أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَكَذٰلِكَ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡكَ رُوۡحًا مِّنۡ اَمۡرِنَا‌ ؕ مَا كُنۡتَ تَدۡرِىۡ مَا الۡكِتٰبُ وَلَا الۡاِيۡمَانُ وَلٰـكِنۡ جَعَلۡنٰهُ نُوۡرًا نَّهۡدِىۡ بِهٖ مَنۡ نَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِنَا‌ ؕ وَاِنَّكَ لَتَهۡدِىۡۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍۙ ۞

ترجمہ:

اسی طرح ہم نے اپنے حکم سے آپ کی طرف روح (قرآن) کی وحی کی ہے، اس سے پہلے آپ ازخود یہ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا چیز ہے اور ایمان کیا ہے، لیکن ہم نے اس کتاب کو نور بنادیا جس سے ہم اپنے بندوں میں سے جس کو چاہیں ہدایت دیتے ہیں اور بیشک آپ ضرور صراط مستقیم کی طرف ہدایت دیتے ہیں

نزول قرآن سے پہلے آپ کو اجمالی طور پر قرآن عطا کیا جانا

الشوریٰ : ٥٣۔ ٥٢ میں فرمایا : اسی طرح ہم نے اپنے حکم سے آپ کی طرف روح (قرآن) کی وحی کی ہے، اس سے پہلے آپ ازخود یہ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا چیز ہے اور ایمان کیا ہے، لیکن ہم نے اس کتاب کو نور بنادیا جس سے ہم اپنے بندوں میں سے جس کو چاہیں ہدایت دیتے ہیں اور بیشک آپ ضرور صراط مستقیم کی طرف ہدایت دیتے ہیں۔ اللہ کے راستے کی طرف جو آسمانوں اور زمینوں کی ہر چیز کا مالک ہے، سنو ! اللہ ہی کی طرف تمام کام لوٹتے ہیں۔ “

اس آیت میں فرمایا ہے کہ ہم نے آپ کی طرف روح کی وحی کی ہے۔ روح سے مراد قرآن ہے کیونکہ جس طرح روح بدن کی حیات کا سبب ہے، اسی طرح قرآن مجید قلب کی حیات کا سبب ہے۔

اور اس وحی سے مراد عام ہے، خواہ آپ کے قلب میں کسی معنی کا القاء کیا جائے، یا حضرت جبریل آپ کے پاس اللہ کا پیغام لائیں یا اللہ تعالیٰ آپ سے بامشافہ اور بالمشاہدہ کلام فرمائے۔

علامہ سید محمود آلوسی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں :

علامہ عبدالوہاب شعرانی المتوفی ٩٧٣ ھ نے ” الکبریت الاحمر “ میں ” الفتوحات المکیہ “ کے باب ثانی سے نقل کیا ہے کہ حضرت جبریل کے آپ پر قرآن مجید نازل کرنے سے پہلے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اجمالی طور پر قرآن کریم عطا کیا گیا تھا اور اس میں آیتوں اور سورتوں کی تفصیل نہیں تھی۔ (الکبریت الاحمرص ٩، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤١٨ ھ)

(روح المعانی جز ٢٥ ص ٨٩، دارالفکر، بیروت، ١٤١٨ ھ)

اس اشکال کے جوابات کہ نزول قرآن سے پہلے آپ کو کتاب کا پتا تھا نہ ایمان کا

اس آیت پر یہ اشکال ہے کہ اس میں یہ فرمایا ہے کہ نزول قرآن سے پہلے آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا چیز ہے اور ایمان کیا ہے، حالانکہ امت کا اس پر اجماع ہے کہ ہر نبی پیدائشی مومن ہوتا ہے اور ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو حضرت آدم (علیہ السلام) کی پیدائش سے پہلے بھی نبی تھے، حدیث میں ہے :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ صحابہ نے پوچھا : یارسول اللہ ! آپ کے لیے نبوت کب واجب ہوئی ؟ آپ نے فرمایا : اس وقت حضرت آدم جسم اور روح کے درمیان تھے۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٦٠٩، المستدرک ج ٢ ص ٦٠٩، دلائل النبوۃ ج ٢ ص ١٣٠)

