أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

كَذٰلِكَ يُوۡحِىۡۤ اِلَيۡكَ وَاِلَى الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِكَۙ اللّٰهُ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ ۞

ترجمہ:

اللہ بہت غالب اور بہت حکمت والا ہے، وہ اسی طرح آپ کی طرف اور آپ سے پہلے رسولوں کی طرف وحی نازل فرماتا رہا ہے

وحی کا لغوی اور اصطلاحی معنی

الشوریٰ : ٣ میں فرمایا : ” اللہ بہت غالب اور بہت حکمت والا ہے، وہ اسی طرح آپ کی طرف اور آپ سے پہلے رسولوں کی طرف وحی نازل فرماتا رہا ہے “۔

یعنی جس طرح اس سورت میں آیات کو بیان کیا گیا ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ تمام سورتوں میں آیات کو بیان فرمائے گا اور اسی طرح اللہ تعالیٰ پہلے رسولوں کی طرف بھی اپنی آیات کی وحی نازل فرماتا رہا ہے۔

اس آیت میں وحی کا لفظ ہے، ہم اس کی تفسیر میں وحی کا لغوی اور اصطلاحی معنی اور وحی کے متعلق احادیث ذکر کریں گے۔

وحی کا لغوی معنی ہے : خفیہ طریقہ سے خبر دینا، نیز وحی کا معنی ہے اشارہ کرنا، لکھنا، پیغام دینا، الہام کرنا اور پوشیدہ طریقہ سے کلام کرنا۔

اور اصطلاح شرع میں وحی کا معنی ہے : اللہ تعالیٰ کا کلام جو اس نے اپنے انبیاء میں سے کسی نبی پر نازل فرمایا اور رسول اس نبی کو کہتے ہیں جس پر کتاب یا صحیفہ نازل کیا گیا ہو اور نبی اسے شخص کو کہتے ہیں جو اللہ کی طرف سے خبریں دے خواہ اس کے پاس کتاب نہ ہو، رسول کی مثال ہے جیسے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور نبی کی مثال ہے جیسے حضرت یوشع (علیہ السلام) ۔ (عمدۃ القاری ج ١ ص ٣٩، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤٢١ ھ)

وحی کے متعلق احادیث

حضرت عائشہ المؤمنین (رض) بیان کرتی ہیں کہ حارث بن ہشام (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا : یارسول اللہ ! آپ کے پاس وحی کس طرح آتی ہے ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کبھی کبھی میرے پاس وحی گھنٹی کی آواز کی طرح آتی تھی اور وہ مجھ پر بہت سخت ہوتی تھی، جب وہ وحی مجھ سے منقطع ہوتی تو میں اس کو یاد کرچکا ہوتا تھا اور کبھی میرے پاس فرشتہ آدمی کی شکل میں آتا تھا، وہ مجھ سے کلام کرتا رہتا اور ایں اس کو یاد کرتا رہتا تھا، حضرت عائشہ (رض) نے بتایا کہ سخت سردی کے دن بھی جب آپ پر وحی نازل ہوتی تھی تو وحی منقطع ہونے کے بعد آپ کی پیشانی سے پسینہ بہ رہا ہوتا تھا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٣٣٣، مسند احمد رقم الحدیث : ٢٥٧٦٦، جامع المسانید والسنن مسند عائشہ رقم الحدیث : ١٨١٨)

