کچھ دن پہلے ایک وڈیو وائرل ہوئی جس میں ایک “سعیدی” نام کا تفضیلی نعت خوان کہہ رہا تھا :

تمہیں “سفیان” مل جائے۔۔۔ ہمیں “عمران” مل جائے ۔

سفیان سے مراد صحابی رسول حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ ہیں ، اور “عمران” سے رافضی لوگ جناب ابوطالب کو مراد لیتے ہیں ، حالانکہ اہل سنت کے نزدیک آپ کا نام عبدمناف ہے ، قرآن و سنت اور ائمہ اہل سنت سے آپ کا اسلام لانا ثابت نہیں ۔ بس اتنے پر ہی خاموشی اختیار رکھنی چاہیئے ۔

لیکن پنڈی کے تفضیلیوں کی طرف سے اس مسئلہ کو بار بار ہوا دینے سے صاف پتا چلتا ہے ، کہ یہی وہ لوگ ہیں جو دن رات اہل سنت کا شیرازہ بکھیرنے میں مصروف عمل ہیں ۔ اور یہ فتنے کی ہوا کو کبھی تھمنے بھی نہیں دیں گے ۔

کیونکہ تفضیلی رافضی ٹولے کے خون میں سبائی وائرس موجود ہے ، تو وہ کب چاہیں گے کہ اُمت مسلمہ سکون سے بیٹھ سکے ۔

جیسا کہ ریاض شاہ صاحب اسی نعت خوان کے شعر سے خوش ہو رہے ہیں ۔ اور کہتے ہیں کہ ہم روز محشر اپنے بڑوں (یعنی ابوطالب) کے ساتھ ہوں گے ، اور جو صحابی رسول حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ کو مسلمان مانتے ہیں ، وہ ابوسفیان کے ساتھ ہوں گے ۔

سب سے پہلے یہ جان لیں کہ عدم ایمان ابوطالب کے قائلین آپ کی طرح آج کی پیداوار نہیں ، جنہیں اتنا ہلکا لیا جارہا ہے ۔

2 ۔ قرآن و حدیث اور ائمہ اہل سنت سے یہ بات ثابت شدہ ہے کہ جناب ابوطالب نے آخر دم تک اسلام قبول نہ کیا ۔ لہذا ہم پر غصہ نکالنے کی بجائے قرآن و حدیث اور اسلاف پہ غصہ نکالو ۔ اور ان سے چھیڑ خانی کرو ۔

3- یہ ٹولے بازیاں اور گروہ بندیاں کرنا سبائی گروہ کا ورثہ ہے ، اہل سنت سبھی صحابہ و اہل بیت کو ماننے والے ہیں ، جو بھی کلمہ پڑھ کر میرے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی غلامی میں داخل ہوا ۔ ہم اہل سنت اُن سب کے ساتھ ہیں ، اور ان شاءالله بروزِ قیامت بھی ساتھ ہوں گے ۔

4- شاہ جی ! ہم تو اس مسئلے میں امام احمد رضا خان بریلوی سے لے کر مولا علی تک کے ساتھ ہیں ۔۔۔لیکن افسوس کہ آپ قمی ، کلینی ، طوسی اور خمینی کے ساتھ ہو ۔۔۔اس حساب سے مسئلہ ھذا میں وہ آپ کے بڑے ہوئے ، لہذا آپ کو وہ مبارک ہمیں یہ مبارک ۔

5- ہم مسئلہ عدم ایمان ابوطالب کو بار بار بیان کرنے کے قائل نہیں ، اور نہ ہی اس بات کا ہمیں شوق و لطف ہے ، لیکن آئے دن اس مسئلہ کو لے کر تفضیلی رافضیوں کی طرف سے لفظی حملے اور فتوے بھی ہرگز برداشت نہ کیے جائیں گے ۔ کہ ان فتووں کی زد میں بڑے بڑے محدثین ، مفسرین ، اولیائے کاملین اور قرآن و حدیث تک آتے ہیں ۔ لہذا اپنے اسلاف کا دفاع کرنا اور جواب دینا ہم پر بھی فرض ہوگا ۔

6- آئے دن آپ لوگوں کے اسٹیجوں سے کبھی دبے تو کبھی کُھلے لفظوں میں صحابی رسول حضرت امیر معاویہ و حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہما پر طعن وتشنیع ہوتی رہتی ہے ۔ حالانکہ یہ وہ شخصیات ہیں جن کا اسلام لانا ، اور صحابی رسول ہونا اکثر تفضیلی بھی مانتے ہیں ، لیکن پھر بھی بغض کے ماروں کا دل سیاہی نہیں چھوڑتا ۔ یا تو غیرت کی گولی کھا کر صاف انکار کردو کہ ہم امیر معاویہ اور ابوسفیان کو مسلمان و صحابی نہیں مانتے ، لہذا ان کا ادب و احترام بھی ہم پر واجب نہیں ۔

یا پھر یہ منافقت چھوڑ دو کہ ایک طرف صحابی کہنا تو دوسری طرف تنقید بھی کرتے رہنا ۔ اور اِن شخصیات کا ادب و احترام کرنے والے سُنیوں کو نشانہ بناتے رہنا ۔

7- منہ پہ عزت اور پیٹھ پیچھے برائی کرنا منافقوں کاکام ہے ۔ کہ جب تم سے کوئی سُنّی پوچھے : کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں کیا عقیدہ رکھتے ہو ؟

تو تم لوگ کہتے ہو: کہ وہ صحابی رسول ہیں ، ان کا ادب و احترام کرنا واجب ہے، بے ادبی ، گستاخی اور لعن طعن کرنا حرام ہے ۔

لیکن پھر اپنی ہی مجلسوں میں نفسِ رفض کو تسکین پہنچانے کیلئے اشارۃً و کنایتہً تنقیدات کی برسات بھی کرتے ہو ۔

اللہ تعالیٰ ہمیں ایسی دوغلی پالیسی سے محفوظ رکھے ۔ آمین

✍️ارسلان احمد اصمعی قادری

5/7/2021ء