أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَوۡ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَهُمۡ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّلٰـكِنۡ يُّدۡخِلُ مَنۡ يَّشَآءُ فِىۡ رَحۡمَتِهٖ‌ؕ وَالظّٰلِمُوۡنَ مَا لَهُمۡ مِّنۡ وَّلِىٍّ وَّلَا نَصِيۡرٍ ۞

ترجمہ:

اور اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ایک گروہ بنا دیتا ، لیکن اللہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرتا ہے اور ظالموں کا نہ کوئی کارساز ہے اور نہ کوئی مددگار

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

اور اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ایک گروہ بنا دیتا ، لیکن اللہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرتا ہے اور ظالموں کا نہ کوئی کارساز ہے اور نہ کوئی مددگار کیا انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو مددگار بنارکھا ہے، پس اللہ ہی مددگار ہے اور وہی مردوں کو زندہ فرمائے گا اور وہی ہر چیز پر قادر ہے (الشوریٰ : 8-9)

بتوں کو دلی اور کار ساز بنانے کی مذمت

اس آیت میں الشوریٰ : ٦ کی تاکید ہے جس میں فرمایا تھا ” اور جن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو مددگار بنا رکھا ہے، اللہ ان سے خبردار ہے اور آپ ان کے ذمہ دار نہیں ہیں “ اسکا معنی یہ ہے کہ آپ ان کو بہ زور اور جبراً مومن اور موجد بناے والے نہیں ہیں، ہاں ! اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو اپنی قدرت سے جبراً مومن اور موحد بنا دیتا ، کیونکہ اللہ عتالیٰ ہی سب سے زیادہ قادر ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت سے بعض کو مون بنایا اور بعض کو ان کے کفر پر چھوڑ دیا، اس لیے فرمایا : ” اللہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرتا ہے “ اس قول میں بتایا ہے : اللہ تعالیٰ ہی بندوں کو ایمان اور اطاعت میں داخل کرتا ہے اور اس کے بعد جو فرمایا ہے : ” اور ظالموں کو نہ کوئی کار ساز ہوگا نہ کوئی مددگار “ اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ظالموں کو اپنی رحمت میں داخل نہیں کیا اور اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ پہلا گروہ جو اللہ تعالیٰ کی حرمت میں داخل ہے اس کے ولی اور نصیر ہیں، یعنی انبیاء (علیہم السلام) اور اولیاء کرام ان کے دنیا اور آخرت میں کار ساز اور مددگار ہیں جن کے وسیلہ سے ان کو دنیا میں نعمتیں حاصل ہوں گی اور ان کی دعائیں قبول ہوں گی اور آخرت میں ان کی شفاعت ان کے کام آئے گی اور ان کو عذاب سے نجات ملے گی اور جنت ملے گی اور دوسرا گروہ جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت میں داخل نہیں کیا وہ آخرت میں بےیارومددگار ہوگا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 42 الشورى آیت نمبر 8