حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی زبانی افضیلیت حضرت ابوبکر صدیقؓ پر حضرت عمر بن خطابؓ کا استدلال اور دیگر صحابہؓ کی شہادت !!

تحریر : اسد الطحاوی الحنفی البریلوی

امام الآجری اپنی سند سے

حدثنا أبو الفضل العباس بن علي بن العباس النسائي قال حدثنا مشرف بن سعيد الواسطي قال: حدثنا أحمد بن داود أبو سعيد قال: حدثنا محمد بن يزيد الواسطي , عن إسماعيل بن أبي خالد , عن زر , عن عبد الله بن مسعود قال:

” كان رجوع الأنصار يوم سقيفة بني ساعدة بكلام قاله عمر رضي الله عنه: ألستم تعلمون أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قدم أبا بكر فصلى بالناس؟ قالوا: اللهم نعم قال: فأيكم تطيب نفسه أن يتقدم أبا بكر؟ قالوا: كلنا لا تطيب نفسه نحن نستغفر الله عز وجل “

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں :

سقیفہ بنو ساعد کے دن انصار نے اس کلام کی طرف رجوع کیا تھا جو حضرت عمرؓ بن خطاب نے ارشاد فرمایا تھا ۔

(حضرت عمرؓ نے فرمایا تھا ) کیا تم لوگ یہ بات نہیں جانتے کہ اللہ کے رسولﷺ نے حضرت ابو بکر ؓ کو آگے کیا تھا تاکہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ! ان لوگوں نے(بنو ساعدہ کے انصار) نے کہا : اللہ جانتا ہے کہ ایسا ہی ہے ۔ تو حضرت عمر بن خطابؓ نے فرمایا : پھر تم میں کون اس بات کا خواہش مند ہوگا کہ وہ حضرت ابو بکرؓ سے آگے بڑھ جائے !(اور نبی کریمﷺ کی پسند کا انکار کرے ) تو ان لوگوں نے کہا :

ہم میں سے کوئی بھی اس بات کا خواہش مند نہیں ہوگا اور ہم اس بات سے اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتے ہیں (کہ ہم خود کو یا کسی اور کو حضرت ابو بکر صدیقؓ کی ذات پر مقدم کریں )

[الشریعہ للآجری بغدادی برقم : 1198]

سند کے رجال کا تعارف!!!

پہلاراوی : العباس بْن علي بْن العباس بْن واضح بْن سوار بْن عبد الرحمن بْن عبد اللَّه يعرف بالنسائي

امام خطیب بغدادی انکے بارے فرماتے ہیں :

وكان ثقة.

[تاريخ بغداد برقم : 6577]

دوسرا راوی : مشرف بن سعيد، أَبُو زيد الواسطي، مولى سعيد بن العاص

امام خطیب بغدادی انکے بارے لکھتے ہیں :

وكان ثقة.

[تاریخ بغداد برقم: 7147]

تیسرا راوی : أحمد بن داود، أبو سعيد الواسطيُّ، الحدَّاد

امام ذھبی انکی توثیق نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

وثقه ابن معين.

وقال ابن حبان: كان حافظا متقنا.

[تاریخ الاسلام برقم : 8]

چوتھا راوی : محمد بن يزيد الكلاعي، أبو سعيد، ويقال: أبو يزيد، ويقال: أبو إسحاق الواسطي

امام ذھبی انکی توثیق نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

الإمام، الزاهد، الحافظ، المجود

قال وكيع: إن كان أحد من الأبدال، فهو محمد بن يزيد.

وقال أحمد بن حنبل: كان ثبتا في الحديث.

وقال يحيى بن معين، وأبو داود، والنسائي: ثقة.