حضرت عرباض بن ساریہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک میں اللہ کے پاس خاتم النبین لکھا ہوا تھا اور اس وقت حضرت آدم اپنی مٹی کے پتلے میں تھے۔ الحدیث : (شرح السنۃ رقم الحدیث : ٣٦٢٦ )

اس لیے اس آیت کا محمل تلاش کرنا ضروری ہے جس میں فرمایا ہے : آپ نزول قرآن سے پہلے نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا چیز ہے اور ایمان کیا ہے۔ مفسرین نے اس آیت کے حسب ذیل محامل تلاش کیے ہیں :

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کتاب اور ایمان کے علم کی نفی کی دیگر مفسرین کی طرف سے توجیہات

(١) اس آیت میں ایمان سے مراد ایمان کامل ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات اور اس کی خبروں کی تصدیق، اقرار اور تمام احکام شرعیہ پر عمل اور ظاہر ہے کہ نزول قرآن سے پہلے تمام احکام شرعیہ پر عمل کرنا محقق نہیں ہوسکتا تھا۔

(٢) اس آیت میں ایمان سے مراد ہے : دعوت ایمان اور لوگوں کو کس طرح ایمان کی دعوت دی جائے اور ان کو ہدایت دی جائے اس کا علم آپ کو نزول کتاب کے بعد ہوا۔

(٣) ایمان سے مراد ہے : اہل ایمان اور نزول کتاب کے بعد آپ کو معلوم ہوا کہ آپ پر ایمان لانے والے کون ہیں اور کون ایمان لانے والے نہیں ہیں۔

اشکال مذکور کی مصنف کی طرف سے توجیہات

اس اشکال کے اور بھی جوابات دیئے گئے ہیں لیکن ان میں اکثر جواب کمزور ہیں، مصنف کے ذہن میں اس اشکال کا یہ جواب ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ” ماکنت تدری “ اور ’ دماکنت تعلم “ نہیں فرمایا، یعنی علم کی نفی نہیں کی، درایت کی نفی کی ہے اور درایت کا معنی ہے : اپنی عقل سے کسی چیز کا جاننا، اسی لیے ہم نے اس آیت کا ترجمہ کیا ہے : آپ از خود نہیں جانتے یعنی نزول قرآن سے پہلے آپ ازخود نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا چیز ہے اور ایمان کیا چیز ہے، ہاں اللہ تعالیٰ کے بتلانے سے آپ نزول قرآن سے پہلے بھی اپنی رسالت کو جانتے تھے جیسا کہ اس حدیث سے ظاہر ہوتا ہے :

حضرت جابر بن سمرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں مکہ میں ایک پتھر کو پہچانتا ہوں جو میری بعثت (اعلان نبوت) سے پہلے مجھ پر سلام پڑھا کرتا تھا، میں اس کو اب بھی پہچانتا ہوں۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٢٧٧)

ہم نے کہا ہے کہ دراۃ کے معنی ہیں : محض اپنی عقل اور قیاس سے کسی چیز کو جاننا، سو علامہ راغب اصفہانی نے لکھا ہے :

الدراۃ المعرفۃ المدرکۃ بضرب من الختل۔

حیلہ کی ایک قسم سے جو معرفت حاصل کی گئی ہو اس کو درایت کہتے ہیں۔ (المفردات ج ١ ص ٢٢٤، القاموس ص ١٢٨٢ (قاموس میں ختل کی جگہ حیل کا لفظ ہے)

قاضی عبداللہ بن عمر بیضاوی متوفی ٦٨٥ ھ لکھتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

وماتدری نفس ماذاتکسب غدا۔ (لقمان :34)

کوئی شخص (ازخود) نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کسب (کام) کرے گا۔