حضرت عائشہ صدیقہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر وحی کی ابتداء سچے خواب سے ہوئی، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو خواب دیکھتے اس کی تعبیر روشن صبح کی طرح ظاہر ہوجاتی۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دل میں تنہائی کی محبت پیدا کی گئی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غارِحرا میں جاکر تنہائی میں عبادت کرنے لگے۔ کئی کئی راتیں غار میں رہتے اور خورد نوش کا سامان ساتھ لے جاتے (جب کھانے پینے کی چیزیں ختم ہوجاتیں تو) حضرت خدیجہ (رضی اللہ عنہا) سے آکر اور چیزیں لے جاتے۔ اسی دوران غارحرا میں اچانک آپ پر وحی نازل ہوئی۔ فرشتے نے آکر آپ سے کہا : پڑھئے، آپ نے فرمایا : میں پڑھنے والا نہیں ہوں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بتلایا کہ پھر فرشتہ نے زور سے گلے لگا کر مجھے بھینچا، پھر مجھے چھوڑ کر کہا : پڑھئے میں نے کہا : میں پڑھنے والا نہیں ہوں، حضور فرماتے ہیں کہ فرشتہ نے دوبارہ مجھے پکڑ کر دبایا، حتیٰ کے مجھے تھکا دیا، پھر مجھے چھوڑ کر کہا : پڑھئے، میں نے کہا : میں پڑھنے والا نہیں ہوں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں کہ فرشتہ نے تیسری بار مجھے پکڑ کر دبایا حتیٰ کہ مجھے تھکا دیا، پھر مجھے چھوڑ کر کہا :” اقرا باسم ربک الذی خلق خلق الانسان من علق اقرا وربک الاکرم الذی علم بالقلم علم الانسان مالم یعلم “ (اپنے رب کے نام سے پڑھئے جو خالق ہے جس نے انسان کو گوشت کے لوتھڑے سے پیدا کیا، پڑھئے، آپ کا رب سب سے زیادہ کریم ہے جس نے قلم سے لکھنا سکھلایا اور انسان کو وہ باتیں بتائیں جو وہ نہیں جانتا تھا) ۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس وحی کو لے کر حضرت خدیجہ (رض) کے پاس اس حال میں پہنچے کہ آپ پر کپکپی طاری تھی، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے کپڑا اڑھائو، مجھے کپڑا اڑھائو۔ گھر والوں نے آپ کو کپڑے اوڑھائے، حتیٰ کہ آپ کا خوف دور ہوگیا۔ پھر آپ نے حضرت خدیجہ (رض) کو تمام ماجرا سنایا اور فرمایا : اب میرے ساتھ کیا ہوگا، مجھے اپنی جان کا خطرہ ہے۔ حضرت خدیجہ نے عرض کیا : ہرگز نہیں، آپ کو یہ نوید مبارک ہو، اللہ تعالیٰ آپ کو ہرگز رسوا نہیں کرے گا۔ خدا گواہ ہے کہ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، سچ بولتے ہیں، کمزوروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، نادار لوگوں کو مال دیتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں اور راہ حق میں مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کرتے ہیں، پھر حضرت خدیجہ (رض) حضور کو اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں جو زمانہ جاہلیت میں عیسائی مذہب پر تھے اور انجیل کو عربی زبان میں لکھتے تھے، بہت بوڑھے ہوچکے تھے اور بینائی جاتی رہی تھی، حضرت خدیجہ نے ان سے کہا : اے چچا ! اپنے بھتیجے کی بات سنئیے، ورقہ بن نوفل نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا : اے بھتیجے ! آپ نے کیا دیکھا ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں وحی ملنے کا تمام واقعہ سنایا، ورقہ نے کہا : یہ وہی فرشتہ ہے جو حضرت موسیٰ کے پاس وحی لے کر آیا تھا۔ کاش ! میں جواب ہوتا، کاش ! میں اس وقت زندہ ہوتا جب آپ کی قوم آپ کو وطن سے نکال دے گی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کا وہ مجھ کو واقعی نکال دیں گی ؟ ورقہ نے کہا : ہاں۔ جس شخص پر بھی آپ کی طرح وحی نازل ہوئی لوگ اس کے دشمن ہوجاتے تھے، اگر زمھانہ نے مجھ کو موقع دیا تو میں اس وقت آپ کی انتہائی قوی مدد کروں گا، پھر کچھ دنوں بعد ورقہ فوت ہوگئے اور وحی رک گئی۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٦٠، مسند احمد رقم الحدیث : ٢٥٧١٧، جامع المسانید والسنن مسند عائشہ رقم الحدیث : ١٣٧٩)

حضرت مقدام بن معدذی کرب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سنو ! مجھے قرآن دیا گیا ہے اور اس کی مثل اور وحی کی گئی ہے، سنو ! عنقریب ایک شکم سیر آدمی اپنے تخت پر بیٹھا ہوا یہ کہے گا کہ اس قرآن کے احکام کو لازم رکھو، اس میں جن چیزوں کو حلال فرمایا ہے ان کو حلال قرار دو اور اس میں جن چیزوں کو حرام فرمایا ہے ان کو حرام قرار دو ۔ حالانکہ جن چیزوں کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حرام فرمایا ہے وہ چیزیں اسی طرح حرام ہیں جس طرح اللہ نے حرام فرمایا ہے اور سنو میں تمہارے لیے پالتو گدھوں کو حلال نہیں کرتا اور نہ تمہارے لیے کچلیوں سے کھانے والے درندوں کو حلال کرتا ہوں اور نہ ذمی کی گری پڑی چیز کو حلال کرتا ہوں، ماسوا اس صورت کے کہ اس کا مالک اس سے مستغنیٰ ہو اور جو شخص کسی علاقے کے لوگوں کے پاس جائے اس کی ضیافت کرنا ان لوگوں پر لازم ہے، اگر وہ اس کی ضیافت نہ کریں تو اس کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنی ضیافت کی مقدار بطور سزا اس سے وصول کرلے۔

(سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٦٠٤، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٦٦٤، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٢، مسند احمد ج ٤ ص ١٣١۔ ١٣٠)

یہ حدیث اس صورت پر محمول ہے جب وہ شخص حالت اضطرار میں ہو اور اس کو مق حیات برقرار رکھنے کے لیے کھانے کی کوئی چیز نہ مل سکے۔

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آخر زمانہ میں دجال کذاب ہوں گے جو تم کو ایسی احادیث سنائیں گے جو تم نے اس سے پہلے نہیں سنیں ہوگی، نہ تمہارے باپ دادا نے، تم ان سے مجتنب رہنا کہیں وہ تمہیں گمراہ نہ کردیں، تمہیں فتنہ میں نہ ڈال دیں۔ (صحیح مسلم : المقدمہ ص ٧، مشکوٰۃ رقم الحدیث : ١٥٤ )

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے میری امت کے فساد کے وقت میری سنت کو لازم رکھا اس کو سو شہیدوں کا اجر ملے گا۔ (الکامل لابن عدی ج ١ ص ١٧٤، حلیۃ الاولیاء ج ٨ ص ٢٠٠، الترغیب للمنذری ج ١ ص ٨٠)

القرآن – سورۃ نمبر 42 الشورى آیت نمبر 3