امام وکیع کہتے ہیں اگر کوئی ابدال میں سے ایک ہے تو وہ محمد بن یزید ہیں

امام احمد ، امام یحییٰ بن معین ، امام ابو داود اور امام نسائی نے انکو ثقہ قرار دیا ہے

[سیر اعلام النبلاء برقم : 88]

پانچواں راوی : إسماعيل بن أبي خالد البجلي الأحمسي

امام ذھبی انکی توثیق نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

الحافظ، الإمام الكبير

وقال يحيى بن معين: ثقة.

وكذا وثقه: ابن مهدي، وجماعة.

قال يعقوب بن شيبة: ثقة، ثبت.

امام ابن معین ، ابن مھدی امام یعقوب بن شیبہ اور جماعت نے انکو ثقہ قرار دیا ہے

[سیر اعلام النبلاء برقم : 83 ]

نوٹ:یہ مدلس بھی تھے اور ابن حجر عسقلانی نے انکو طبقہ ثانیہ کا مدلس قرار دیا ہے جسکی معنعن روایت میں تدلیس بطور علت واقع نہیں ہوتی

ع إسماعيل بن أبي خالد المشهور الكوفي الثقة من صغار التابعين وصفه النسائي بالتدليس

المرتبة الثانية

[الطبقات المدلسین برقم: 36]

چھٹا راوی : زر بن حبيش بن حباشة بن أوس الأسدي

یہ کبیر تابعی ہیں اور حضورﷺ کی زندگی میں ہی یہ پیدا ہوائے تھے اور دور جہالت میں نبی کریمﷺ کا دیدار کیا تھا

خلفائے راشدین سمیت یہ حضرت عبداللہ بن مسعود کے تلامذہ میں شمار ہوتے ہیں

امام ذھبی انکے بارے نقل کرتے ہیں :

الإمام، القدوة، أدرك أيام الجاهلية.

قال ابن سعد : كان ثقة، كثير الحديث

قال إسحاق الكوسج: عن يحيى بن معين: زر ثقة

وحدث عن: عمر بن الخطاب، وأبي بن كعب، وعثمان، وعلي، وعبد الله، وعمار، والعباس، وعبد الرحمن بن عوف، وحذيفة بن اليمان، وصفوان بن عسال.

وقرأ على: ابن مسعود، وعلي.

[سیر اعلام النبلاء برقم : 60].

اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود سمیت جماعت صحابہؓ اور خلیفہ دوم حضرت عمر بن خطاب ؓ کا بھی استدلال اسی بات پر تھا جس پر آج اہلسنت قائم ہے کہ جب نبی کریم ﷺ نے اپنی آخری نماز میں اپنے خلیفہ حضرت ابو بکرصدیقؓ کو جماعت صحابہ ؓ کا امام بنا کر فیصلہ دکھا دیا تھا کہ اب میرے بعد امام ابو بکر ؓ ہی ہونگے

اور یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ جو ابن مسعود سے روایت ملتی ہے کہ مدینہ میں ہم لوگ حضرت علی کو بہتر سمجھتے تھے سب سے وہ روایت حضرت علی کے دور خلافت کی ہے یعنی پہلے تین خلفاء کی وفات کے بعد کی ہے کیونکہ حضرت ابن مسعود خود حضرت عمر ؓ کے قول کے راوی ہیں وہ خلیفہ وقت کی اتباع کے خلاف کیسے بول سکتے ہیں اس لیے یہی تطبیق ہی اولیٰ ہے

اور حضرت ابن عمرؓ کا یہ فرمانا کہ ہم نبی کریمﷺ کی زندگی میں یہی حضرت ابو بکر ؓ کو تمام صحابہ سے افضل سمجھتے تھے اس پر اجماع صحابہ ہے اور حضرت ابن عمر ؓ کی یہ بات اپنے والد خلیفہ دوم کے موافق تھی

جس بات سے جماعت انصار اللہ سے مغفرت مانگتی تھی لیکن بدعتی ٹولہ آج کا تفضیلی اس موقف کو اپنا کر روافض کا چیلا بن کر ایک ٹانگ پر ناچتا نظر آتا ہے

تحقیق: دعاگو اسد الطحاوی الحنفی البریلوی