أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَالَّذِيۡنَ يَجۡتَنِبُوۡنَ كَبٰٓئِرَ الۡاِثۡمِ وَالۡفَوَاحِشَ وَاِذَا مَا غَضِبُوۡا هُمۡ يَغۡفِرُوۡنَ‌ۚ‏ ۞

ترجمہ:

اور جو لوگ کبیرہ گناہوں سے اور بےحیائی کے کاموں سے بچتے ہیں اور وہ غضب کے وقت معاف کردیتے ہیں

الشوریٰ : ٣٧ میں فرمایا : ” اور جو لوگ کبیرہ گناہوں سے اور بےحیائی کے کاموں سے بچتے ہیں اور وہ غضب کے وقت معاف کردیتے ہیں “۔

اثم، کبیرہ اور فحش کا معنی

اس آیت میں کبیرہ گناہوں کے لیے ” کبائر الائم “ کا لفظ ہے، علامہ راغب اصفہانی متوفی ٥٠٢ ھ اثم کا معنی بیان کرتے ہیں :

اثم اس فعل کے ارتکاب کو کہتے ہیں جو ثواب کو مؤخر کردے، قرآن مجید میں ہے :

فیھما اثم کبیر ومنا فع للناس۔ (البقرہ :219)

شراب پینے میں اور جوا کھیلنے میں بڑا اثم ہے اور لوگوں کے لیے عارضی منافع ہیں۔

یعنی شراب پینا اور جوا کھیلنا انسان کی خیرات اور حسنات کو مؤخر کردیتا ہے، نیز قران کریم میں ہے :

اخذتہ العزۃ بالاثم۔ (البقرہ :206)

یعنی اس کو اس کی دنیاوی عزت گناہ کے کاموں پر ابھارتی ہے۔

اثم قلبہ۔ (البقرہ :283)

اس کا دل اثم والا ہے۔

اثم کا لفظ بر کے مقابلہ میں ہے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بر اس کام کو کہتے ہیں جس کے کرنے کے بعد تمہارا دل مطمئن ہو اور اثم اس کام کو کہتے ہیں جس کو کرنے کے بعد تمہارے دل میں قلق اور اضطراب ہو۔ (مسنداحمد ج ٤ ص ٢٢٨۔ ٢٢٧، سنن دارمی رقم الحدیث : ٢٥٣٣) اور قرآن مجید میں ہے :

یسارعون فی الاثم والعدوان۔ (المائدہ :62)

وہ اثم اور عدوان میں جلدی کرتے ہیں۔

اس آیت میں اثم کا اطلاق کفر پر ہے اور عدوان کا اطلاق معصیت کبیرہ پر ہے، اثم عام ہے، اس کا اطلاق کفر پر بھی ہوتا ہے اور معصیت کبیرہ پر بھی ہے اور عدوان کا لفظ خاص ہے، اس کا اطلاق صرف معصیت کبیرہ پر ہوتا ہے۔

(المفردات ج ١ ص ١٢۔ ١١، لسان العرب ج ١ ص ٥٦، داراصادر، بیروت، ٢٠٠٣ ء)

علامہ جمال الدین محمد بن مکرم ابن منظور افریقی متوفی ٧١١ ھ کبیرہ کا معنی بیان کرتے ہیں :

احادیث میں متعدد جگہوں میں کبائر کا ذکر ہے، کبیرہ اس قبیح کام کو کہتے ہیں جس سے شرعاً منع کیا گیا ہو اور اس کا کرنا بہت سنگین ہو، جیسے قتل کرنا، زنا کرنا، جہاد سے پیٹھ موڑ کر بھاگنا وغیرھا، حضرت ابن عباس (رض) سے ایک شخص نے پوچھا کیا کبائر سات ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : کبائر سات سو کے قریب ہیں اور توبہ کرنے کے بعد کوئی فعل کبیرہ نہیں ہے اور جس فعل کے ارتکاب کے بعد توبہ نہ کی جائے وہ صغیرہ نہیں ہے، جس فعل پر وعید ہو وہ کبیرہ اور واجب کے ترک اور مکرو تحریمی کے ارتکاب کو کبیرہ کہتے ہیں۔ (لسان العرب ج ١٣ ص ١٢، دارصادر، بیروت، ٢٠٠٣ ء)

