أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَوۡ جَعَلۡنٰهُ قُرۡاٰنًا اَعۡجَمِيًّا لَّقَالُوۡا لَوۡلَا فُصِّلَتۡ اٰيٰتُهٗ ؕ ءَاَعۡجَمِىٌّ وَّعَرَبِىٌّ‌  ؕ قُلۡ هُوَ لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا هُدًى وَّشِفَاۗءٌ وَ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ فِىۡۤ اٰذَانِهِمۡ وَقۡرٌ وَّهُوَ عَلَيۡهِمۡ عَمًى‌ ؕ اُولٰٓئِكَ يُنَادَوۡنَ مِنۡ مَّكَانٍۢ بَعِيۡدٍ۞

ترجمہ:

اور اگر ہم اس قرآن کو عجمی زبان میں کردیتے تو وہ ضرور کہتے کہ اس کی آیتیں تفصیل سے کیوں نہیں بیان کی گئیں، کیا کتاب کی زبانہ عجمی ہو اور رسول کی زبان عربی ہو ؟ آپ کہیے : یہ کتاب ایمان والوں کے لیے ہدایات اور شفا ہے اور جو لوگ ایمان نہیں لاتے ان کے کانوں میں ڈاٹ ہے اور یہ ان پر اندھا پن ہے، ان لوگوں کو بہت دور سے ندا کی جارہی ہے

قرآن مجید کو غور سے نہ سننے کی وجہ سے کفار کا قرآن کی ہدایت سے محروم ہونا

حٰم ٓ السجدۃ : ٤٤ میں فرمایا : ” اور اگر ہم اس قرآن کو عجمی زبان میں کردیتے تو وہ ضرور کہتے کہ اس کی آیتیں تفصیل سے کیوں نہیں بیان کی گئیں، کیا کتاب کی زبانہ عجمی ہو اور رسول کی زبان عربی ہو ؟ “۔

جب اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی فضاحت اور بلاغت بین کردی اور اس کے احکام شرعیہ کی وضاحت سے بیان فرمادیا، اس کے باوجود کفار مکہ ایمان نہیں لائے تو اللہ تعالیٰ نے اس پر متنبہ فرمایا کہ ان کا کفر محض ضد، عناد، سرکشی اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے ہے، ان کے پاس ایمان نہ لانے کا کوئی منطقی جواز نہیں ہے، جیسا کہ اس آیت میں فرمایا ہے۔

ولونزلنہ علی بعض الاعجمین فقراہ علیھم ماکانوا بہ مومنین (الشعراء :198)

اور اگر ہم اس قرآن کو کسی عجمی شخص پر نازل فرماتے پھر وہ ان کے سامنے اس کی تلاوت کرتا تو یہ اس پر ایمان لانے والے نہ ہوتے اسی طرح اگر ہم پورا پر آن عجمی زبان میں نازل فرمادیتے تب بھی یہ کہتے کہ اس کی آیتیں تفصیل سے کیوں نہیں بیان کی گئیں۔ یعنی وہ یہ کہتے کہ پورے قرآن کو لغت عرب میں کیوں نہیں نازل کیا گیا اور وہ اس کا انکار کرتے اور یہ کہتے کہ عربی مخاطب کے اوپر عجمی قرآن کیوں نازل کیا گیا ہے جس کو وہ سمجھ ہی نہیں سکتا، حضرت ابن عباس، مجاہد اور عکرمہ وغیرھم نے اس آیت کی اس طرح تفسیر کی ہے۔

اس کے بعد فرمایا : ” آپ کہیے : یہ کتاب ایمان والوں کے لیے ہدایت اور شفاء ہے، یعنی اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! جو لوگ ایمان لاچکے ہیں ان کے دلوں کے لیے یہ قرآن ہدایت ہے اور ان کے سینوں سے شکوک اور شبہات دور کرنے کے لیے یہ قرآن شفاء ہے اور جو لوگ ایمان نہیں لائے ان کی کانوں میں ڈاٹ ہے، وہ قرآن مجید کی آیات میں غور کرتے ہیں نہ ان کو سمجھتے ہیں اور یہ ان پر اندھاپن ہے، وہ اس سے ہدایت نہیں حاصل کرسکتے، جیسا کہ اس آیت میں فرمایا ہے :

وننزل من القرآن ماھوشفاء رحمۃ للمومنین، ولا یذید الظلمین الا خسارا (بنواسرائیل :82) اور ہم جس قرآن کو نازل کررہے ہیں وہ مؤمنین کے لیے شفاء اور رحمت ہے اور وہ ظالموں کے لیے صرف نقصان کو زیادہ کرتا ہے

” اور ان لوگوں کو بہت دور سے ندا کی جارہی ہے “ مجاہد نے کہا : یہ ندا ان کے قلوب سے بہت دور ہے، امام ابن جریر نے کہا : اس کا معنی یہ ہے کہ جو ان کو پکارہا ہے اور ان سے خطاب کررہا ہے وہ گویا کہ ان سے بہت دور ہے، ضحاک نے کہا : اس کا معنی یہ ہے کہ قیامت کے دن ان کو ان کے بہت قبیح ناموں سے پکارا جائے گا۔

القرآن – سورۃ نمبر 41 فصلت آیت نمبر 44