أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَهُوَ الَّذِىۡ يُنَزِّلُ الۡغَيۡثَ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا قَنَطُوۡا وَيَنۡشُرُ رَحۡمَتَهٗ‌ ؕ وَهُوَ الۡوَلِىُّ الۡحَمِيۡدُ ۞

ترجمہ:

وہی ہے جو لوگوں کے مایوس ہونے کے بعد بارش نازل فرماتا ہے اور اپنی رحمت پھیلاتا ہے اور وہی مددگار ہے، بہت حمد کیا ہوا

الشوریٰ : ٢٨ میں فرمایا : ” وہی ہے جو لوگوں کے مایوس ہونے کے بعد بارش نازل فرماتا ہے اور اپنی رحمت پھیلاتا ہے اور وہی مددگار ہے، بہت حمد کیا ہوا “

غیث اور قنوط کا معنی

اس آیت میں ” غیث “ کا لفظ ہے، غیث کا معنی ہے : بارش، بادل اور گھاس کو بھی غیث کہتے ہیں۔ (مختار الصحاح ص ٢٨٧) اور اس آیت میں ” قنطوا “ کا لفظ ہے، قنوط کا معنی ہے : مایوس ہونا۔ (مختار الصحاح ص ٣٢٣ )

قحط کے زمانہ میں جب لوگ بارش کے نازل ہونے سے مایوس ہوجاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ لوگوں پر اچانک بارش نازل فرما دیتا ہے اور مایوسی کے بعد بارش کو نازل کرنا لوگوں کے لیے زیادہ شکرادا کرنے کا موجب ہے کیونکہ مصیبت کے بعد جب نعمت حاصل ہوتی ہے تو وہ زیادہ شکر کا موجب ہوتی ہے۔

بارش ہونے اور بارش نہ ہونے کی وجوہ کے متعلق احادیث

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں لوگ قحط میں مبتلا ہوگئے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے کہ ایک اعرابی کھڑا ہوا اور کہنے لگا : یارسول اللہ ! مال مویشی ہلاک ہوگئے اور بچے بھوکے ہیں، آپ اللہ سے ہمارے لیے دعا کیجئے، آپ نے ہاتھ اٹھا کر دعا کی : ہم اس وقت آسمان میں کوئی بادل کا ٹکرا نہیں دیکھ رہے تھے، پس اس ذات کی قسم ! جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے، ابھی آپ نے اپنے اٹھے ہوئے ہاتھ نیچے نہیں کیے تھے، حتیٰ کہ پہاڑوں کی مانند بادل امنڈ آئے، پھر ابھی آپ منبر سے نیچے نہیں اترے تھے کہ آپ کی ڈاڑھی مبارک سے بارش کے قطرے ٹپک رہے تھے، پس اس دن بارش ہوتی رہی، پھر اگلے دن بارش ہوتی رہی، پھر اس کے اگلے دن بارش ہوتی رہی حتیٰ کہ دوسرا جمعہ آگیا، پھر وہی اعرابی یا کوئی دوسرا عرابی کھڑا ہوا اور اس نے کہا : یارسول اللہ ! مکانات منہدم ہوگئے، مال مویشی غرض ہوگئے، سو آپ ہمارے لیے دعا کریں، پس آپ نے ہاتھ اٹھا کر دعا کی : اے اللہ ! ہمارے ارد گرد بارش نازل فرما، ہم پر بارش نہ نازل فرما، پس آپ جس طرف بھی اشارہ فرماتے تھے اس طرف سے بادل ہٹتے جاتے تھے اور مدینہ خالی زمین کے ٹکڑے کی طرح ہوگیا اور جو شخص بھی کسی طرف سے آتا تھا وہ زمین کی زرخیزی کی خبر دیتا تھا۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٩٣٣، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٨٩٧، سنن ابودائود رقم الحدیث : ١١٧٥، سنن نسائی رقم الحدیث : ١٥١٥۔ ١٥١٤۔ ١٥١٣، جامع المسانید والسنن مسند انس بن مالم رقم الحدیث : ١٦٥٦ )

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم اپنے شہروں کے قحط اور بارش کے دیر سے ہونے کی شکایت کرتے ہو، حالانکہ عزوجل نے تم کو یہ حکم دیا ہے کہ تم اس سے دعا کرو اور اس نے تم سے یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ تمہاری دعا قبول فرمائے گا، تم یہ دعا کرو :

