أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ذٰ لِكَ الَّذِىۡ يُبَشِّرُ اللّٰهُ عِبَادَهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ‌ؕ قُلْ لَّاۤ اَسۡئَـــلُـكُمۡ عَلَيۡهِ اَجۡرًا اِلَّا الۡمَوَدَّةَ فِى الۡقُرۡبٰى‌ؕ وَمَنۡ يَّقۡتَرِفۡ حَسَنَةً نَّزِدۡ لَهٗ فِيۡهَا حُسۡنًا‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ شَكُوۡرٌ ۞

ترجمہ:

یہی وہ چیز ہے جس کی اللہ اپنے بندوں کو بشارت دیتا ہے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کیے، آپ کہیے کہ میں اس (تبلیغ رسالت) پر تم سے کوئی اجرت طلب نہیں کرتا سوا قرابت کی محبت کے، اور جو شخص نیکی کرے گا ہم اس نیکی کے حسن کو اور بڑھادیں گے، بیشک اللہ بہت بخشنے والا اور بہت قدر کرنے والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

یہی وہ چیز ہے جس کی اللہ اپنے بندوں کو بشارت دیتا ہے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کیے، آپ کہیے کہ میں اس (تبلیغ رسالت) پر تم سے کوئی اجرت طلب نہیں کرتا سوا قرابت کی محبت کے، اور جو شخص نیکی کرے گا ہم اس نیکی کے حسن کو اور بڑھادیں گے، بیشک اللہ بہت بخشنے والا اور بہت قدر کرنے والا ہے کیا وہ یہ کہتے ہیں کہ رسول نے اللہ پر جھوٹ بول کر بہتان تراشا ہے ؟ پس اگر اللہ چاہے گا تو آپ کے دل پر مہر لگا دے گا اور اللہ باطل کو مٹا دیتا ہے اور حق کو اپنے کلام سے ثابت رکھتا ہے، بیشک وہ دلوں کی باتوں کو خوب جاننے والا ہے اور وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور گناہوں کو معاف فرماتا ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اس کو جانتا ہے

(الشوریٰ : 23-25)

تبلیغ رسالت پر قرابت سے محبت کے اجر کا سوال پر ایک اعتراض

اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قرآن مجید کو نازل کیا اور لوگوں کو ہدایت کے لیے اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی الوہیت اور توحید کے متعلق آیات نازل کیں، اسی طرح نبوت اور رسالت کے متعلق آیات نازل کیوں اور دیگر عقائد کے متعلق آیات نازل کیں، قیامت، حشرونشر، حساب و کتاب اور جنت اور دوزخ کے متعلق آیات نازل کیں اور احکام شرعیہ کے متعلق آیات نازل کیں اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان تمام آیات کی تبلیغ کرنے کا حکم دیا، ان آیات کی تبلیغ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بہت سختیاں اور صعوبتیں برداشت کیں، ہوسکتا تھا کہ کوئی بدعقیدہ جاہل یہ گمان کرتا کہ شاید آپ کسی مالی منفعت یا اقتدار کے حصول کے لیے اس قدر مشقت اٹھا رہے ہیں، اس تہمت اور بدگمانی کا ازالہ کے لیے اللہ تعالیٰ نے آپ پر یہ آیت نازل فرمائی : آپ کہیے کہ میں اس (تبلیغ رسالت) پر تم سے کوئی اجرت طلب نہیں کرتا سوا قرابت کی محبت کے۔

اس آیت پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ اس آیت میں بھی تبلیغ رسالت پر ایک نوع کی اجرت کا ذکر ہے اور وہ قرابت کی محبت ہے جب کہ دیگر انبیاء (علیہم السلام) نے مطلقاً اجرت طلب کرنے کی نفی کی ہے، اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کا یہ قول ذکر فرمایا ہے۔

وما اسئلکم علیہ من اجر ان اجری الا علی رب العٰلمین (الشعراء :109)

میں تم سے اس (تبلیغ رسالت) پر کوئی اجر طلب نہیں کرتا میرا اجر تو صرف رب العٰلمین (کے ذمہ کرم) پر ہے

اسی طرح حضرت ہود (علیہ السلام) نے طلب اجر کی نفی کی۔ (الشعراء : ١٢٧) اسی طرح حضرت صالح (علیہ السلام) نے طلب اجر کی نفی کی۔ (الشعراء : ١٤٥) اور حضرت لوط (علیہ السلام) نے طلب اجر کی نفی کی۔ (الشعراء : ٢٦٤) اور حضرت شعیب (علیہ السلام) نے طلب اجر کی نفی کی۔ (الشعراء : ١٨٠)

بلکہ قرآن مجید میں خود نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی یہ حکم دیا ہے کہ آپ طلب اجر کی نفی کریں :

قل ما اسئلکم علیہ من اجر وما انا من المتکلفین (ص :86)

آپ کہیے کہ میں اس (تبلیغ رسالت) پر تم سے کوئی اجر طلب نہیں کرتا اور نہ میں تکلف کرنے والوں میں سے ہوں

نیز رسالت کی تبلیغ کرنا آپ پر واجب تھا اور جو چیز آپ پر واجب ہو آپ اس سے کیسے اجر لے سکتے ہیں، قرآن مجید میں ہے :