اس آیت میں اللہ کی طرف علم کی نسبت کی ہے اور بندہ کی طرف درایت کی نسبت کی ہے، کیونکہ درایت میں حیلہ کا معنی ہے یعنی حیلہ سے کسی چیز کو جاننا اور دونوں علموں میں فرق ہے، جب کوئی شخص حیلہ سے کوئی عمل کرے اور اس میں پوری کوشش صرف کرے تب بھی اس کو اپنے کسب کے حق ہونے کا علم ہوگا نہ اس کے انجام کا علم ہوگا، پس اس کے بغیر اسے اپنے کسب کا کیسے علم ہوگا جب اس پر کوئی شرعی یا عقلی دلیل قائم نہ ہو، اس لیے فرمایا : کوئی شخص (از خود) نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کسب (کام) کرے گا۔ (تفسیر بیضاوی مع الخفاجی ج ٧ ص ٤٣٥، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤١٧ ھ)

علامہ شہاب الدین احمد خفا جی متوفی ١٠٦٩ ھ اس عبارت کی شرح میں لکھتے ہیں :

درایت اس جملہ سے ماخوز ہے ’ د ری رمی الدریۃ “ کا یہ وہ چھلہ ہے جس کو پھینکنے کا تیر انداز قصد کرتے ہیں اور وہ چیز جس سے پیچھے شکاری شکار سے چھپ کر کھڑا ہوتا ہے اور اس حلیہ سے اس کو تیر مار کر شکار کرتا ہے اور ان میں سے ہر چیز حیلہ ہے، اس وجہ سے درایت علم سے خاص ہے، کیونکہ درایت حیلہ اور تکلف سے کسی چیز کا علم ہے اور اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے علم کو دریت نہیں کہتے۔ (عنایۃ القاضی ج ٧ ص ٤٣٥، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤١٧ ھ)

علامہ آلوسی متوفی ١٢٧٠ ھ نے بھی اس آیت کی تفسیر میں یہی لکھا ہے۔ (روح المعانی جز ٢١ ص ٦ (رض) ١٦٥، دارالفکر، بیروت، ١٤١٧ ھ)

اس اعتبار سے ” ماکنت تدری ما الکتاب ولا الایمان “ کا معنی ہوگا : آپ حیلہ اور تکلف سے یعنی از خود نہیں جانتے کہ کتاب کیا چیز ہے اور ایمان کیا ہے، ہاں ! اللہ کی وحی اور اس کی تعلیم سے جانتے ہیں کہ کتاب کیا چیز ہے اور ایمان کیا ہے ؟ اسی طرح حدیث میں ہے : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ام العلاء الانصاریہ سے فرمایا :

واللہ ما ادری وانا رسول اللہ ما یعفل بی۔

اور اللہ کی قسم ! میں (ازخود) نہیں جانتا حالانکہ میں اللہ کا رسول ہوں کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا۔

علامہ علی بن خلف ابن ابطال مالکی متوفی ٤٤٩ ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو فرمایا ہے : میں نہیں جانتا، اس کا محمل یہ ہے کہ آپ نے یہ اس وقت فرمایا تھا جب آپ کو علم نہیں تھا کہ آپ کے اگلے اور پچھلے (ظاہری) ذنب کی مغفرت کردی گئی ہے، کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اسی چیز کا علم ہوتا ہے جس کی آپ کی طرف وحی کی جاتی ہے۔ (شرح البخاری ج ٣ ص ٢٤٢، مکتبۃ الرشید، ریاض، ١٤٢٠ ھ، عمدۃ القاری ج ٨ ص ٢٤، دارالکتب العلمیہ)

علامہ ابن بطال اور علامہ عینی کی اس شرح سے بھی یہ معلوم ہوا کہ درایت کا معنی ہے : وحی کے بغیر کسی چیز کو اپنی عقل اور قیاس سے از خود جاننا۔ اور اب الشوریٰ : ٥١ کا معنی اس طرح ہوا کہ آپ بغیر وحی کے ازخود نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا چیز ہے اور ایمان کیا ہے۔