نیز علامہ ابن منظور افریقی متوفی ٧١١ ھ فحش کا معنی بیان کرتے ہیں :

جو کام اور بات معیوب اور قبیح ہو اس کو فحش کہتے ہیں، جو شخص عمداً اور تکلف سے لوگوں کو بُرا کہے اور گالیاں دے اس کو متفحش کہتے ہیں، حدیث میں فحش اور فاحشہ کا ذکر بہت ہے، ہر وہ شخص جس کے گناہوں کا قبح بہت زیادہ ہو اس کو فاحش کہتے ہیں حدیث میں ہے : اللہ تعالیٰ متفحش سے بغض رکھتا ہے، فاحشہ زنا کو بھی کہتے ہیں، جواب میں حد سے بڑھنے کو بھی فحش کہتے ہیں اور ہر وہ خصلت جو معیوب اور قبیح ہو اس کو بھی فاحشہ کہتے ہیں۔ (لسان العرب ج ١١ ص ١٣٤، دارصادر، بیروت، ٢٠٠٣ ء)

چند کبائر کا بیان

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : کبیر الاثم، شرک ہے، امام رازی نے کہا : یہ بعید ہے، کیونکہ اس سے پہلے ایمان کی شرط کا ذکر ہوچکا ہے، اس لیے یہاں ” کبائر الاثم “ میں شرک داخل نہیں ہوگا، البتہ بدعات سیئہ اور وہ معاصی جن کا تعلق وفور شہوت یا زیادتی غضب سے ہو وہ کبائر الاثم میں داخل ہیں۔ (تفسیر کبیر ج ٩ ص ٦٠٣، داراحیاء التراث العربی، بیروت)

میں کہتا ہوں کہ اگر شرک سے مراد شرک خفی لیا جائے یعنی ریاکاری تو پھر حضرت ابن عباس (رض) کی تفسیر پر امام رازی کا یہ اعتراض وارد نہیں ہوگا اور حدیث میں ریاکاری پر بھی شرک کا اطلاق کیا گیا ہے۔

محمود بن لبید (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے تم پر سب سے زیادہ شرک اصغر کا خطرہ ہے، صحابہ نے عرض کیا : یارسول اللہ ! شرک اصغر کیا چیز ہے ؟ آپ نے فرمایا : ریاکاری، جب اللہ تعالیٰ قیامت کے دن لوگوں کو ان کے اعمال کی جزاء دے چکے گا تو فرمائے گا : ان لوگوں کے پاس جائو جن کو دکھانے کے لیے تم دنیا میں عمل کرتے تھے، اب دیکھو، کیا تم کو ان سے کوئی جزاء ملتی ہے۔ (مسند احمدج ٥ ص ٤٢٨ طبع قدیم، مسند احمد ج ٣٩ ص ٣٩، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت ١٤٢١ ھ، شرح السنۃ رقم الحدیث : ٤١٣٥، مصنف ابن ابی شیبہ ج ٢ ص ٤٨١، صحیح ابن خزیمہ رقم الحدیث : ٩٣٧، سنن بیہقی ج ٢ ص ٢٩١۔ ١٩٠، المعجم الکبیر رقم الحدیث : ٤٣٠١)

حضرت ابن عباس (رض) ” والذین یجتلبون کبئرالا ثم “ (الشوریٰ :37) کی تفسیر میں فرماتے ہیں :

(١) سب سے بڑا گناہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرمایا ہے : جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا اللہ اس پر جنت کو حرام کردے گا۔ (المائدہ ٧٢)

(٢) اور اللہ کی رحمت سے مایوس ہونا گناہ کبیرہ ہے، اللہ نے فرمایا ہے : اللہ کی رحمت سے صرف کافر ہی مایوس ہوتے ہیں۔ (یوسف : ٨٧)

(٣) اور والدین کی نافرمانی گناہ کبیرہ ہے، اللہ تعالیٰ نے ماں باپ کی نافرمانی کرنے والے کو جبار اشتیا فرمایا ہے