بلغ ما انزل الیک من ربک، وان لم تفعل فما بلغت رسالتہ۔ (المائدہ :67)

آپ کی طرف آپ کے رب کی طرف سے جو وحی نازل ہوئی اس کی تبلیغ کیجئے اور اگر آپ نے تبلیغ نہیں کی تو آپ اپنے کاررسالت کی تبلیغ نہیں کی۔

نیز پیغام رسالت کو پہنچانے پر اجرت اور معاوضہ کو طلب کرنا آپ کے منصب نبوت میں تہمت کا موجب ہے اور یہ آپ کی شان لائق نہیں ہے، ان وجوہ سے یہ واضح ہوتا ہے کہ تبلیغ رسالت پر اجرت کو طلب کرنا آپ کے لیے جائز نہیں ہے اور الشوریٰ : ٢٣ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے تبلیغ رسالت پر اجرت کا سوال کیا ہے، اس اعتراض کے حسب ذیل جوابات ہیں :

اعتراض مذکور کا یہ جواب کہ اس سے مراد رحم کی قرابت ہے اور اس کی تائید میں مستند احادیث

(١) اس آیت میں قربیٰ سے مراد رحم کی قرابت ہے کیونکہ مکہ کے تمام قبائل میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رحم کی قرابت تھی، اس آیت کا منشاء یہ ہے کہ میں تم سے صرف یہ سوال کرتا ہوں کہ تم قرابت رحم کی وجہ سے مجھ سے محبت کرو اور مجھ پر جو تبلیغ رسالت کی ذمہ داری ہے اس سے عہد برآ ہونے میں میری مدد کرو، حدیث میں ہے :

حضرت ابن عباس (رض) اس آیت : (الشوریٰ : ٢٣) کی تفسیر میں بیان کرتے ہیں کہ تمام قریش میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قرابت تھی، جب قریش نے آپ کی رسالت کی تکذیب کی اور آپ کی اتباع کرنے سے انکار کردیا تو آپ نے فرمایا : اے میری قوم ! جب تم نے میری اتباع کرنے سے انکار کردیا ہے تو تمہارے اندر جو میری قرابت ہے اس کی حفاظت کرو (یعنی اس قرابت کی وجہ سے مجھے اذیت نہ دو اور مجھے نقصان نہ پہنچائو) اور تمہارے علاوہ دوسرے عرب قبائل میری حفاظت کرنے میں اور میری مدد کرنے میں زیادہ راجح نہیں ہیں۔ (المعجم الکبیر ج ١٢ ص ١٩٧، رقم الحدیث : ١٣٠٢٦، داراحیاء التراث العربی، بیروت)

ایک اور حدیث میں حضرت ابن عباس نے اس کی تفسیر یوں فرمائی ہے :

تم میری قرابت کی وجہ سے صلہ رحم کرو، یعنی مجھ سے میل جول رکھو اور میری تکذیب نہ کرو۔

(المعجم الکبیر ج ١٢ ص ٧٢، رقم الحدیث : ١٢٥٦٩، داراحیاء التراث العربی، بیروت، جامع المسانید والسنن مسند ابن عباس رقم الحدیث : ١٣٠٩)

نیز حضرت ابن عباس نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا :

قریش کے ہر قبیلہ میں آپ کی قرابت اور رشتہ داری تھی، اس لیے آپ کہیے کہ میں تم سے اس کے سوا کوئی اجر طلب نہیں کرتا کہ تم میری حفاظت کرو اور مجھ سے ضرر کو دور کرو کیونکہ میری تم سے قرابت ہے۔ (المعجم الکبیر ج ١١ ص ٣٤٥، رقم الحدیث : ١٢٢٣٨، داراحیاء التراث العربی، بیروت، جامع المسانید والسنن مسند ابن عباس رقم الحدیث : ٤٧٧)

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ ان سے اس آیت کے متعلق سوال کیا گیا، سعید بن جبیر نے کہا : قربیٰ سے مراد آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں، حضرت ابن عباس نے فرمایا : تم نے جلدی کی ہے، قریش کے رحم میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قرابت تھی، آپ نے فرمایا : میرے اور تمہارے درمیان جو قرابت ہے اس کی بناء پر تم میرے ساتھ ملاپ سے رہو۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٨١٨، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٣٥١، مسند احمد رقم الحدیث : ٢٥٩٩، عالم الکتب، جامع المسانید والسنن مسند ابن عباس رقم الحدیث : ١١٣٠)

اس جواب کی تقریر اس طرح ہے کہ قرآن مجید کی دیگر آیات میں جو تبلیغ رسالت پر اجر لینے کی نفی ہے اس اجر سے مراد معروف اجر ہے، جیسے مال و دولت، سونا چاندی اور دیگر قیمتی چیزیں اور جس اجر کو آپ نے طلب فرمایا ہے وہ آپ کی ذات سے محبت کرنا ہے، اس قرابت کی وجہ سے جو آپ کے قبائل عرب کے درمیان تھی اور ظاہر ہے کہ آپ کی ذات سے محبت کرنا شرعاً مطلوب ہے، کیونکہ جب قبائل عرب آپ کی ذات سے محبت کریں گے اور آپ کی حفاظت کریں گے تو اس سے ان کے اسلام قبول کرنے میں آسانی ہوگی اور یہ معروف اجر نہیں ہے اور یہ وہ اجر نہیں ہے جس کو طلب کرنے کی دیگر آیات میں نفی کی گئی ہے۔

