أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَا تَفَرَّقُوۡۤا اِلَّا مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَهُمُ الۡعِلۡمُ بَغۡيًاۢ بَيۡنَهُمۡ‌ؕ وَلَوۡلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتۡ مِنۡ رَّبِّكَ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى لَّقُضِىَ بَيۡنَهُمۡ‌ؕ وَ اِنَّ الَّذِيۡنَ اُوۡرِثُوا الۡكِتٰبَ مِنۡۢ بَعۡدِهِمۡ لَفِىۡ شَكٍّ مِّنۡهُ مُرِيۡبٍ ۞

ترجمہ:

اور انہوں نے اسی وقت تفرقہ ڈالا تھا جب ان کے پاس علم آچکا تھا اور وہ تفرقہ بھی باہمی سرکشی کی وجہ سے تھا اور اگر آپ کے رب کی طرف سے (نزول عذاب کی) ایک میعاد مقرر نہ ہوچکی ہوتی تو ان کے درمیان فیصلہ ہوچکا ہوتا اور بیشک جن لوگوں کو ان کے بعد کتاب دیگئی ہے وہ بھی اس کے متعلق الجھن میں ڈلنے والے شک میں ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

اور انہوں نے اسی وقت تفرقہ ڈالا تھا جب ان کے پاس علم آچکا تھا اور وہ تفرقہ بھی باہمی سرکشی کی وجہ سے تھا اور اگر آپ کے رب کی طرف سے (نزول عذاب کی) ایک میعاد مقرر نہ ہوچکی ہوتی تو ان کے درمیان فیصلہ ہوچکا ہوتا اور بیشک جن لوگوں کو ان کے بعد کتاب دی گئی ہے وہ بھی اس کے متعلق الجھن میں ڈلنے والے شک میں ہیں پس اسی قرآن کی طرف آپ دعوت دیں اور جس طرح آپ کو حکم دیا گیا ہے آپ اسی پر مستقیم (برقرار) ہیں اور ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کریں اور آپ کہیے میں ان تمام چیزوں پر ایمان لایا جو اللہ نے کتاب میں نازل کی ہیں اور مجھے تمہارے درمیان عدل کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اللہ ہمارا رب ہے اور تمہارا رب ہے، ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لیے تمہارے اعمال ہیں، ہمارے اور تمہارے درمیان کوئی ذاتی جھگڑا نہیں ہے، اللہ ہم سب کو جمع فرمائے گا اور اسی کی طرف (سب کو) توٹنا ہے (الشوریٰ :14-15)

انبیاء (علیہم السلام) کے بعد دین میں تفرقہ ڈالنے والے کون تھے ؟ عرب یا اہل کتاب ؟

اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء (علیہم السلام) اور ان کی امتوں کو یہ حکم دیا تھا کہ وہ اس دین پر ایمان لائیں جو حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر تمام نبیوں اور رسولوں میں مشترک رہا ہے اور جن لوگوں نے بھی اس متفق علیہ دین کی مخالفت کی وہ جان بوجھ کر کی، حالانکہ انہیں اس بات کا علم تھا کہ یہی دین برحق ہے اور اس کی مخالفت گمراہی ہے، لیکن انہوں نے محض سرکشی اور اپنی ریاست قائم کرنے کے لیی اس دین کی مخالفت کی اور انہوں نے محض اپنا تفوق اور برتری ظاہر کرنے کے لیے اور لوگوں کو اپنے خود ساختہ نظریات کا پیروکار بنانے کے لیے اس دین کی مخالفت کی۔

پھر اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا کہ وہ اس دین کی مخالفت کرنے کی وجہ سے عذاب کے مستحق ہوگئے، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان پر فوراً عذاب نازل کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس عذاب کو نازل کرنے کی ایک معیاد مقرر ہے، نزول عذاب کی وہ میعاد کون سی ہے، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دنیا میں عذاب نازل کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی وقت مقرر ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان کو عذاب دے۔ باقی رہا یہ کہ وہ کون لوگ ہیں جنہوں نے اس اتفاقی دین کی مخالفت کی، بعض مفسرین نے کہا : اس سے مراد عرب ہیں، لیکن صحیح یہ ہے کہ اس سے اہل کتاب میں سے یہود اور نصاریٰ مراد ہیں جیسا کہ حسب ذیل آیات سے واضح ہے۔

وما اختلف الذین اوتوا الکتب الا من بعدما جاء ھم العلم بغیا بینھم۔ (آل عمران :19)

اور اہل کتاب نے آپس میں سرکشی کی وجہ سے اس کے بعد ہی اختلاف کیا ہے جب ان کے پاس علم آچکا تھا۔

وما تفرق الذین اوتوا الکتب الا من بعدما جائتھم البینۃ (البینۃ :4)

اور اہل کتاب نے اس کے بعد ہی تفرقہ کیا ہے جب ان کے پاس کتاب آچکی تھی

اس لیے اس آیت (الشوریٰ : ١٣) سے مراد اہل کتاب ہیں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں تھے، وہ اس کتاب کے متعلق الجھن میں ڈالنے والے شک میں مبتلا تھے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 42 الشورى آیت نمبر 14