(٤) اور قتل ناحق گناہ کبیرہ ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ناحق قتل کرنے والا دوزخ کی سزا کا مستحق ہے۔ (النساء : ٩٣)

(٥) اور یتیم کا مال کھانا گناہ کبیرہ ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ایسے لوگ اپنے پیٹوں میں صرف آگ بھر رہے ہیں اور وہ عنقریب دوزخ میں داخل ہوں گے۔ (النساء : ١٠)

(٦) اور پاک دامن عورت کو زنا کی تہمت لگانا گناہ کبیرہ ہے۔ (النور : ٢٣)

(٧) میدان جہاد سے پیٹھ موڑ کر بھاگنا گناہ کبیرہ ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : اور جو شخص اس دن پیٹھ پھیرے گا، ماسوا اس کے جو جنگ میں محاذ بدل رہا ہو یا اپنی جماعت کی طرف آرہا ہو (وہ مستثنیٰ ہے ان کے سوا جو بھاگے گا) وہ اللہ کے غضب سے لوٹے گا اور اس کا ٹھکانہ دوزخ ہوگا اور وہ بہت بری جگہ ہے۔ (الانفال : ١٦)

(٨) اور سود کھانا گناہ کبیرہ ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ قیامت کے دن صرف اس طرح کھڑے ہوں گے جس طرح وہ شخص کھڑا ہوتا ہے جس کو شیطان نے چھو کر خطبی بنادیا ہو۔ (البقرہ : ٢٧٥)

(٩) اور جادو کرنا گناہ کبیرہ ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : بیشک وہ جانتے ہیں کہ جس نے جادو کو خریدا اس کے لیے آخرت میں (اجرکا) کوئی حصہ نہیں ہے۔ (البقرہ : ١٠٢)

(١٠) اور زنا کرنا گناہ کبیروہ ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : اور جس نے زنا کیا وہ سخت عذاب سے ملاقات کرے گا قیامت کے دن اس کا عذاب دگنا کیا جائے گا اور وہ ذلت و خواری کے ساتھ اس عذاب میں ہمیشہ گرفتار رہے گا۔ (الفرقان : ٧٠۔ ٦٩)

(١١) اور جھوٹی قسم کھانا گناہ کبیرہ ہے، اللہ نے فرمایا : جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت کے عوض فروخت کردیتے ہیں ان کے لیے آخرت میں اجر کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ (آل عمران : ٧٧)

(١٢) اور خیانت کرنا گناہ کبیرہ ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ہر خیانت کرنے والا خیانت کے مال کو قیامت کے دن لے کر حاضر ہوگا۔ (آل عمران : ١٦١)

(١٣) اور زکوٰۃ کا ادا نہ کرنا گناہ کبیرہ ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اس دن ان کے مال کو دوزخ کی آگ میں گرم کیا جائے گا اور اس کے ساتھ ان کی پیشانیوں اور ان کے پہلوئوں کو اور ان کی پیٹھوں کو تپایا جائے گا۔ (التوبہ : ٣٥)

(١٤) اور گواہی کو چھپانا گناہ کبیرہ ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور جو گواہی کو چھپاتا ہے اس کا دل گنہگار ہے۔ (البقرہ : ٢٨٣)

(١٥) اور خمر (انگور کی شراب) پینا گناہ کبیرہ ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : شراب اور جوا اور بتوں کے لیے قربانی کی جگہ اور فال نکالنے کے تیر یہ سب نجس، شیطانی کام ہیں سو ان سے باز رہو تاکہ تم فلاح پائو۔ (المائدہ : ٩٠)

(١٦) اور فرض نماز کو عمداً ترک کرنا گناہ کبیرہ ہے، کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے عمداً نماز کو ترک کیا اس سے اللہ اور اس کے رسول کا ذمہ بری ہوگیا

(١٧) اور عہد شکنی گناہ کبیرہ ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور عہد پورا کرو، بیشک عہد کے متعلق سوال کیا جائے گا۔ (بنی اسرائیل : ٣٤)

