فارغ بیٹھ کر توکل کرنے والے..

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :

کوئی بندہ طلب معاش چھوڑ کر مسجد میں نہ بیٹھ جائے اور دعا کرتا رہے کہ اے اللہ مجھے رزق دے دے. کیونکہ یہ کام تو جاری سنت کے خلاف ہے تم بخوبی جانتے ہو آسمان سونا برساتا ہے اور نہ ہی چاندی.

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے گھر یا مسجد میں بیٹھے رہنے والے ایسے شخص کے متعلق سوال کیا گیا جو کہتا ہے میں کوئی کام دھندا نہیں کروں گا اللہ ہی مجھے میرا رزق بھیجے گا،

فرمایا : یہ شخص علم سے خالی ہے کیا اس نے نبی کریم صلی اللہ والہ وسلم کا فرمان نہیں سنا : اللہ تعالی نے میرا رزق ایسے سائے کے نیچے رکھا ہے جس کی طرف کوشش کی جاتی ہے. یعنی غنیمتوں میں.

امام غزالی رحمہ اللہ فرماتے ہیں جو سمجھتا ہے کہ کوشش چھوڑنے اور زمین پر گرے پھٹے کپڑے کی طرح پڑے رہنے کا نام توکل ہے تو وہ جاہل ہے.

ملا علی قاری لکھتے ہیں بعض اکابرین نے فرمایا :

دین و دنیا کی درستی اور قیام، علم اور کسب (کمانے کی کوشش) کرنے میں ہے. جو ان دونوں کو چھوڑ دے اور کہے کہ میں زہد کی چاہتا ہوں علم نہیں اور توکل چاہتا ہوں کسب نہیں؛ تَو ایسا شخص جہالت اور لالچ میں پڑ جاتا ہے.

مصنف کہتے ہیں : کسب حلال ہے اور طمع حرام جو حلال سے منہ پھیر لے وہ حرام میں پڑ جاتا ہے جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ والہ وسلم نے فرمایا جو حلال سے حیا کھاتا ہے اللہ اسے حرام میں مبتلا کر دیتا ہے.

نبی کریم صلی اللہ والہ وسلم کے بعض اصحاب نے ایک شخص کی تعریف کی کہ وہ سفر و حضر میں بہت عبادت کرتا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے استفسار فرمایا : اسے کھلاتا پلاتا، اس کے جانور کی دیکھ بھال کون کرتا ہے کہ اس کا نظام چلتا رہتا ہے. بولے ہم کرتے ہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

فرمایا : تم سب اس سے بہتر ہو.

مفہوما

حسن الفہم و التعقل فی جمع الکسب و التوکل

صفحہ 121

فرحان رفیق قادری عفی عنہ