اعتراض مذکور کا یہ جواب کہ اس سے مراد بیت کی محبت ہے اور فضائل اہل بیت میں…احادیثہ صحیحہ

(٢) اس آیت میں قربیٰ سے مراد آپ کی قرابت دار ہیں، حدیث میں ہے :

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت (الشوریٰ : ٢٣) نازل ہوئی تو مسلمانوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا : یارسول اللہ ! آپ کے وہ قرابت دار کون ہیں جن سے محبت کرنا ہم پر واجب ہے ؟ آپ نے فرمایا : علی اور فاطمہ اور ان کے دونوں بیٹے (رض) ۔ (المعجم الکبیر ج ١١ ص ٣٥١، رقم الحدیث : ١٢٢٥٩، داراحیاء التراث العربی، بیروت، اس حدیث کی سند ضعیف ہے، جامع المسانید والسنن مسند ابن عباس رقم الحدیث : ٣٠٦)

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اہل بیت سے محبت رکھنے کے متعلق حسب ذیل احادیث صحیحہ ہیں :

حضرت زر بن حبیش (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس نے دانہ کو چیرا اور روح کو پیدا کیا، بیشک نبی امی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے سے یہ عہد کیا ہے کہ مجھ سے صرف مومن محبت رکھے گا اور صرف منافق مجھ سے بغض رکھے گا۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٧٨، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٧٣٦، سنن نسائی رقم الحدیث : ٥٠٢٢، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١١٤)

حضرت زید بن ارقم (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں جس کا محبوب ہوں علی اس کے محبوب ہیں۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٧١٣، مسند احمد ج ٤ ص ٣٦٨، المستدرک ج ٣ ص ١١٠۔ ١٠٩، الجامع الصغیر رقم الحدیث : ٤٠٨٩)

حضرت زید بن ارقم (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غدید خم کے مقام پر پہنچے تو آپ نے حضرت علی (رض) کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا : کیا تم کو معلوم نہیں کہ میں تمام مؤمنوں کی جانوں کی بہ نسبت ان سے زیادہ قریب ہوں ؟ مسلمانوں نے کہا : کیوں نہیں، آپ نے فرمایا : کیا تم کو معلوم نہیں کہ میں ہر مومن کی جان پر اس سے زیادہ تصرف کرنے والا ہوں ؟ مسلمانوں نے کہا : کیوں نہیں، آپ نے فرمایا : اے اللہ ! میں جس کا محبوب ہوں سو علی اس کے محبوب ہیں، اے اللہ ! اس سے محبت رکھ جو علی سے محبت رکھے اور اس سے عدوات رکھ جو علی سے عداوت رکھے، اس کے بعد حضرت عمر کی حضرت علی سے ملاقات ہوئی تو حضرت عمر نے فرمایا : اے علی ! تم کو مبارک ہو، تم اس حال میں صیح اور شام کرتے ہو کہ تم ہر مومن مرد اور ہر مومن عورت کے محبوب ہوتے ہو۔ (سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١١٦، مسند احمد ١ ص ٢١٩، کنزالعمال رقم الحدیث : ٣٢٣٤٢ )

حضرت مسوربن مخرمہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : فاطمہ میرے جسم کا حصہ ہے جس نے اس کو غضب ناک کیا اس نے مجھ کو غضب ناک کیا، ایک روایت میں ہے : جو چیز اس کو اذیت پہنچائے وہ مجھے اذیت پہنچاتی ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٢٣٠، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٤٤٩ )

حضرت اسامہ بن زید (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں ایک رات کو کسی کام سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گیا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) باہر آئے، آپ کے پاس کوئی چیز تھی، نہ جانے وہ کیا تھی، جب میں اپنے کام سے فارغ ہوگیا تو میں نے پوچھا یہ کیا چیز ہے ؟ تو آپ نے اپنی چادر کھول کر دکھایا تو آپ کی گود میں حضرت حسن اور حضرت حسین تھے، آپ نے فرمایا : یہ دونوں میرے بیٹے ہیں اور میری بیٹی کے بیٹے ہیں، اے اللہ ! میں ان دنوں سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان دونوں سے محبت کر اور اس سے محبت کر جو ان دونوں سے محبت رکھے۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٧٦٩، المصف لابن ابی شیبہ ج ١٢ ص ٩٨۔ ٩٧، سنن النسائی رقم الحدیث : ١٣٩، المعجم الصغیر رقم الحدیث : ٥٥١، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٦٩٦٧ )

حضرت زید بن ارقم (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حضرت حسین (رض) کے متعلق فرمایا : جو ان سے جنگ کرے گا میں اس سے جنگ کروں گا اور جو ان سے صلح رکھے گا میں اس سے صلح رکھوں گا۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٨٧٠، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٤٥، موارد الظلماء رقم الحدیث : ٢٢٤٤، المستدرک ج ٣ ص ١٤٩ )

حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے دیکھا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے حج میں عرفہ کے دن اپنی اونٹنی قصواء پر بیٹھ کر خطبہ دے رہے تھے، آپ فرما رہے تھے : اے لوگو ! میں تم میں ایسی چیز چھوڑ کر جارہا ہوں کہ اگر تم اس سے وابستہ رہے تو کبھی گمراہ نہیں ہوگے، کتاب اللہ اور میری عترت، میرے اہل بیت۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٧٨٦، المعجم الکبیر رقم الحدیث : ٣٦٨٠، المسند الجامع رقم الحدیث : ٢٤٤٠، جامع المسانید والسنن مسند جابر رقم الحدیث : ٨٣٧)

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ سے محبت رکھو کیونکہ وہ اپنی نعمعتوں سے تم کو غذا دیتا ہے اور اللہ سے محبت کی وجہ سے مجھ سے محبت رکھو اور میری محبت کی وجہ سے میرے اہل بیت سے محبت رکھو۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٧٨٩، المعجم الکبیر رقم الحدیث : ٢٦٣٩، المستدرک ج ٣ ص ١٥٠، الحلیۃ الاولیاء ج ٣ ص ٢١١، جامع المسانید والسنن مسند ابن عباس رقم الحدیث : ٢٨٨٢)

حضرت ابو ذر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سنو ! تم میں میرے اہل بیت کی مثال حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی کی طرح ہے، جو اس میں سوار ہوگیا وہ نجات پا گیا اور جس نے اس کو چھوڑ دیا وہ ہلاک ہوگیا۔ (مسند البزار رقم الحدیث : ٢٦١٤، المعجم الکبیر رقم الحدیث : ٢٦٣٧، المعجم الصغیر رقم الحدیث : ٣٩١، اس حدیث کی سند ضعیف ہے، مجمع الزوائد ج ٥ ص ١٦٨ )

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اہل بیت کی محبت کے وجوب میں یہ احادیث صحیحہ ہیں جن کو ہم نے الشوریٰ : ٢٣ میں درج کیا ہے۔

فضائل اہل بیت میں سابقین کی نقل کردہ موضوع احادیث

علامہ ابواسحاق احمد بن ابراہیم ثعلبی متوفی ٤٢٨ ھ، علامہ محمود بن عمر زمخشری متوفی ٥٣٨ ھ، امام فخر الدین محمد بن عمررازی متوفی ٦٠٦ ھ، علامہ ابوعبداللہ محمد بن احمد قرطبی اور علامہ اسماعیل حقی متوفی ١١٣٧ ھ نے اہل بیت کی محبت کے ثبوت حسب ذیل روایت بیان کی ہے جس کی سند موضوع ہے، وہ روایت یہ ہے :

سنو ! جو آل محمد کی محبت پر مرا وہ شہید ہے، سنو جو آل محمد کی محبت پر مرا وہ بخشا ہوا ہے، سنو ! جو آل محمد کی محبت پر مرا وہ تائب ہے۔ سنو ! جو آل محمد کی محبت پر مرا وہ کامل الایمان ہے، سنو ! جو آل محمد کی محبت پر مرا اس کو ملک الموت نے جنت کی بشارت دی، پھر منکر نکیر نے بشارت دی۔ سنو ! جو آل محمد کی محبت پر مرا اس کو جنت میں اس طرح بناسنوار کرلے جایا جائے گا جس ترح دلہن کو خاوند کے گھر میں بنا سنوار کرلے جایا جاتا ہے۔ سنو ! جو آل محمد کی محبت پر مرا اس کی قبر میں جنت کی طرف دو کھڑکیاں کھول دی جاتی ہیں، سنو ! جو آل محمد کی محبت پر مرا اس کی قبر کو اللہ تعالیٰ رحمت کے فرشتوں کا مزار بنا دیتا ہے، سنو ! جو آل محمد کی محبت پر مرا وہ السنت والجماعت پر مرا، سنو ! جو آل محمد سے بغض پر مرا وہ جب قیامت کے دن آئے گا تو اس کی آنکھوں کے درمیان لکھا ہوگا کہ وہ اللہ کی رحمت سے مایوس ہے، سنو ! جو آل محمد سے بغض پر مرا وہ کفر پر مرا، سنو ! جو آل محمد سے بغض پر مرا وہ جنت کی خوشبو نہیں سونگھے گا۔ (الکشف والبیان ج ٨ ص ٣١٤، الکشاف ج ٤ ص ٢٢٥، تفسیر کبیر ج ٩ ص ٥٩٥، اجمامع لاحکام القرآن جز ١٦ ص ٢٣، روح البیان ج ٨ ص ٤١٦)

یہ روایت، حدیث کی کسی معروف اور مستند کتاب میں مذکور نہیں ہے، اس روایت کو علامہ ابو اسحاق ثعلبی نے اپنی تفسیر میں اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے، وہ سند یہ ہے : ابو محمد عبداللہ بن حامد اصبہانی ازعبداللہ بن محمد بن علی بن حسین بلخی از یعقوب بن یوسف بن اسحاق از محمد بن اسلم طوی ازیعلیٰ بن عبیداز اسماعیل بن ابی خالد از قیس بن ابی حازم از جریر بن عبداللہ بجلی، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سنو !……(الکشف والبیان ج ٨ ص ٣١٤، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤٢٢ ھ)