(١٨) اور رحم کو قطع کرنا گناہ کبیرہ ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور تم سے یہ بھی بعید نہیں کہ اگر تم حاکم بن جائو تو تم زمین میں فساد برپا کرو اور رحم کے رشتوں کو توڑ ڈالو۔ (محمد : ٢٢) (المعجم الکبیر ج ١٢ ص ١٩٦۔ ١٩٥، رقم الحدیث : ١٣٠٢٣، حافظ الہیثمی نے کہا : اس حدیث کی سند حسن صحیح ہے)

حضرت ابن عباس (رض) نے مذکو الصدر حدیث میں اٹھارہ کبائر کا ذکر فرمایا ہے، ان کبائر کے علاوہ علماء نے مزید کبائر کا بھی ذکر فرمایا ہے جن کہ ہم اختصار کے ساتھ ذکر کررہے ہیں :

(١) شرک اصغر اور وہ ریاکاری ہے

(٢) ناجائز غضب کرنا، کینہ رکھا اور حسد کرنا

(٣) تکبر کرنا اور اترانا

(٤) ملاوٹ کرنا

(٥) نفاق کرنا

(٦) حاکم وقت کے خلاف بغاوت کرنا

(٧) لوگوں کو حقیر جان کر ان سے اعراض کرنا

(٨) غیر متعلق اور لا یعنی باتوں میں مشغول رہنا

(٩) حرص اور طمع

(١٠) فقروفاقہ کا خوف رکھنا

(١١) دولت مند لوگوں کی ان کی دولت کی وجہ سے تعظیم کرنا

(١٢) فقر کی وجہ سے فقراء کا مذاق اڑانا

(١٣) دنیا میں رغبت کرنا اور اس پر فخر کرنا

(١٤) حرام چیزوں سے بنائو سنگھار کرنا

(١٥) مداہنت کرنا یعنی مال دنیا کی وجہ سے دنیا داروں کو حق نہ سنانا

(١٦) جو کام نہ کیا ہو اس پر تعریف وتحسین سننے کی خواہی رکھنا

(١٧) لوگوں کے عیوب تلاش کرنے میں مشغول رہنا

(١٨) قومیت اور زبان کی وجہ سے تعصب رکھنا

(١٩) شکر نہ کرنا

(٢٠) تقدیر پر راضی نہ ہونا

(٢١) بندگان خدا کی تحقیر کرنا اور ان کا مذاق اڑانا

(٢٢) خواہش نفس کی پیروی کرنا

(٢٣) مکر اور سازش کرنا

(٢٤) حق سے عناد رکھنا

(٢٥) مسلمان سے بدگمانی رکھنا

(٢٦) خواہش نفس کے خلاف حق کو قبول نہ کرنا

(٢٧) گناہ پر خوش ہونا

(٢٨) گناہ پر اصرار کرنا

(٢٩) عبادات پر تحسین کی خواہش کرنا

(٣٠) اللہ تعالیٰ اور آخرت کو بھول جانا

(٣١) اپنے نفس کے لیے غصہ کرنا اور معصیت پر تعاون کرنا

(٣٢) اللہ کے عذاب سے بےخوف ہونا اور گناہوں میں مشغول رہنا

(٣٣) اللہ سے بدگمانی رکھنا

(٣٤) علم کو چھپانا

(٣٥) علم پر عمل نہ کرنا

(٣٦) علماء کی تخفیف اور توہین کرنا

(٣٧) اللہ اور رسول پر جھوٹ باندھنا

(٣٨) ظالموں اور فاسقوں سے محبت رکھنا اور صالحین سے بغض رکھنا

(٣٩) زمنہ کو برُا کہنا

(٤٠) محسن کا شکر نہ ادا کرنا

(٤١) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نام سن کر آپ پر درود نہ پڑھنا

