أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

حٰمٓ ۞

ترجمہ:

حم

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

حامیم اور اس وضاحت کرنے والی کتاب کی قسم ! بیشک ہم نے اس کتاب کو عربی قرآن بنادیا تاکہ تم سمجھ سکو بیشک یہ لوح محفوظ میں ہمارے نزدیک بہت بلند مرتبہ، بہت حکمت والی ہے تو کیا ہم اس وجہ سے تم کو نصیحت کرنے سے اعراض کریں کہ تم حد سے گزرنے والے لوگ ہو اور ہم (تم سے) پہلے لوگوں میں کئی نبی بھیج چکے ہیں اور ان کے پاس جو نبی بھی آتا تھا وہ اس کا مذاق اڑاتے تھے سو ہم نے ان میں سے ان کو ہلاک کردیا جن کی گرفت بہت سخت تھی اور پہلے لوگوں کی مثال گزر چکی ہے (الزخرف :1-8)

” حٰم ٓ والکتب المبین “ کی تفسیریں

” حٰم ٓ والکتب المبین “ کے مفسرین نے حسب ذیل معانی کیے ہیں :

(١) حا، اللہ تعالیٰ کی حیات پر دلالت کرتی ہے اور میم اللہ تعالیٰ کے مجد اور بزرگی پر دلالت کرتی ہے اور یہ قسم ہے اور اس کا معنی ہے : میری حیات اور میرے مجد کی قسم ! یہ قرآن جس میں میں نے اپنے مومن بندوں پر رحمت کی خبر دی ہے، حق اور صدق ہے اور ہم نے اس کو عربی قرآن اس لیے بنایا ہے کہ تمہارے لیے اس کا معنی آسان ہوجائے۔ (لطائف الاشارات للقشیری ج ٣ ص ١٧٢، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤٢٠ ھ)

حا اور میم سے اللہ تعالیٰ کے دو اسموں کی طرف اشارہ ہے : حنان اور منان۔ علامہ فیروز آبادی نے کہا : الحنان، اللہ تعالیٰ کا اسم ہے، اس کا معنی ہے : رحیم، یا وہ جو ایسے شخص کی طرف متوجہ ہوتا ہے جو اس سے اعراض کرتا ہے۔ (القاموس : ١١٩١) اور المنان بھی اللہ تعالیٰ کے اسماء میں سے ہے، منان کا معنی ہے : جو ابتداء عطا کرنے والا ہو۔ (القاموس : ١٢٣٥)

حٰم ٓ قسم ہے اور ” والکتب المبین “ کا عطف حٰم ٓ کی قسم اور کتاب مبین کی قسم، کتاب سے مراد قرآن مجید ہے اور اس کو مبین فرمانے کی تین تفسیریں ہیں : (١) ابومعاذ نے کہا : قرآن مجید کے حروف واضح ہیں (٢) قتادہ نے کہا : اس کی ہدایت، رشد اور برکت بالکل واضح ہے (٣) مقاتل نے کہا : اللہ تعالیٰ نے اس کے احکام یعنی حلال اور حرام وضاحت سے بیان فرمادیئے ہیں۔ (النکت والعیون ج ٤ ص ٢١٤، دارالکتب العلمیہ، بیروت)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 43 الزخرف آیت نمبر 1