أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ فَاخۡتُلِفَ فِيۡهِ‌ؕ وَلَوۡلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتۡ مِنۡ رَّبِّكَ لَـقُضِىَ بَيۡنَهُمۡ‌ؕ وَاِنَّهُمۡ لَفِىۡ شَكٍّ مِّنۡهُ مُرِيۡبٍ ۞

ترجمہ:

اور بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا فرمائی تو اس میں (بھی) اختلاف کیا گیا اور اگر آپ کے رب کی طرف سے ایک میعاد پہلے سے مقرر نہ ہوتی تو ان کے درمیان فیصلہ ہوچکا ہوتا اور بیشک یہ لوگ اس قرآن کے متعلق سخت خلجان اور شک میں ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

اور بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا فرمائی تو اس میں (بھی) اختلاف کیا گیا اور اگر آپ کے رب کی طرف سے ایک میعاد پہلے سے مقرر نہ ہوتی تو ان کے درمیان فیصلہ ہوچکا ہوتا اور بیشک یہ لوگ اس قرآن کے متعلق سخت خلجان اور شک میں ہیں جس نے کوئی نیک کام کیا ہے تو وہ اپنے نفس کے فائدہ کے لیے کیا ہے اور جس نے کوئی بُرا کام کیا ہے تو اس کا ضرر (بھی) اسی کو ہوگا اور آپ کا رب اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے

اہل مکہ کے دل آزار باتوں پر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دینا

یعنی جب ہم نے (حضرت) موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات عطا کی تو اس میں بھی اختلاف کیا گیا، بعض لوگوں نے اس کی تصدیق کی اور بعض لوگوں نے اس کی تکذیب کی اور جب ہم نے آپ کے اوپر قرآن کریم کو نازل کیا تو یہی حال آپ کی قوم کا ہے، بعض لوگو اس پر ایمان لائے اور بعض لوگوں نے اس کا کفر کیا، سو اس آیت میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ تسلی دی گئی ہے کہ اگر آپ کی قوم کے کچھ لوگ قرآن مجید پر ایمان نہیں لائے تو آپ اس پر غم نہ کریں، ہر صاحب کتاب نبی کے ساتھ ہی ہوتا آیا ہے۔

کفار مکہ یہ کہتے تھے کہ اگر آپ حق پر ہیں اور ہم باطل پر ہیں تو ہماری مخالفت کی وجہ سے ہم پر عذاب کیوں نہیں آجاتا، اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا : ” اور اگر آپ کے رب کی طرف سے ایک میعاد پہلے سے مقرر نہ ہوتی تو ان کے درمیان فیصلہ ہوچکا ہوتا۔ “

کفار مکہ پر ایسا عذاب نہیں آیا جس سے پورا مکہ ملیامیٹ کردیا جاتا اور کفار کو بیخ وبن سے اکھاڑ دیا جاتا اور شہر مکہ قوم عاد اور ثمود کی بستیوں کی طرح کھنڈرات اور ویرانوں میں تبدیل ہوجاتا، کیونکہ ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نبی رحمت ہیں اور مکہ وہ شہر ہے جس کی طرف انبیاء اور مرسلین نے ہجرت کی ہے اور ملائکہ مقربین اس شہر میں نازل ہوتے رہے، اس شہر میں اللہ نے اپنا گھر بنایا اور اس کے خلیل اور ذبیح نے اس شہر کو بسایا، اس کے خلیل نے اس شہر کے لیے دعا کی : اے اللہ ! لوگوں کے دلوں کو اس شہر کی طرف پھیردے، اس کے کعبہ کے متعلق فرمایا : جو اس میں داخل ہوگا وہ مامون ہوجائے گا، اس لیے اللہ کی رحمت کو یہ گوارا نہ ہوا کہ عاد اور ثمود کی بستیوں کی طرح اس شہر میں بھی عذاب نازل کرکے اس شہر کو تہس نہس کردے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 41 فصلت آیت نمبر 45