مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما

حادثاتی امور کو دائمی سبب بنانا غیر مناسب

کبھی دو بھائیوں کے مابین عدم موافقت کی صورت رونما ہو جاتی ہے تو ایک دوسرے کے حق میں کچھ بول جاتے ہیں۔ایسے امور کو وقتی حالات اور ناگہانی حادثات کے تناظر میں دیکھنا چاہئے۔بعد میں دونوں بھائیوں کے مابین معاملات رفع دفع ہو جاتے ہیں اور تعلقات بحال ہو جاتے ہیں تو دونوں بھائی سارے گلے شکوے بھول جاتے ہیں,بلکہ ماضی کی یادوں کو زندہ بھی نہیں رکھنا چاہتے۔پرانے واقعات کا کوئی تذکرہ کرتا ہے تو خود ان بھائیوں کو تکلیف ہوتی ہے۔درحقیقت ایسے امور کو تازہ کرنا ہی غلط ہے۔”مضی ما مضی”پر عمل ہونا چاہئے۔

ماہ ذی الحجہ 1432مطابق ماہ نومبر2011 میں ایک مذہبی ضرورت کے سبب کیرلا کے ایک وفد کے ساتھ میں جامعہ اشرفیہ(مبارک پور)حاضر ہوا۔چوں کہ اس معاملہ کا تعلق مذہب اہل سنت وجماعت سے تھا,لہذا اسی ضرورت کے سبب ہمارا وفد حضور محدث کبیر دام ظلہ الاقدس کی خدمت میں حاضر ہوا۔حاضری سے قبل ہم نے خبر بھیج دی تھی۔حضرت کے دولت خانہ پر ہی ملاقات کا انتظام تھا۔قریبا دو تین گھنٹے کی ملاقات رہی۔ضیافت کا نظم بھی حضرت کے کاشانہ اقدس ہی پر تھا۔

جو باتیں جامعہ اشرفیہ مبارک پور میں حضرت مصباحی صاحب قبلہ دام ظلہ العالی سے ہوئی تھیں,وہ حضور محدث کبیر دام ظلہ الاقدس کو ہم لوگوں نے بتائیں,پھر جو باتیں یہاں ہوئیں,وہ باتیں حضرت مصباحی صاحب قبلہ سے ہم لوگوں نے بیان کیں۔کسی جانب ہم لوگوں نے کبیدگئ خاطر کا کوئی اثر محسوس نہیں کیا۔ ع/ شنیدہ کے بود مانند دیدہ

ہمارے شعبہ فضیلت کے سالانہ امتحان کے بعد حضور محدث کبیر دام ظلہ العالی جامعہ اشرفیہ میں موجود نہیں تھے,اس وجہ سے ہماری سند فی الفقہ پر حضرت کا دستخط نہ ہو سکا تھا,لہذا اسی موقع پر حضرت نے دستخط فرمایا۔اس کے بعد اسی سند پر جامعہ اشرفیہ کے آفس میں ہم نے صدر المدرسین کی مہر لگوائی۔ہر جانب ہم نے نارمل ماحول پایا۔

اگر غیر موافق ماحول میں بتقاضائے بشریت کسی نے کسی کے حق میں کچھ کہہ دیا ہو تو اس کو دلیل بنا کر اخوت ومحبت کے ماحول کو زیر وزبر کرنا حکمت ومصلحت کے منافی ہے۔

آج ہمارے عزیز دوست حضرت علامہ مفتی انعام المصطفے صاحب قبلہ دام فضلہ(کراچی)نے ہمارے استفسار پر اتحاد واتفاق کا عمدہ مفہوم بیان فرمایا۔پہلے موصوف کے ہاتھ سے رقم کردہ ان کا نسب نامہ ملاحظہ فرما لیں۔

محمد انعام المصطفیٰ اعظمی ابن مولانا محمد انوار المصطفیٰ قادری رحمة اللہ علیه ابن شیخ الحدیث علامہ عبدالمصطفیٰ ازہری رحمة اللہ علیه ابن حضور صدرالشریعہ بدرالطریقہ رحمة اللہ علیه۔

اتحاد واتفاق کا مفہوم

عام طور پر متفق و متحد کو ایک دوسرے کے مترادف ہی تصور کیا جاتا ہے,لیکن متحد ہونے کا مطلب متفق ہونا نہیں۔اتفاق اپنی جگہ ہے,اتحاد اپنی جگہ۔

اتفاق کا مطلب ہے:اختلاف رائے ختم ہوجائے۔

اور کوئی شخص اپنے نظریہ پر قائم رہتے ہوئے کسی مشترکہ مقصد کے حصول کے لیے کسی کے ساتھ جڑ جائے,یہ متحد ہونا کہلائے گا.

طارق انور مصباحی

جاری کردہ:07:جولائی 2021