أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَكَذٰلِكَ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡكَ قُرۡاٰنًا عَرَبِيًّا لِّـتُـنۡذِرَ اُمَّ الۡقُرٰى وَمَنۡ حَوۡلَهَا وَتُنۡذِرَ يَوۡمَ الۡجَمۡعِ لَا رَيۡبَ فِيۡهِ‌ؕ فَرِيۡقٌ فِى الۡجَنَّةِ وَفَرِيۡقٌ فِى السَّعِيۡرِ ۞

ترجمہ:

اور ہم نے اسی طرح آپ کی طرف عربی میں قرآن کی وحی کی ہے، تاکہ آپ اہل مکہ اور اس کے گردونواح والوں کو عذاب سے ڈرائیں اور اسی طرح آپ یوم حشر کے عذاب سے ڈرائیں، جس کے وقوع میں کوئی شک نہیں ہے، (اس دن) ایک گروہ جنت میں ہوگا اور ایک گروہ دوزخ میں ہوگا

الشوریٰ : ٧ میں فرمایا : ” اور ہم نے اسی طرح آپ کی طرف عربی میں قرآن کی وحی کی ہے، تاکہ آپ اہل مکہ اور اس کے گردونواح والوں کو عذاب سے ڈرائیں اور اسی طرح آپ یوم حشر کے عذاب سے ڈرائیں، جس کے وقوع میں کوئی شک نہیں ہے، (اس دن) ایک گروہ جنت میں ہوگا اور ایک گروہ دوزخ میں ہوگا “

مکہ کو ام القریٰ فرمانے کی توجیہ

اس آیت میں مکہ کو ام القریٰ فرمایا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ عرب ہر چیز کی اصل کو ام کہتے ہیں اور مکہ کو ام القریٰ اس کی عظمت اور جلال کو ظاہر کرنے کے لیے فرمایا ہے کیونکہ مکہ مکرمہ بیت اللہ اور مقام ابراہیم پر مشتمل ہے کیونکہ روایت ہے کہ تمام زمین مکہ کے نیچے سے نکال کر پھیلائی گئی ہے، پس مکہ کے مقابلہ میں تمام شہر اس طرح ہیں جس طرح ماں کے مقابلہ میں اس کی بیٹیاں ہوتی ہیں اور اس کے گردونواح سے مراد ہے وہ تمام بستیاں اور متعدد قبائل جو مکہ کے گرد مکانات بنا کر رہتے تھے۔

یہ آیت پچھلی آیت سے مربوط ہے اور اس کا معنی ہے : جس طرح ہم نے آپ کی طرف یہ وحی کی ہے کہ آپ ان لوگوں کے وکیل اور حفیظ نہیں جنہوں نے اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو اپنا مددگار بنالیا ہے اسی طرح ہم نے آپ کی طرف عربی میں قرآن کی وحی کی ہے تاکہ آپ اہل مکہ اور اس کے گردونواح والوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرائیں۔

قرآن مجید اور احادیث صحیحہ سے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کا عموم

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اس آیت سے بظاہر معلوم ہوتا کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو صرف اہل مکہ کی طرف مبعوث کیا گیا ہو اور آپ تمام جہان والوں کے لیے رسول نہ ہوں، اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں مفہوم مخالف معتبر نہیں ہے۔ جیسے محمد رسول اللہ کا یہ معنی نہیں ہے کہ حضرت موسیٰ یا حضرت عیسیٰ اللہ کے رسول نہیں ہیں، اس طرح جب یہ فرمایا کہ آٰپ اہل مکہ اور اس کے گردونواح والوں کو عذاب سے ڈرائیں تو اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ آپ باقی دنیا والوں کو عذاب سے نہ ڈرائیں خصوصاً جب کہ قرآن مجید کی دیگر آیات اور احادیث میں یہ تصریح ہے کہ آپ کی بعثت تمام دنیا والوں کے لیے ہے اور آپ کو تمام جہان والوں کے ڈرانے کے لیے بھیجا ہے، قرآن مجید میں ہے :

تبرک الذی نزل الفرقان علی عبدہ لیکون للعلمین نذیرا (الفرقان :1)

اللہ بہت برکت والا ہے جس نے اپنا مکرم بندے پر قرآن کو نازل کیا تاکہ وہ تمام جہان والوں کے لیے عذاب سے ڈرانے والے ہوجائیں وما ارسلنک الا کافۃ للناس بشیرا ونذیرا (سبا :28) اور ہم نے آپ کو تمام لوگوں کے لیے صرف ثواب کی بشارت دینے والا اور عذاب سے ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔

قل یایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمعیا۔ (الاعراف :158) آپ کہیے : اے لوگو ! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔

وما ارسلنک الا رحمۃ للعلمین (الانبیاء : 107) اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کی طرف صرف رحمت بنا کر بھیجا ہے

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :

