أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَاِنۡ اَعۡرَضُوۡا فَمَاۤ اَرۡسَلۡنٰكَ عَلَيۡهِمۡ حَفِيۡظًا‌ؕ اِنۡ عَلَيۡكَ اِلَّا الۡبَلٰغُ‌ ؕ وَاِنَّاۤ اِذَاۤ اَذَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ مِنَّا رَحۡمَةً فَرِحَ بِهَا‌ۚ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ فَاِنَّ الۡاِنۡسَانَ كَفُوۡرٌ ۞

ترجمہ:

پس اگر یہ اعراض کریں تو ہم نے آپ کو ان کا نگران بنا کر نہیں بھیجا، آپ کے ذمہ تو صرف پیغام کو پہنچادینا ہے اور بیشک جب ہم انسان کو اپنے پاس سے کوئی رحمت چکھاتے ہیں تو وہ اس سے خوش ہوجاتا ہے اور اگر ان کے گناہوں کی وجہ سے ان پر کوئی مصیبت آئے تو بیشک انسان بہت ناشکرا ہے

انسان کے کفر کا سبب

اس کے بعد فرمایا : ” اور بیشک جب ہم انسان کو اپنے پاس سے کوئی رحمت چکھاتے ہیں تو وہ اس سے خوش ہوجاتا ہے اور اگر ان کے گناہوں کی وجہ سے ان پر کوئی مصیبت آئے تو بیشک انسان بہت ناشکرا ہے “

آیت کے اس حصہ میں یہ بتایا ہے کہ کفار کی اپنے مذاہب باطلہ پر اصرار کرنے کی وجہ کیا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کو دنیا میں وافر مقدار میں نعمتیں حاصل ہوئیں، خوش حالی اور آسودگی ملی او بہت سے لوگوں پر ان کو ریاست حاصل ہوئی، جس کی وجہ سے ان میں تکبر اور غرور پیدا ہوگیا اور حق کی پیروی کرنے میں ان کا عار محسوس ہونے لگا، اس لیے فرمایا : ” اور بیشک جب ہم انسان کو اپنے پاس سے رحمت چکھاتے ہیں تو وہ اس سے خوش ہوجاتا ہے “ چکھانے کا لفظ اس لیے فرمایا کہ آخرت کی نعمتوں کے مقابہل میں یہ بہت معمولی نعمت ہے، جیسے سمندر کے سامنے ایک قطرہ ہو، پھر فرمایا : اور جب ان پر کوئی مصیبت آتی ہے، مثلاً کوئی بیماری یا تنگ دستی تو بیشک انسان بہت ناشکرا ہے، یعنی جب ہم اس کو نعمتیں اور راحتیں عطا فرماتے ہیں تو یہ ہمارا شکرادا نہیں کرتا بلکہ ان نعمتوں کو اپنی عقل اور فہم کا نتیجہ سمجھتا ہے اور جب ہم اس پر کوئی مصیبت نازل کرتے ہیں تو یہ اس مصیبت میں توبہ اور استغفار کرکے ہماری طرف رجوع نہیں کرتا۔

القرآن – سورۃ نمبر 42 الشورى آیت نمبر 48