حافظ شہاب الدین احمد علی بن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٢ ھ نے اس سند کو ذکر کرکے فرمایا ہے : یہ سند موضوع ہے، اس روایت کے من گھڑت ہونے کے آثار بالکل واضح ہیں، محمد بن اسلم اور اس کے اوپر کے راوی ثابت ہیں اور اس سند میں وجہ آفت ثعلبی اور محمد کے درمیان کے راوی ہیں اور اس میں علت بلخی ہے یا اس کا شیخ ہے اور میں نے ان دونوں کا ذکر اسماء الرجال کی کسی کتاب میں نہیں پایا، سو یہ روایت موضوع ہے۔ (الکاف الشاف فی تخریج احادیث الکشاف ج ٤ ص ٢٢٠، وعلی ھامس الکشاف ج ٤ ص ٢٢٥، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٧ ھ)

علامہ زمخشری نے اس روایت کو بغیر سند کے ذکر کیا ہے اور باقی مفسرین نے اس روایت کو کشاف کے حوالے سے ذکر کیا ہے اور یہ سب لوگ اس روایت کی سند کی تحقیق کے بغیر نقل درنقل کرتے چلے گئے۔

فضائل اہل بیت میں علامہ زمخشری نے اس مقام پر ایک اور موضوع روایت ذکر کی ہے :

حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شکایت کی کہ لوگ مجھ سے حسد کرتے ہیں، آپ نے فرمایا : کیا تم اس سے راضی نہیں ہو کہ تم چار میں سے چوتھے ہو، سب سے پہلے جو جنت میں داخل ہوں گے، وہ میں ہوں اور تم ہو اور حسن اور حسین ہیں اور ہماری بیویاں، ہمارے دائیں اور بائیں ہوں گی اور ہماری اولاد ہماری بیویوں کے پیچھے ہوگی۔ (الکشاف ج ٤ ص ٢٢٤، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٧ ھ)

حافظ شمس الدین ذہبی متوفی ٧٤٨ ھ اس روایت کے متعلق لکھتے ہیں :

اس روایت کو کدیمی نے ابن عائشہ سے اپنی سند کے ساتھ حضرت علی (رض) سے روایت کیا ہے، یہ سند ساقط الاعتبار ہے، کدیمی کا نام محمد بن یونس ہے۔ ابن عدی نے اس کو وضع سے متہم کیا ہے، ابن حبان نے کہا : اس نے ایک ہزار سے زائد احادیث وضع کی ہیں، ابودائود اور دارقطنی نے اس کو کذاب سے متہم کیا ہے۔ (میزان الاعتدال ج ٤ ص ٧٥۔ ٧٤) یہ ان لوگوں میں سے ہے جو حدیث گھڑتے ہیں، اس حدیث میں دوسری علت محمد بن عبداللہ بن ابی رافع ہے۔ امام بخاری نے کہا : یہ منکر الحدیث ہے، اسی طرح ابو حاتم نے کہا۔ (میزان الاعتدال رقم الحدیث : ٧٩٠٤) اور یہ روایت اس سند کے ساتھ باطل ہے، اس روایت کے موضوع ہونے کی علامات بالکل ظاہر ہیں۔ (الکاف الشاف فی تخریج احادیث الکشاف ج ٤ ص ٢٢٠، وعلیٰ ھامش الکشاف ج ٤ ص ٢٢٤، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٧ ھ)

میں کہتا ہوں کہ جب فضائل اہل بیت میں احادیث صحیحہ موجود ہیں جن کو ہم نے ذکر کیا ہے تو پھر فضائل اہل بیت کو ثابت کرنے کے لیے ان موضوع روایات کا ذکر کرنے کی کیا ضرورت ہے حتیٰ کہ کسی طعن کرنے والے کو یہ کہنے کا موقع ملے کہ فضائل اہل بیت تو صرف موضوع اور باطل روایات سے ثابت ہیں۔ ہم نے ان روایات کا موضوع ہونا اس لیے بیان کیا ہے کہ مبادا کوئی شخص سابقین کے ان بڑے ناموں کو دیکھ کر ان روایات کو صحیح گمان کرے اور سابقین پر اعتماد کرکے ان روایات کو آگے بیان کرے اور نادانستہ طور پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جھوٹ باندھنے کے جرم اور گناہ میں ملوث ہوجائے۔

