أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَوۡ يُوۡبِقۡهُنَّ بِمَا كَسَبُوۡا وَيَعۡفُ عَنۡ كَثِيۡرٍ ۞

ترجمہ:

یا وہ چاہے تو ان کشتیوں کو ان لوگوں کے کرتوتوں کی وجہ سے تباہ کردے اور بہت سی خطائوں سے وہ درگزر فرما لیتا ہے

الشوریٰ : ٣٤ میں فرمایا : ” یا وہ چاہے تو ان کشتیوں کو ان لوگوں کے کرتوتوں کی وجہ سے تباہ کردے اور بہت سی خطائوں سے وہ درگزر فرما لیتا ہے “

اس آیت کا عطف اس سے پہلی آیت پر ہے اور اس کا معنی اس طرح ہے : اگر اللہ چاہے تو ہوا کو روک لے اور یہ کشتیاں کھڑی کی کھڑی رہ جائیں اور اگر اللہ چاہے تو ہوائوں کو چھوڑ دے اور تیز ہوائوں اور آندھیوں کی وجہ سے یہ کشتیاں تباہ ہوجائیں اور ان کشتیوں میں بیٹھنے والے ہلاک ہوجائیں اور وہ کشتی میں بیٹھنے والوں کی بہت خطائوں سے درگزر فرمالیتا ہے اور کشتی میں بیٹھنے والوں کو غرق ہونے سے بچا لیتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی توحید پر دلائل

ان آیات کے حسب ذیل فوائد ہیں اور ان کے مذکور ذیل مسائل مستنبط ہوتے ہیں :

(١) جس طرح کبھی اللہ تعالیٰ کشتی کو سلامتی کے ساتھ اس کی منزل پر پہنچا دیتا ہے اور کبھی اس کشتی کو غرق کردیتا ہے، اسی طرح انسان کو انواع و اقسام کے مصائب اور فتنوں میں مبتلا کرتا ہے، پھر کبھی انسان کو ان فتنوں اور مصائب کے بھنور سے سلامتی کے ساتھ نکال لیتا ہے اور کبھی اس کو ان فتنوں اور مصائب میں ہلاک کردیتا ہے، سو انسان کو چاہیے کہ جب وہ مصائب میں مبتلا ہو تو وہ اللہ تعالیٰ سے مدد چاہے اور جب اللہ اس کو ان مصائب سے نجات دے دے تو وہ اللہ کا شکر ادا کرے۔

(٢) جو ہوائیں کشتیوں کو چلاتی ہیں وہ از خود نہیں چلتیں، ان کے لیے کوئی محرک ضروری ہے، وہ محرک کون ہے ؟ اگر وہ محرک اللہ کے سوا کوئی اور ہے تو پھر اس کا محرک کون ہے اور یہ سلسلہ کہیں ختم نہیں ہوگا تو پھر عالم کا قدم لازم آئے اور یا پھر یہ سلسلہ اللہ تعالیٰ پر جاکر ختم ہوگا اور جس طرح ان کشتیوں کا چلانے والا اللہ تعالیٰ ہے جو واحد، واجب اور قدیم ہے اس طرح اس ساری کائنات کے نظام کو چلانے والا بھی صرف اللہ تعالیٰ ہے، اس کے سوا کوئی اور اس نظام کو چلانے والا نہیں ہے۔

(٣) الشوریٰ : ٢٣ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت بیان فرمائی ہے کہ وہ غفور اور شکور ہے اور اس آیت میں بندوں کی یہ صفت بیان کی ہے کہ وہ صبار اور شکور ہیں، اللہ تعالیٰ کے شکور ہونے کا معنی یہ ہے کہ وہ شکر کی بہت زیادہ جزاء دینے والا ہے اور بندوں کے شکور ہونے کا معنی یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا بہت زیادہ شکر ادا کرنے والے ہیں اور جب بندہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی صفت شکر سے متصف ہوجاتا ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 42 الشورى آیت نمبر 34