مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما

سپہ سالار کی طاعت دراصل بادشاہ کی طاعت

1-بادشاہ اگر کسی کو سپہ سالار بنا کر محاذ جنگ پر بھیجے۔لشکر میں چند شہزادگان سلطنت بھی ہوں تو انہیں بھی سپہ سالار کے احکام کی بجا آوری کرنی ہے۔سپہ سالار کی طاعت وفرماں برداری دراصل بادشاہ ہی کی طاعت ہے,کیوں کہ بادشاہ نے ہی اسے سپہ سالار مقرر کیا ہے۔

شہزادگان سلطنت کو دو حیثیت سے سپہ سالار کی طاعت کرنی ہو گی۔

(الف)اس ملک کے بادشاہ نے اسے سپہ سالار مقرر کیا ہے۔

(ب)جس عظیم والد کے سبب شہزادگان سلطنت کو شہزادگی کا رتبۂ بلند ملا ہے۔اسی عظیم باپ نے اس کو سپہ سالار مقرر کیا ہے۔

دیگر فوجیوں کو صرف اس سبب سے سپہ سالار کی طاعت کرنی ہے کہ ان کے بادشاہ وسلطان نے اس کو سپہ سالار بنایا ہے۔

2-دین متین کے علمائے شریعت ومشائخ طریقت اور خدام دین وملت کا دو طبقہ ہے۔

ایک طبقہ رضا کارانہ طور پر دین وملت کی خدمت انجام دیتا ہے۔ایک طبقہ وہ ہے جسے اللہ تعالی کی جانب سے مقرر کیا جاتا ہے۔ایسے خادمان اسلام کو “مجدد”کہا جاتا ہے۔مجددین سے متعلق حدیث نبوی منقوشہ ذیل ہے۔

(عن ابی ہریرۃ فیما اعلم عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال:ان اللہ یبعث لہذہ الامۃ علی رأس کل مأۃ سنۃ من یجدد لہا دینہا)(سنن ابی داؤد:کتاب الملاحم-المستدرک علی الصحیحین:کتاب الفتن والملاحم)

ترجمہ:حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالی اس امت کے لئے ہر صدی کے اخیر میں ایسے کو مبعوث فرمائے گا جو اس امت کے لئے اس کے دین کی تجدید کرے گا۔

توضیح:حدیث نبوی میں لفظ”یبعث”واضح دلیل ہے کہ مجددین کو مقرر فرمایا جاتا ہے۔عام مومنین کو اس لئے مجددین کرام کی طاعت کرنی ہے کہ اللہ تعالی کی جانب سے وہ مقرر فرمودہ قائدین اسلام ورہنمایان قوم ہیں۔

حضرات شہزادگان اہل بیت کرام کو دو حیثیت سے مجددین کی طاعت کرنی ہے۔

(الف)مجددین اللہ تعالی کی جانب سے مقرر فرمودہ قائدین اسلام ورہبران دین ہیں۔

(ب)جس عظیم المرتبت اور بے مثال وعدیم النظیر رسول کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم کی نسبت کے سبب حضرات سادات کرام کو اللہ تعالی نے خاص مراتب ودرجات عطا فرمائے ہیں۔اس تاجدار کائنات سلطان موجودات علیہ التحیۃ والثنا کے دین ومذہب کی خدمت کے لئے یہ مجددین اسلام مقرر فرمودہ خدام وقائدین ہیں۔

جن مجددین اسلام کو اللہ تعالی نے حضرات شہزادگان اہل بیت کے جد کریم رسول عظیم علیہ الصلوۃ والتسلیم کے دین ومذہب کی خدمت کے واسطے خصوصی طور پر مقرر فرمایا ہو۔ان کی طاعت مرضی خداوندی کی تابعداری بھی ہے اور اپنے جد کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم کی خوشنودی ورضا کا ذریعہ بھی۔

3-علمائے عرب وعجم کا اتفاق ہے کہ اعلی حضرت امام احمد رضا قادری علیہ الرحمۃ والرضوان چودھویں صدی کے مجدد ہیں۔جملہ امت مسلمہ اور حضرات شہزادگان اہل بیت کرام کو ان کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونا چاہئے۔

4-ہر صدی کے مجدد الگ ہوتے ہیں,لیکن ماقبل کے مجددین کی تعلیمات منسوخ نہیں ہو سکتیں,کیوں کہ ان کی تعلیمات دراصل اسلامی تعلیمات ہوتی ہیں۔مجددین کرام اور علمائے اسلام شرعی احکام ودینی مسائل کی تفصیل وتشریح امت مسلمہ کو بتاتے ہیں۔

طارق انور مصباحی

جاری کردہ:07:جولائی 2021