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اہل بیت سے محبت کے وجوب کے ثبوت میں ہم نے احادیث صحیحہ بیان کی ہیں اور اس تمہید کے بعد جواب کا حاصل یہ ہے کہ اس آیت (الشوریٰ : ٢٣) میں اس اجر کو طلب کرنے کا ذکر نہیں ہے جس کی قرآن مجید کی دوسری آیت میں نفی فرمائی ہے، کیونکہ اس اجر سے مراد معروف اجر ہے یعنی مال و دولت وغیرہ اور اس آیت میں جس اجر کے سوال کرنے کا ذکر ہے اس سے مراد ہے : آپ کے قرابت داروں سے محبت کرنا، ان کی تعظیم کرنا اور ان کے ساتھ نیک سلوک کرنا، باقی رہا یہ کہ اپنے اقارب کے ساتھ محبت کرنے اور ان کے ساتھ نیک سلوک کرنے کی تلقین کرنا اقرباء پروری ہے اور یہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان کے لائق نہیں ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ازخود یہ نہیں فرمایا بلکہ یہ تو اللہ عتالیٰ کا حکم ہے سو یہ آپ پر اعتراض نہیں ہے، اللہ تعالیٰ پر اعتراض ہے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ یہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا شرف اور آپ کی فضیلت ہے، جس طرح اللہ تعالیٰ نے آپ کے صحابہ کو یہ عزت اور خصوصیت عطا کی کہ بعد کا کوئی مسلمان کتنی ہی عبادت کیوں نہ کرلے وہ اس صحابی کا مرتبہ نہیں پاسکتا جس نے ایمان کے ساتھ آپ کو دیکھا ہو اور ایمان پر ہی اس کا خاتمہ ہوا ہو اور جس طرح اللہ تعالیٰ نے آپ کی ازواج کو یہ عزت اور خصوصیت دی کہ کوئی خاتون خواہ کتنی عابدہ زاہدہ ہو وہ آپ کی ازواج کے مرتبہ کو نہیں پاسکتی، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے آپ کے اہل بیت کو یہ عزت اور خصوصیت عطا کی ہے کہ ان کی محبت کو امت پر واجب کردیا، ان پر صدقہ واجبہ کو حرام کردیا اور ہر نماز میں ان صلوٰۃ بھیجنے اور ان کے لیے برکت کی دعا کرنے کو مقرر کردیا۔

اس اعتراض کا یہ جواب کہ قربیٰ سے مراد اللہ تعالیٰ کا قرب ہے

(٣) اس آیت میں فرمایا ہے : ” میں تم سے اس کے سوا اور کوئی سوال نہیں کرتا کہ تم قربیٰ سے محبت رکھو “ اس آیت میں قربیٰ سے مراد اللہ کا قرب ہے اور اس کی تائید اس حدیث میں ہے :

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے جو تمہارے لیے دلائل اور ہدایت کی تبلیغ کی ہے، میں اس پر تم سے اس کے سوا اور کوئی سوال نہیں کرتا کہ تم اللہ سے محبت رکھو اور اس کی اطاعت کرکے اس کا قرب حاصل کرو۔ (مسند احمد ج ١ ص ٢٦٨ طبع قیدم، مسند احمد ج ٤ ص ٢٣٨، مؤسسۃ الرسالۃ، ١٤٢٠ ھ، المعجم الکبیر رقم الحدیث : ١١١٤٤، المستدرک ج ٢ ص ٤٤٤۔ ٤٤٣، حاکم نے کہا : اس حدیث کی سند صحیح ہے اور ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے، جامع المسانیدہ والسنن ابن عباس رقم الحدیث : ٣٢٣٨)

الشوریٰ : ٢٣ کی اس تفسیر پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا، نہ یہ اعتراض ہوتا ہے کہ دیگر آیات میں تبلیغ رسالت پر اجر طلب کرنے کی نفی ہے اور اس آیت میں اثبات ہے کیونکہ اللہ کے قرب کو امت سے طلب کرنا وہ اجر نہیں ہے جس کے طلب کی نفی کی گئی ہے اور نہ اس پر اقرباء پروری کا اعتراض ہوتا ہے اور اس آیت کی یہ سب سے عمدہ تفسیر ہے۔

حاصل یہ ہے کہ میں نے جو تمہیں اللہ کا پیغام پہنچایا اور تبلیغ کی مشقت اٹھائی ہے اس پر میں تم سے اس کے سوا کوئی اجر طلب نہیں کرتا کہ تم اللہ کی توحید اور اس کی اطاعت سے محبت رکھو اور ہمیشہ اس کے احکام پر عمل کرتے رہو اور جن کاموں سے اس نے منع کیا ہے ان کے قریب نہ جائو اور جو شخص اللہ کی اطاعت کرکے اس کا قرب حاصل کرے اس سے محبت رکھو، انسان اس سے محبت کرتا ہے جو اس کے محبوب سے محبت رکھے کیونکہ دونوں کا محبوب واحد ہوتا ہے، سو جو شخص بھی اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرے گا وہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے والا ہوگا اور اس آیت کے عموم میں داخل ہوگا کہ میں تبلیغ رسالت کی مشقت پر صرف اس اجر کا طالب ہوں کہ تم اللہ کا قرب حاصل کرنے میں محبت رکھو۔

