کال نہ سننا 📲

ایک دوست مجھے باربار کال کرتے رہے لیکن میں اُن کی کال نہ سن سکا ، تو فرمانے لگے:

” آپ کا اس بندے کے بارے میں کیا خیال ہے جس کا دروازہ بار بار کھٹکھٹایا جائے اور وہ اندر ہوتے ہوئے بھی نہ کھولے ؟ “

میں نے عرض کی:

اس بندے کے بارے میں میرا یہ خیال ہے کہ وہ معذور ہے ‌، اس کے بارے میں حُسن ظن رکھنا چاہیے ، اور ناراض ہوئے بغیر واپس لوٹ جانا چاہیے ۔

سیدناابوموسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہ ایک دفعہ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے ملنے کے لیے گئے اور ان کے دروازے پر تین بار سلام کر کےاجازت طلب کی ، لیکن دروازہ نہ کھلا تو واپس لوٹ آئے ۔

سیدنا فاروق اعظم نے اپنے معمولات سے فارغ ہوکر آپ کو بلایا اور بغیر ملاقات کیے واپس چلے جانے کا سبب پوچھا تو کہنے لگے:

میں نے رسول‌اللہ ﷺ سے سناہے:

اذا سلم احدكم ثلاثا ، فلم يجب فليرجع ۔

جب تم میں سے کوئی‌( کسی‌ سے ملنے جائے ، اور اس کے دروازے پر اجازت لینے کے لیے ) تین بار سلام کرے ، تو اگرجواب نہ ملے تو ( بغیر ناراض ہوئے ) واپس لوٹ جائے ۔

( ملخصاً: مصنف عبدالرزاق ، کتاب الجامع ، باب الاستئذان ثلاثا ، ر 19423 )

🌸 مجبوری اور مصروفیت ہر انسان کے ساتھ ہوتی ہے ، کال اور میسج کرنے والے نے تو اپنے وقت کے مطابق رابطہ کرلیا ۔۔۔۔۔۔۔ اسے کیا معلوم جس سے رابطہ کیا ہے وہ اس وقت کس حال میں ہے !

اس لیے دینِ فطرت پر عمل کیجیے اور ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں پر اپنی بے لوث محبتیں قربان نہ ہونے دیجیے ۔

موبائل فون رکھا ہی کال سننے کے لیے ہوتاہے ، دوسرے کام تو ضمنی ہوتے ہیں ؛ اب اگر کسی کی کال نہ سننی ہو تو یہ رکھنے کا مطلب ہی نہیں ۔

✍️لقمان شاہد

3-7-2021