فضلت علی الانبیاء بست اطیت جوامع الکلم ونصرت بالرعب واحلت لی الغنائم وجعلت لی الارض طھورا ومسجدا وارسلت الی الخلق کافۃ وختم ہی النبیون۔ مجھے انبیاء پر چھ وجوہ سے فضیلت دی گئی ہے : مجھ مختصر اور جامع کلام دیا گیا ہے اور میری رعب سے مدد کی گئی ہے اور میرے لیے غنیمتوں کو حلال کردیا گیا ہے اور میرے لیے تمام روئے زمین کو آلہ طہارت اور مسجد بنادیا گیا ہے اور مجھے تمام مخلوق کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہے اور مجھ پر نبیوں کو ختم کیا گیا ہے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٥٢٣، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٥٥٣، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٥٦٧، مسند احمد ج ٢ ص ٤١٢)

حضرت جابر بن عبداللہ انصاری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :

اطیت خمسالم یعطھن احد قبلی، کان کل نسبی یبعث الی قومہ خاصۃ وبعثت الی کل احمر واسود واحلت لی الغنائم ولم تحل لاحد قبلی وجعلت لی الارض طیبۃ وظھورا و مسجدا فایما رجل ادرکتہ الصلوٰۃ صلی حیث کان، ونصرت بالرعب بین یدی کسیرۃ شھر واعطیت الشفاعۃ۔

مجھے پانچ ایسی چیزیں دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں، ہر نبی صرف اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا اور مجھے ہر گورے اور کالے کی طرف بھیجا گیا ہے اور میرے لیے غنیمتوں کو حلال کردیا گیا ہے اور مجھ سے پہلے کسی کے لیے غنیمتیں حلال نہیں تھیں اور میرے لیے تمام روئے زمین کو پاکیزہ اور آلہ طہارت اور مسجد بنادیا گیا ہے، پس جس شخص پر جس وقت اور جس جگہ بھی نماز کا وقت آئے وہ وہیں نماز پڑھ لے اور ایک ماہ کی مسافت سے میرا رعب طاری کرکے میری مدد کی گئی ہے اور مجھے شفاعت دی گئی ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٣٥، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٥٦١، سنن النسائی رقم الحدیث : ٤٣٠، جامع المسانید والسنن مسند جابر بن عبداللہ رقم الحدیث : ١٨٦٤ )

نیز قرآن مجید اور دیگر معجزات سے ثابت ہے کہ آپ صادق القول ہیں اور ان احادیث میں آپ کا یہ ارشاد ہے کہ آپ تمام مخلوق کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں، پس ثابت ہوا کہ آپ تمام مخلوق کی طرف رسول ہ ہے۔

ایک فریق کے جنتی اور دوسرے فریق کے دوزخی ہونے کے ثبوت میں احادیث

نیز اس آیت میں فرمایا : ” آپ یوم الجمع کے عذاب سے ڈرائیں ” یوم الجمع “ سے مراد یوم الحشر ہے اور یوم الحشر کو یوم الجمع فرمانے کی کئی وجوہ ہے : (١) اس دن تمام مخلوق جمع ہوگی، جیسے فرمایا : یوم یجمعکم لیوم الجمع۔ (التغابن :9) جس دن تم سب کو اس جمع ہونے کے دن جمع کرے گا۔

اس دن اللہ تعالیٰ تمام آسمان والوں اور زمین والوں کو جمع فرمائے گا (٢) اس دن اللہ تعالیٰ روحوں اور جسموں کو جمع فرمائے گا (٣) اس دن اللہ تعالیٰ عمل کرنے والوں اور ان کے اعمال کو جمع فرمائے گا (٤) اس دن اللہ تعالیٰ ظالم اور مظلوم کو جمع فرمائے گا۔

اس کے بعد فرمایا : ”(اس دن) ایک گروہ جنت میں ہوگا اور ایک گروہ دوزخ میں ہوگا “ ایک گروہ کے جنتی اور ایک گروہ کے دوزخی ہونے کے متعلق حسب ذیل احادیث ہیں :

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو انصار کے ایک بچہ کی نماز جنازہ پڑھانے کے لیے بلایا گیا، میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! اس بچہ کے لیے خوشی ہو، یہ تو جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑایا ہے، اس نے کوئی بُرا کام کیا نہ کسی بُرائی کو پایا، آپ نے فرمایا : اے عائشہ ! اس کے سوا اور کوئی بات بھی ہوسکتی ہے، بیشک اللہ نے جنت کے لیے ایک گروہ کو پیدا کیا اور جس وقت ان کو جنت کے لیے پیدا کیا اس وقت وہ اپنے آباء کی پشتوں میں تھے اور دوزخ کے لیے ایک گروہ کو پیدا کیا اور جس وقت ان کو دوزخ کے لیے پیدا کیا اس وقت وہ اپنے آباء کی پشتوں میں تھے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٦٦٢، جامع المسانید والسنن مسندعائشہ رقم الحدیث : ٣٥٠٥)

