عقیقہ میں بڑا جانورذبح کرنےکا ثبوت

احناف کے نزدیک عقیقہ میں بڑا جانور مثلا گائے، بیل، اونٹ وغیرہ ذبح کرنا جائز ہے جبکہ غیرمقلدین ناجاٸز کہتے ہیں کہ یہ کسی حدیث سے ثابت نہیں ہے۔ ان کا یہ دعوی بالکل غلط ہے کیونکہ عقیقہ میں بڑے جانور کے ذبح کرنے پر احادیث مبارکہ موجود ہیں جن میں سے بعض درجہ ذیل ہیں۔

اول کتب صحاح بخاری، ترمذی،ابو داود، نسائی، ابن ماجہ اور مسند احمد و دارمی میں حضرت سلمان بن عامر الضبی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:

مَعَ الْغُلَامِ عَقِيقَةٌ، فَأَهْرِيقُوا عَنْهُ دَمًا، وَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى

مفھوم: بچہ/ بچی کے لئے عقیقہ ہے، اس کی جانب سے تم خون بہاو اور اُس سے گندگی کو دور کرو۔

(صحيح البخاري | كِتَابٌ : الْعَقِيقَةُ | بَابُ إِمَاطَةُ الْأَذَى عَنِ الصَّبِيِّ فِي الْعَقِيقَةِ. رقم الحدیث 5472

الترمذي| أَبْوَابُ الْأَضَاحِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. | بَابٌ : الْأَذَانُ فِي أُذُنِ الْمَوْلُودِ.

ابو داود| كِتَابٌ : الضَّحَايَا | بَابٌ : فِي الْعَقِيقَةِ

النسائي| كِتَابُ الْعَقِيقَةِ | الْعَقِيقَةُ عَنِ الْغُلَامِ

ابن ماجة|كِتَابُ الذَّبَائِحِ | بَابٌ : الْعَقِيقَةُ

سنن الدارمي| مِنْ كِتَابِ الْأَضَاحِيِّ. | بَابٌ : السُّنَّةِ فِي الْعَقِيقَةِ.

مسند الإمام أحمد| مُسْنَدُ الْمَدَنِيِّينَ. | حَدِيثُ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ.)

طرز استدلال اس روایت میں یہ جملہ “فَأَهْرِيقُوا عَنْهُ دَمًا” (اس کی طرف سے خون بہا) مطلق ہے کسی جانور کے ساتھ مقید نہیں کہ چھوٹا جانور ہو یا بڑا اس لئے ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ عقیقہ میں چھوٹا اور بڑا جانور دونوں ذبح کرنا جائز ہے۔

دوم (صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل)

طبرانی معجم الکبیر میں حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ” أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ كَانَ يَعُقُّ عَنْ بَنِيهِ الْجَزُورَ” مفھوم: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ اپنی اولاد کی طرف سے عقیقہ میں اونٹ ذبح کرتے تھے۔

(المعجم الکبیر للطبرانی رقم الحدیث 685)

یہ روایت ابن ابی شیبہ میں بھی موجود ہے لیکن الفاظ مختلف ہے۔ “بنيه” کی جگہ “ولدہ” اور :جزور” کی جگہ “جزر” ہے۔

عن الحسن ان انس بن مالك کان یعق عن ولدہ بالجزر۔

(المصنف لابن ابی شیبة 24755)

معجم الکبیر کی روایت کے بارے میں امام ہیثمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: رواہ الطبرانی فی الکبیر و رجالہ رجال الصحیح۔

(مجمع الزوائد جلد 4 صفحہ 94 رقم الحدیث 6201)

اس روایت میں بھی عقیقہ میں بڑے جانور اونٹ کے ذبح کرنے کا ذکر ہے۔

سوم ان اول مولود ولد بالبصرة عبد الرحمن بن ابی بكرة فنحر ابو بکر جزورا۔

مفھوم: حضرت ابو بکرة رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے عبد الرحمن کے عقیقہ میں اونٹ ذبح کئے تھے۔

(انظر تاریخ دمشق جلد ٣٦ صفحة ١٢.١٣)

چھارم محمد بن سیرین علیہ الرحمہ نے اپنے عقیقہ میں اونٹنی ذبح کی۔

قال محمد بن عمرو : سمعت ابن سيرين يقول : عققت عن نفسي بختية

(سیر اعلام النبلاء ترجمة ابن سیرین

شرح السنة جز 11 صفحہ 264)

ان روایات سے ثابت ہوا کہ عقیقہ میں بڑا جانور ذبح کرنا بھی جائز ہے۔

ابو الحسن محمد شعیب خان

5 جولائی 2020