اللھم انت اللہ لا الہ الا انت الغنی ونحن الفقراء انزل علینا الغیث والجعل ماانزلت علینا قوۃ وبلاغا الی حین۔

الے اللہ ! تیرے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں، توغنی ہے اور ہم محتاج ہیں، ہم پر بارش نازل فرما اور ہم پر جو بارش نازل فرمائے اس کو ہمارے لیے ایک مدت تک قوت اور رزق کا ذریعہ بنادے۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث : ١١٧٣، کنزالعمال رقم الحدیث : ٢١٥٨٧)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب اللہ تعالیٰ کسی قوم پر غضب ناک ہوتا ہے تو ان پر زمین میں دھنسانے کا عذاب نازل نہیں کرتا اور نہ ان کی شکلیں مسخ کرتا ہے، ان کے غلے کے نرخ مہنگے ہوجاتے ہیں اور ان سے بارشیں روک لی جاتی ہیں اور ان کے بدترین لوگ ان پر حاکم بنادیئے جاتے ہیں۔ (جمع الجوامع رقم الحدیث : ٦٦٨١، الجامع الصغیر رقم الحدیث : ١٦٧٩، کنزالعمال رقم الحدیث : ٢١٥٩٦)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ انبیاء میں سے ایک نبی لوگوں کو لے کر اللہ تعالیٰ سے بارش کی دعا کرنے گئے تو ایک چیونٹی نے بھی اپنی ٹانگوں پر کھڑے ہو کر دعا کے لیے اپنے ہاتھ اٹھالیے تو اس نبی نے لوگوں سے کہا : واپس چلو، اس چیونٹی کی وجہ سے تمہاری دعا قبول ہوگئی۔ (المستدرک ج ١ ص ٣٢٦، کنز العمال رقم الحدیث : ٢١٤٨٩)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہارا رب عزوجل فرماتا ہے : اگر میرے بندے میری اطاعت کریں تو میں رات میں ان پر بارش نازل کروں گا اور دن میں اس کے لیے دھوپ نکالوں گا اور ان کو بادل کی گرج نہیں سنائوں گا۔ (مسند احمد ج ٢ ص ٣٥٩ طبع قدیم، مسند احمد ج ١٤ ص ٣٥٩، رقم الحدیث : ٨٧٠٨، مسند البزار رقم الحدیث : ٦٦٤، المستدرک ج ٤ ص ٢٥٦ )

” ولی حمید “ کا معنی

اور فرمایا :” اور وہی ولی حمید ہے “۔ ولی کا معنی ہے : وہ مالک ہے اور اپنے بندوں پر احسان اور اکرام کرنے کا والی ہے اور رحمت کو پھیلانے والا ہے اور حمید کا معنی ہے : وہی حمد اور ستائش کا مستحق ہے، اس کے علاوہ اور کوئی تمام کمالات اور تمام نعمتوں پر تعریف کیے جانے کے لائق نہیں ہے اور ولی کا ایک اور معنی یہ ہے کہ وہی بارش کو نازل کرنے کا مالک ہے اور بارش پر تصرف کرنے والا ہے، وہ جب چاہے بارش کو نازل فرماتا ہے اور جب چاہے بارش کو روک دیتا ہے اور وہی اس تکوینی نظام کو جاری رکھنے پر حمد کا مستحق ہے اور لوگ بارش کے نزول میں اس کے محتاج ہیں اور جب محتاج اور پریشان حال بارش کے حصوں کے لیے اس کی بارگاہ میں ہاتھ اٹھا کر دعا کرتا ہے اور گڑگڑاتا ہے تو وہی اس کی دعا کو قبول فرماتا ہے، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی امید اور یاس کے حال میں پرورش فرماتا ہے، جب بندوں پر مایوسی غالی ہو اور وہ خوب زدہ ہوں تو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کو ان پر انڈیل دیتا ہے اور خشک سالی اور پانی کی فراوانی اور تنگی اور کشادگی انسان پر باری باری آتی رہتی ہے، انسان نہ ہمیشہ خوش حال رہتا ہے نہ ہمیشہ تنگ دست رہتا ہے، اسے چاہیے کہ کشادگی میں اس کا شکر ادا کرے اور تنگی میں صبر کرے اور صرف اسی سے فریاد کرے۔

القرآن – سورۃ نمبر 42 الشورى آیت نمبر 28