(٤٢) گناہ پر فخر کرنا

(٤٣) سونے اور چاندی کے برتنوں میں کھانا

(٤٤) راستہ میں پاخانہ کرنا

(٤٥) ہاتھوں کو گدوانا اور اس کی اجرت

(٤٦) چہرے سے بالوں کو اکھڑوانا اور اس کی اجرت

(٤٧) کسی عورت کا مسافت قصر سے زیادہ تنہا سفر کرنا

(٤٨) بدفالی کی وجہ سے سفر پر نہ جانا یا لوٹ آنا

(٤٩) بغیر عذر کے نماز جمعہ یا جماعت کو ترک کرنا

(٥٠) مردوں کا عورتوں کی یا عورتوں کا مردوں کی مشابہت کرنا

(٥١) مرد کا سیاہ خضاب لگانا

(٥٢) تکبر کی نیت سے ٹخنوں سے نیچے لباس لٹکانا یا قدموں سے گھسٹتا ہوا لباس رکھنا

(٥٣) ستاروں کی تاثیر کا اعتقاد رکھنا

(٥٤) منہ پر طمانچے مارنا گریبان پھاڑنا

(٥٥) میت کی ہڈی توڑنا یا قبر پر بیٹھنا

(٥٦) قبر پر سجدہ کرنا یا چراغ جلانا

(٥٧) صدقہ کرکے احسان جتانا یا طعنہ دینا

(٥٨) بلا عذر روزہ نہ رکھنا

(٥٩) استطاعت کے باوجود حج نہ کرنا

(٦٠) استطاعت کے باوجود قربانی نہ کرنا

(٦١) ذخیرہ اندوزی کرنا

(٦٢) کسی کو پھنسانے کے لیے کسی چیز کی زیادہ قیمت لگانا

(٦٣) باوجود وسعت کے قرض کی ادائیگی میں تاخیر کرنا

(٦٤) پڑوسی کو ایذاء پہنچانا

(٦٥) کسی کا مال ظلماً چھیننا

(٦٦) مزدور سے کام لینے کے بعد اس کو اجرت نہ دینا

(٦٧) کسی کا نام بگاڑنا

(٦٨) کسی مسلمان کا مذاق اڑانا

(٦٩) چغلی کرنا

(٧٠) وہ مونہوں والا ہونا یعنی ایک شخص کے سامنے اس کی موافقت میں اور دوسرے کے سامنے اس کی مخالفت میں باتیں کرنا

(٧١) کسی پر بہتان لگانا

(٧٢) کسی شخص کا اپنی بیوی کے راز کی باتیں دوسروں کے سامنے بیان کرنا

(٧٣) مہر ادا نہ کرنا

(٧٤) کسی عورت کا خوشبو لگا کر گھر سے باہر نکلنا

(٧٥) دو بیویوں میں عدل نہ کرنا

(٧٦) عورت کے بغیر شرعی عذر کے خاوند کی نافرمانی کرنا

(٧٧) کسی مسلمان کو گالی دینا

(٧٨) کسی کی نسب میں طعن کرنا

(٧٩) کسی عورت کا عدت کے دوران گھر سے باہر نکلنا

(٨٠) خاوند کی موت پر سوگ نہ کرنا

(٨١) خود کشی کرنا

(٨٢) کسی نجومی یا کاہن سے غیب کی باتیں معلوم کرنا

(٨٣) فال نکلوانا

(٨٤) بغیر شرعی عذر کے بیعت کرکے توڑنا

(٨٥) امیر کا انپی رعیت پر ظلم کرنا

(٨٦) کسی کا ناحق مال کھانا

(٨٧) رشوت لینا، معصیت پر رشوت دینا

(٨٨) جانور سے خواہش پوری کرنا

(٨٩) عورت کی پشت میں خواہش پوری کرنا

(٩٠) ماہواری کے ایام میں دخول کرنا

(٩١) عورتوں کا عورتوں سے یا مردوں کا مردوں سے جنسی عمل کرنا

(٩٢) متعہ کرنا

(٩٣) چوری کرنا

(٩٤) ڈاکہ ڈالنا

(٩٥) نشہ آور چیزوں کا کھانا یا پینا

(٩٦) کسی کی مرضی کے خلاف اس کی باتیں سننا

(٩٧) استطاعت کے باوجود نیکی کا حکم دینے اور بُرائی سے روکنے کو ترک کرنا

(٩٨) سلام کا جواب نہ دینا

(٩٩) اپنی عزت کرانے کے لیے یہ چاہنا کہ لوگ اس کی تعظیم کے لیے کھڑے ہوں

(١٠٠) طاعون سے بھاگنا

(١٠١) مسلمان ملک کی حفاظت میں رہنے والے غیر مسلم شہریوں یا پاسپورٹ اور ویزے کے حامل غیر مسلموں کو قتل کرنا یا ان سے عہد شکنی کرنا یا ان پر ظلم کرنا