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) باہر آئے، اس وقت آپ کے ہاتھ میں دو کتابیں تھیں، آپ نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو کہ یہ کیسی دو کتابیں ہیں ؟ ہم نے عرض کیا : نہیں یارسول اللہ ! ماسوا اس صورت کے کہ آپ ہم کو اس کی خبردیں، آپ کے دائیں ہاتھ میں جو کتاب تھی، آپ نے اس کے متعلق فرمایا : یہ رب العٰلمین کی طرف سے کتاب ہے، اس میں اہل جنت کے اسماء ہیں اور ان کے آباء اور قبائل کے اسماء ہیں، پھر ان کے آخر میں میزان کردیا گیا ہے، اب ان میں کبھی بھی کوئی زیادتی ہوگی نہ کوئی کمی ہوگی، پھر اس کتاب کے متعلق فرمایا جو آپ کے بائیں ہاتھ میں تھی، یہ رب العٰلمین کی طرف سے کتاب ہے، اس میں اہل دوزخ کے اسماء ہیں اور ان کے آباء اور قبائل کے اسماء ہیں اور ان کے آخر میں میزان کردیا گیا ہے، پس اس میں کوئی زیادتی ہوگی نہ کوئی کمی ہوگی، پھر آپ کے اصحاب نے کہا : یارسول اللہ ! جب ہر چیز کو لکھ کر فراغت ہوگی ہے تو پھر عمل کس لیے ہوگا ؟ آپ نے فرمایا : تم درست کام کرو اور صحت کے قریب کرو کیونکہ جتنی شخص کا خاتمہ اہل جنت کے اعمال پر ہوگا، خواہ اس نے کیسے ہی عمل کیے ہوں اور دوزخی شخص کا خاتمہ اہل دوزخ کے اعمال پر ہوگا، خواہ اس نے کیسے ہی عمل کیے ہوں، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے دونوں ہاتھ جھاڑ دیئے، پھر فرمایا : تمہارا رب فارغ ہوچکا ہے، ایک فریق جنت میں ہوگا اور ایک فریق دوزخ میں ہوگا۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢١٤١، مسند احمد ج ٢ ص ١٦٧، جامع المسانید والسنن مسند جابر بن عبداللہ رقم الحدیث : ٤٤٧ )

اللہ تعالیٰ نے ان ہی لوگوں کے اسماء اہل جنت کی کتاب میں لکھے ہیں جن کے متعلق اس کو ازل میں علم تھا کہ وہ اپنے اختیار سے اہل جنت کے کام کریں گے، علی ہذا القیاس ان ہی لوگوں کے اسماء اہل دوزخ کی کتاب میں لکھے جن کے متعلق اس کو ازل میں علم تھا کہ وہ اپنے اختیار سے اہل دوزخ کے کام کریں گے۔

حضرت ابوالدرداء (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب اللہ نے حضرت آدم کو پیدا فرمایا تو ان کے دائیں کندھے پر ہاتھ مارا تو اس سے چیونٹیوں کی جسامت میں ان کی سفید اولاد کو نکالا اور ان کے بائیں کندھے پر ہاتھ مارا تو اس سے ان کی سیاہ اولاد کو نکالا گویا کہ وہ کوئلوں کی طرح تھے، پھر دائیں جانب والی اولاد کے متعلق فرمایا : یہ جنت کی طرف مارا تو اس سے ان کی سیاہ اولاد کے متعلق فرمایا : یہ دوزخ کی طرف ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے۔ (مسند احمد ج ٦ ص ٤٤١، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٣٣٨، مسند ابویعلیٰ رقم الحدیث : ٣٤٥٣۔ ٣٤٥٢، مسند البزار رقم الحدیث : ٢١٤٣ )

حضرت ابونظرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب میں سے ایک شخص تھا جس کا نام ابوعبد اللہ تھا، اس کے اصحاب اس کی عیادت کے لیے گئے تو وہ رورہا تھا، اس کے اصحاب نے پوچھا : تم کس وجہ سے رو رہے ہو ؟ کیا تم سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ نہیں فرمایا تھا : تم اپنی مونچھیں کم کرو پھر ان کو برقرار رکھو، حتیٰ کہ تمہاری مجھ سے قیامت کے دن ملاقات ہو، اس نے کہا : کیوں نہیں، لیکن میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ عزوجل نے ایک مٹھی بند کی، پھر دوسری مٹھی بند کی اور فرمایا : یہ مٹھی اہل جنت کی ہے اور یہ مٹھی اہل دوزخ کی ہے اور مجھے کوئی پرواہ نہیں اور میں نہیں جانتا کہ میں ان دو مٹھیوں میں سے کون سی مٹھی میں ہوں گا۔ (اس حدیث کی سند صحیح ہے) (مسند احمد ج ٤ ص ١٧٧۔ ١٧٦، مسنداحمد ج ٥ ص ٢٣٩، المعجم الکبیر ج ٢٠ ص ١٧٢)

اگر یہ سوال کیا جائے کہ اس آیت میں پہلے فرمایا ہے : اس دن وہ سب جمع ہوں گے، پھر فرمایا : ایک فریق جنت میں ہوگا اور ایک فریق دوزخ میں ہوگا اور یہ ان کے جمع ہونے کے خلاف ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ پہلے وہ حساب کے لیے میدان حشر میں جمع ہوں گے، پھر حساب کتاب کے بعد ایک فریق جنت میں چلا جائے گا اور ایک فریق دوزخ میں بھیج دیا جائے گا۔

القرآن – سورۃ نمبر 42 الشورى آیت نمبر 7