتا ہے کہ وہ خود بھی حادث ہے اور یہ سارا جہان بھی حادث ہے اور ہر حادث کا کوئی پیدا کرنے والا ہوتا ہے اور انسان کو اپنی زندگی کا یکساں نظام اور اس کائنات کے نظام کی وحدت یہ بتاتی ہے کہ اس کائنات کا ناظم اور خالق واحد ہے۔

(٥) خواص کے اعتبار سے جب وہ اپنے قلوب پر مشاہدہ حق کی مختلف تجلیات دیکھتے ہیں اور ان پر قبض اور بسط کی مختلف تجلیات وارد ہوتی ہیں، کبھی ان قلوب پر حجاب اور ستر ہوتا ہے اور کبھی تجلی اور انکشاف ہوتا ہے اور کبھی اللہ تعالیٰ ان پر غیب کے اسرار کھول دیتا ہے اور کبھی ان کے دلائل اور براہین کا مطالعہ کراتا ہے، تو ان کو اس میں شک نہیں رہتا کہ اللہ ہی ہر چیز کا خالق ہے۔

(٦) اور اخص الخواص کے اعتبار سے نفس کا بشری حجابات کے اندھیروں سے اللہ تعالیٰ کی ذات کی تجلیات اور اس کی صفات کے جلال اور جمال کی روشنی کی طرف نکلنا ہے، اسی لیے فرمایا :” کیا ان کے لیے یہ کافی نہیں ہے کہ ان کا رب ہر چیز پر شہید (گواہ) ہے “ یعنی اس نے اپنی قدرت کی نشانیاں دکھا کر اپنی ذات اور صفات سے حجابات دور کردیئے ہیں اور ہر چیز پر اللہ کے گواہ ہونے پر جو غفلت اور جہالت کے پردے پڑے ہوئے تھے ان پردوں کو اٹھا دیا ہے اور ان کو اس میں کوئی شک نہیں رہے گا کہ ہر چیز اللہ تعالیٰ کی قدرت میں ہے اور وہ ہر چیز کو محیط ہے اور حدیث میں ہے :

حضرت نعمان بن بشیر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب اللہ کی کسی چیز کے لیے تجلی فرماتا ہے تو وہ چیز اس کے سامنے عاجزی کرتی ہے۔ (سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٢٦٢، مسند احمد ج ٤ ص ٢٦٩، سنن ابودائود رقم الحدیث : ١١٩٣، صحیح ابن خزیمہ رقم الحدیث : ١٤٠٣)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 41 فصلت آیت نمبر 52