{ چاند دیکھنے کے احکام اوررویت کے مسائل }

مسئلہ : اگر مطلع صاف ہو اورعامہ مسلمین چاند دیکھنے میں کوشاں رہتے ہیں اوراس طرف بکثرت متوجہ ہیں توایک جماعت عظیم چاہیے جو اپنی آنکھ سے چاند دیکھنا بیان کرے جس کے بیان سے خوب غلبہ ظن ہوجائے کہ چاند یقینی طور پر ہوچکا اگر چہ بیان کرنے والے غلام یا فاسق مُعلن ہوں اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ بحال صفائی مطلع دیکھیں گے کہ وہاں کے مسلمان چاند دیکھنے میں کوشش رکھتے ہیں بکثرت لوگ متوجہ ہوتے ہیں یا کاہل ہیں دیکھنے کی پرواہ نہیں ہے بے پرواہی کی صورت میں کم از کم دودرکا ر ہوں گے اگر چہ مستورالحال ہوں ورنہ ایک جماعت عظیم چاہیے کہ اپنی آنکھ سے چاند دیکھنا بیا ن کرے جس کے بیان سے خوب غلبہ ظن حاصل ہوجائے کہ ضرور چاند ہوا اگر چہ غلام یا کملے فاسق۔(فتاویٰ رضویہ چوتھی جلد)

مسئلہ : ایسے ہی ردالمختار میں علامہ شامی فرماتے ہیں جب آسمان صاف ہوتو روزے ، عید اور دوسرے مہینوں کے چاند کی خبر کے مقبول ہونے کے لئے جماعتِ کثیر کا گواہی دینا شرط ہے ایک شخص کی شہادت قبول نہیںکی جائیگی کیونکہ اس کا چاند دیکھنا جماعتِ کثیرہ کے معاملے میں مختلف ہونا یقینی طور پر اس کے غلطی پر ہونے میں ظاہر ہے اوریہ صورت میںہے جس کے لوگ کا مل یکسوئی کے ساتھ چاند دیکھنے کی کوشش کرتے ہوں اورکوئی مانع بھی موجودنہ ہو نیز سب کی نگاہیں بھی سلامت ہوں اگرچہ ان کی قوتِ بصارت مختلف ہو۔(فتاویٰ شامی 356/3مطبوعہ بیروت)

قربِ قیامت کی ایک علامت یہ ہے کہ ہلال سامنے ہی پڑے گا دیکھنے والا کہے کہ دورات کا ہے ۔

حدیث شریف: صحیح مسلم میں ابو البختری سے مروی ہے کہ ہم عُمرے کو نکلے بطن تخلہ میں ھلال دیکھا۔ کسی نے کہا کہ تین رات کا ہے ، کسی نے کہا دو رات کا ہے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے حال عرض کیا فرمایا تم نے کس رات دیکھا ہم نے فلاں رات کہا کہا سرکارِ اعظم ﷺفرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اِسے روایت پر موقوف فرمایا ہے توجس رات تم نے دیکھا اِسی رات کا ہے ۔(صحیح مسلم جلد اوّل صفحہ 348مطبوعہ قدیمی کتب خانہ )

اس سے معلوم ہوا کہ قربِ قیامت میں لوگ چاند میں شک کریں گے ۔

مسئلہ : یومِ شک روزے کے باب میں تیس شعبان ہے اوراس میں رمضان کا روزہ رکھنا ممنوع ہے حدیث شریف میں ہے کہ جس شخص نے یومِ شک کا روزہ (فرض) رکھا توبے شک اس نے ابو القاسم (محمد ﷺ) کی نافرمانی کی ۔(بحوالہ : صحاح ستہ)

مسئلہ : اگر بالفرض 28روزوں کے بعد چاند نظر آجائے مثلاً رمضان کا چاند دکھائی نہ دیا اور شعبان کے تیس دن پورے کرکے روزے شروع کردئیے اٹھائیس ہی روزے رکھے تھے کہ عید کا چاند ہوگیا تو(1) اگر شعبان کاچاند دیکھا تیس دن کا مہینہ قرار دیا تھا تو ایک روزہ قضا رکھے اور (2)اگر شعبان کا بھی چاند دکھائی نہ دیا تھا بلکہ رجب کی تیس تاریخیں کرکے شعبان کا مہینہ شروع کیا تو دو روزے قضا کے رکھے ۔(فتاویٰ ہندیہ )

مسئلہ : اگر ہلال شوال دن چڑھے تحقیق ہواور بارش شدید ہوبعض اہلِ شہر نمازِ عیدپڑھ لیں اوربعض بسبِ بارش نہ پڑھیں توباقی ماندہ بے شک دوسرے دن عید اداکریںکہ نمازِعید الفطر میں بوجہ عذر ایک دن کی تاخیر جائز ہے اوربارش کا عذر۔(احکام شریعت حصّہ سوئم)

مسئلہ : عید الفطر کی نماز بلاشرعی عذر روز اوّل نہ پڑھی ہوتو روزدوم اصلاًصحیح نہیں نہ یہ کہ مع الکراہت جائز ہو۔ یاعامہ معتبرات میں اس کی تصریح ہے مصنف خطبہ کہ شخص مجہول ہے قابل اعتماد نہیں اسے نماز عید الالضحیٰ سے اشتباہ گزرا کہ وہاں دو روزکی تاخیر بوجہ عذر بلا کراہت اوربِلا عذر بروجہ کراہت رواہے ۔(احکامِ شریعت حصّہ سوم)