محبت اہل بیت اور تعظیم صحابہ کا عقیدہ صرف اہل سنت و جماعت کی خصوصیت ہے

صحابہ کرام (رض) سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والے، سب سے زیادہ اللہ کی اطاعت کرنے والے اور سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کے حصول قرب میں محبت کرنے والے تھے اور قربیٰ کی یہ تیسری تفسیر جو ہم نے کی ہے اس کا تقاضا یہ ہے کہ صحابہ کرام کے ساتھ وابستہ رہا جائے اور قربیٰ کی جو دوسری تفسیر ہم نے ذکر کی ہے اس کا تقاضا یہ ہے کہ اہل بیت کے ساتھ رہا جائے، خلاصہ یہ ہے کہ صحابہ کرام اور اہل بیت عظام دونوں کی تعظیم و تکریم کی جائے، دونوں سے محبت رکھی جائے اور دونوں سے وابستہ رہا جائے اور یہ صرف اہل سنت و جماعت کی خصوصیت ہے کہ وہ صحابہ کرام اور اہل بیت عظام دونوں سے عقیدت رکھتے ہیں، اس کے برخلاف شیعہ اور افضی اہل بیت سے تو محبت رکھتے ہیں لیکن صحابہ پر تبرا کرتے ہیں اور ان سے بغض رکھتے ہیں اور ناصبی صحابہ کرام کی تعظیم و توقیر کرتے ہیں اور اہل بیت کی مذمت کرتے ہیں اور خارجی صحابہ اور اہل بیت دونوں کی مذمت کرتے ہیں۔

ہمارے ا کی کنارے پر دنیا ہے اور دوسرے کنارے پر آخرت ہے اور درمیان میں تاریک سمندر ہے اور اندھیری رات میں جب انسان نے سلامتی کے ساتھ دوسرے کنارے پہنچنا ہو تو اس کے پاس صحیح وسالم کشتی بھی ہونی چاہیے اور اس کی نظر ستاروں پر ہونی چاہیے تاکہ اندھیرے میں اس کو ستاروں کی رہنمائی حاصل ہو، دونوں میں سے ایک چیز بھی حاصل نہ ہو تو وہ سلامتی سے دوسرے کنارے تک نہیں پہنچ سکتا، اس وقت ہم احکام شرعیہ کے سمندر میں سفر کررہے ہیں اور شیطان اور نفس امارہ کی موجیں ہم سے ٹکرارہی ہیں اور ان کی طوفانی لہروں کے تھپیڑے ہمیں سلامتی کے ساحل سے دور رکھنے کی پوری کوشش کررہے ہیں، ایسے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمارے اخروی سفر کی سہولت اور آسانی کے لیے ہمیں اہل بیت سے محبت اور وابستگی کی کشتی فراہم کی اور معصیت کے اندھیروں میں رہ نمائی کے لیے صحابہ کرام کو ستارے قرار دے کر ان کی ہدایت کی روشنی فراہم کی۔

محبت اہل بیت اور تعظیم صحابہ کے متعلق احادیث

اہل بیت سے محبت کو کشتی اس حدیث میں قرار دیا ہے :

حضرت ابوذر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سنو ! تم میں میرے اہل بیت کی مثال حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی کی طرح ہے جو اس میں سوار ہوگیا وہ نجات پا گیا اور جس نے اس کو چھوڑ دیا وہ ہلاک ہوگیا۔ (مسند البزار رقم الحدیث : ٢٦١٤، المعجم الکبیر رقم الحدیث : ٢٦٣٧، المعجم الصغیر رقم الحدیث : ٣٩١، جامع الاحادیث والسنن رقم الحدیث : ٣٢٣٨)

اور صحابہ کرام کو ستارے قرار دینے کا ذکر اس حدیث میں ہے :

حضرت ابوبردہ اپنے والد (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی، پھر ہم نے کہا : ہم یہاں بیٹھے ہیں تاکہ آپ کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھ لیں، ہم بیٹھے رہے حتیٰ کہ آپ تشریف لے آئے، آپ نے فرمایا : تم جب سے یہیں ہو ؟ ہم نے کہا : یارسول اللہ ! ہم نے آپ کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی، پھر ہم نے کہا : ہم یہاں ٹھہرجاتے ہیں حتیٰ کہ ہم آپ کے ساتھ عشاء کی نماز بھی پڑھ لیں، آپ نے فرمایا : تم نے اچھا کیا اور ٹھیک کیا، پھر آپ نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور آپ اکثر آسمان کی طرف سر اٹھاتے تھے، پس آپ نے فرمایا : ستارے آسمان کی امان ہیں اور جب ستارے نہیں ہوں گے تو پھر آسمان پھٹ جائے گا اور میں اپنے اصحاب کے لیے امان ہوں اور جب میں چلا جائوں گا تو میرے اصحاب فتنوں میں مبتلا ہوجائیں گے اور میرے اصحاب میری امت کے لیے امان ہیں، جب میرے اصحاب چلے جائیں گے تو میری امت فتنوں اور بدعات میں مبتلا ہوجائے گی۔

(صحیح مسلم کتاب السنن، رقم اتحدیث : ٢٠٧، رقم الحدیث بلاتکرار : ٢٥٣١، رقم المسلسل : ٦٣٤٨ )

اس حدیث میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بہ منزلہ ستارے اور امت کے لیے وجہ امان قرار دیا ہے۔ اس کی تائید میں ایک اور حدیث یہ ہے :