(١٠٢) شرط لگا کر گھوڑے یا اونٹ دوڑانا یا کتے اور مرغ لڑانا

(١٠٣) جھوٹی قسم کھانا

(١٠٤) غیر ملت اسلام کی قسم کھانا، مثلاً میں فلاں کام گیا تو میں یہودی ہوں

(١٠٥) حانث ہونے کے قصد سے غیر اللہ کی قسم کھانا

(١٠٦) نذر مان کر پوری نہ کرنا

(١٠٧) کسی منصب کا اہل نہ ہوا اور اس کو طلب کرے

(١٠٨) قاضی کا خلاف عدل فیصلہ کرنا

(١٠٩) قاضی کا تحائف قبول کرنا

(١١٠) جھوٹی گواہی دینا یا اس کو قبول کرنا

(١١١) بلا عذر شہادت کو چھپانا

(١١٢) کسی کو ضرر پہنچانے کے لیے جھوٹ بولنا

(١١٣) بےریش لڑکوں کے ساتھ مشغول رہنا

(١١٤) مسلمان کی ہجو کرنا

(١١٥) گناہ کبیرہ پر توبہ نہ کرنا

(١١٦) گناہ صغیرہ پر اصرار کرنا

(١١٧) صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو بُرا کہنا یا ان سے بغضٗ رکھنا

(١١٨) علم کے باوجود کسی مسلمان کے خلاف ناحق دعویٰ کرنا۔

حالت غضب میں معاف کرنے کی فضیلت

نیز فرمایا : ” اور وہ غضب کے وقت معاف کردیتے ہیں “ غصہ ٹھنڈا ہونے کے بعد عموماً معاف کردیتے ہیں، جرأت اور ہمت کا کام یہ ہے کہ انسان عین حالت غضب میں معاف کردے۔

اس آیت کے اس حصے کے شان نزول میں علامہ ابوعبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ نے حسب ذیل اقوال نقل کیے ہیں :

(١) یہ آیت حضرت عمر (رض) کے متعلق نازل ہوئی ہے جب انہیں مکہ میں گالیاں دی گئیں اور انہوں نے اس پر صبر کیا۔

(٢) حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے جب اپنا سارا مال راہ خدا میں خرچ کردیا تو لوگوں نے اس انہیں ملامت کی اور بُرا کہا تو انہوں نے اس پر صبر کیا۔

(٣) حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوبکر (رض) کے پاس مال جمع ہوگیا، انہوں نے وہ سب مال نیکی کے راستے میں خرچ کردیا، مسلمانوں نے ان کو ملامت کی اور کفار نے ان کی خطا نکالی، اس پر یہ آیتیں نازل ہوئی۔

” سو تم کو جو کچھ بھی دیا گیا ہے وہ دنیا کی زندگی کا فائدہ ہے اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ ایمان والوں کے لیے زیادہ اچھا اور زیادہ باقی رہنے والا ہے اور وہ اپنے رب پر ہی توکل کرتے ہیں اور جو لوگ کبیرہ گناہوں سے اور بےحیائی کے کاموں سے بچتے ہیں اور وہ غضب کے وقت معاف کردیتے ہیں “ (الشوریٰ : 36-37)

(٤) حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں : ایک مشرک نے حضرت ابوبکر کو گالی دی تو آپ نے اس کو کوئی جواب نہیں دیا۔

بہ بہت عمدہ اخلاق ہیں، بلند ہمت والے، اپنے اوپر ظلم کرنے والوں پر بھی شفقت کرتے ہیں اور جہالت کے ساتھ ان کے خلاف کاروائی کرے اس سے درگزر کرتے ہیں اور اپنے اس عمل کا ثواب صرف اللہ تعالیٰ سے طلب کرتے ہیں۔

القرآن – سورۃ نمبر 42 الشورى آیت نمبر 37