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری امت میں میرے اصحاب کی مثال اس طرح ہے جیسے ستاروں کی مثال ہے، لوگ ان سے ہدایت حاصل کرتے ہیں اور جب وہ غائب ہوجائے تہیں تو لوگ حیران ہوجاتے ہیں۔ (المطالب العالیہ رقم الحدیث : ٤١٩٣، اتحاف السادۃ اطہرۃ رقم الحدیث : ٧٨٦٢، حافظ ابن حجر نے کہا : اس کی سند ضعیف ہے، مگر ہم کو مضر نہیں کیونکہ ہم نے اس کو تائید کے طور پر ذکر کیا ہے)

امام فخرالدین رازی متوفی ٦٠٦ ھ، علامہ نظام الدین نیشاپوری متوفی ٧٢٨ ھ اور علامہ آلوسی متوفی ١٢٧٢ ھ نے صحابہ کو ستارے قرار دینے کے متعلق یہ حدیث ذکر کی ہے :

حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرے اصحاب ستاروں کی مانند ہیں، تم نے ان میں سے جس کی بھی اقتداء کی تم ہدایت پاجائو گے۔ (تفسیر کبیر ج ٩ ص ٥٩٦، غرائب القرآن ج ٦ ص ٧٤، روح المعانی جز ٢٥ ص ٥٠ )

ہم نے اس حدیث کو اس لیے درج نہیں کیا کہ اس حدیث کی سند پر بہت سخت جرح کی گئی ہے، حافظ احمد بن علی بن حجر عسقلانی لکھتے ہیں :

اس حدیث کی کوئی اصل نہیں، اس کی سند میں جعفر بن عبدالواحد ہے اور وہ کذاب ہے، ابوبکر بزار نے کہا : یہ روایت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے صحیح نہیں، ابن جزم نے کہا : یہ حدیث جھوٹی موضوع باطل ہے۔ (تلخیص الحبیر ج ٤ ص ١٥٦٧، مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز، مکہ مکرمہ، ١٤١٧ ھ)

ہم نے اس حدیث کا ساقطہ الاعتبار ہونا اس لیے بیان کیا ہے کہ مفسرین سابقین کے ان بڑے ناموں کو دیکھ کر مبادا کوئی اس حدیث کو صحیح سمجھ لے اور اس میں حدیث کو بیان کرکے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف جھوٹی باتوں کی نسبت کرنے والوں میں شامل ہوجائے۔

اس کے بعد فرمایا : اور جو شخص نیکی کرے گا ہم اس نیکی کے حسن کو اور بڑھادیں گے، بیشک اللہ بہت بخشنے والا اور بہت قدر کرنے والا ہے “

اقتراف اور شکر کا معنی

اس آیت میں یہ الفاظ ہیں : ” ومن فقترف حسنۃ “ یعنی جو شخص نیکی کا کسب کرے گا، اقتراف کا معنی ہے : اکتساب۔

علامہ راغب اصفہانی متوفی ٥٠٢ ھ لکھتے ہیں : اقتراف کا اصل معنی ہے : درخت کی کھال چھیلنا، زخم کی کھال کو کریدنا، اس کا مجازی معنی ہے : کسب کرنا، خواہ کسب اچھا ہو یا بُرا، لیکن برے کسی میں اقتراف زیادہ مشہور ہے، کہا جاتا ہے : ” الاعتراف یزیل الاقتراف “ اعتراف جرم، ارتکاب جرم کو زائل کردیتا ہے، قرف کا معنی ہے : تہمت لگانا، کسی بات کو گھڑ کر یوں ظاہر کرنا کہ اصل میں یوں ہی ہے، قرآن مجید میں ہے :

ان الذین یکسبون الاثم سیجزون بما کانوا یقترفون (الانعام :12)

جولوگ گناہ کماتے ہیں ان کو عنقریب ان کے کرتوتوں کی سزا دی جائے گی

ولیقترفوا ماھم مقترفون (الانعام :311)

اور تاکہ وہ برے کام کریں جن برے کاموں کو وہ کرنے والے ہیں

(المفردات ج ٢ ص ٥١٨، دارحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٨ ھ)

علامہ مجد الدین المبارک بن محمد ابن الاثیرالجزری المتوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں :

قراف کا معنی جماع کرنا بھی ہے۔ حدیث میں ہے : جب ام کلثوم (رض) فوت ہوگئیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :

من کان منکم لم یقارف اھلہ الیلۃ فلید خل قبرھا۔

تم میں سے جس شخص نے آج رات اپنی بیوی سے جماع نہ کیا ہو وہ اس کی قبر میں داخل ہو۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٣٤٢، مسند احمد ج ٣ ص ١٢٦) (نہایہ ج ٤ ص ٤١، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤١٨ ھ)

اس آیت کے اس حصہ کا معنی یہ ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو اس کے عمل کا پورا پورا اجر دے گا اور اس حصہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو شکور فرمایا ہے، شکور کا معنی ہے : بہت زیادہ شکر کرنے والا، اور شکر اس فعل کو کہتے ہیں جس سے منعم کی تعظیم ظاہر ہو اور اس معنی میں اللہ تعالیٰ پر شکور کا اطلاق محال ہے، اس لیے یہاں شکور کا معنی مجازی مراد ہے، یعنی شکر کی بہت زیادہ جزاء دینے والا، اس لیے ہم نے اس کا ترجمہ قدردان کیا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 42 الشورى آیت نمبر 23