علامہ طاہر پٹنی متوفی ٩٨٦ ھ نے لکھا ہے : اس حدیث میں درایت تفصیلیہ کی نفی ہے، یعنی آپ کو اس وقت تفصیلی علم نہیں تھا کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جائے گا۔ (مجمع بحارالانوار ج ٢ ص ١٧٤، مکتبہ دارالایمان، مدینہ منورہ، ١٤١٥ ھ)

علامہ ابن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٢ ھ نے بھی یہی جواب لکھا ہے۔ (فتح الباری ج ٢ ص ٤٥٢، دارالفکر، ١٤٢٠ ھ)

اور اس صورت میں الشوریٰ : ٥١ کا معنی اس طرح ہے کہ آپ نزول کتاب سے پہلے کتاب اور ایمان کے تفصیلی علم کو نہیں جانتے تھے گو کہ اس کا اجمالی علم آپ کو حاصل تھا۔

سورۃ الشوریٰ کا اختتام

الحمدللہ رب العٰلمین آج ٢٤ ذوالقعدہ ١٤٢٤ ھ؍١٧ جنوری ٢٠٠٤ ء، بروز ہفتہ بعد از نماز ظہر سورة الشوریٰ کی تفصیل مکمل ہوگی۔ ٢٧ نومبر کو یہ تفسیر شروع کی گئی تھی، اس طرح ایک ماہ اور بیس دن میں یہ تفسیر مکمل ہوگئی، یہ تفسیر اس سے پہلے بھی ختم ہوجاتی لیکن دسمبر اور جنوری میں کراچی میں سردی پڑتی ہے اور میرا مزاج بہت سرد ہے اور مجھے عام لوگوں کی بہ نسبت بہت زیادہ سردی لگتی ہے، میں اپنے معمول کے مطابق جب نماز فجر سے پہلے اپنی کلاس میں تفسیر لکھنے کے لیے آتا تو مجھے لے تحاشا چھینکیں آتیں، ناک بہنے لگتی اور زکام کی شدت سے مجھے بخار چڑھ جاتا، میں ہر وقت دو سوئیٹر پہنے رہتا تھا۔

بہرحال ان عوارض کی وجہ سے سردی کے ایام میں میرے لکھنے کی رفتار ہر سال کم ہوجاتی ہے اور جوں جوں عمر زیادہ ہورہی ہے، ضعف بڑھتا جارہا ہے، جسم کی قوت مدافعت کمزور ہورہی ہے اور بیماری اور زیادہ شدت سے اپنے پنجے گاڑرہی ہے، اس دوران ١٦ شوال ١٤٢٤ ھ ؍١١ دسمبر ٢٠٠٣ ء کو یہ سانحہ ہوا کہ حضرت العامہ الحافظ الشاہ احمد نورانی صدر جمعیۃ العلماء پاکستان، صدر متحدہ مجلس عمل، قائد ملت اسلامیہ، صدر ورلڈ اسلامک مشن، سینیٹر قائد حزب اختلاف سینٹ آف پاکستان جمعرات کو دوپہر کے وقت حرکت قلب بندہوجانے کی وجہ سے اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اسی دن پاک فضائیہ کے خصوصی طیارہ C-30 کے ذریعہ آپ کی میت اسلام آباد سے کراچی لائی گئی اور اگلے روز نشتر پارک میں آپ کی نماز جنازہ پڑھی گئی، آپ کی نماز جنازہ میں کراچی کی تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع تھا، آپ کی ٧٨ سالہ حیات ملی اور دینی خدمات سے بھر پور ہے لیکن آپ کی نمایاں خدمات میں سے یہ ہے کہ آپ نے ١٩٧٣ ھ کے آئین میں متفقہ طور پر مسلمان کی تعریف شامل کی اور اس میں یہ لکھا ہے کہ مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آخری نبی مانتا ہوا اور آپ ہی نے پاکستان کی قومی اسمبلی میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے متعلق قرار داد پیش کی اور اس سلسلہ میں پورے ملک میں دورے کیے اور بالآخر ٧ ستمبر ١٩٧٤ ء کو پاکستان کی پارلیمنٹ نے بالا تفاق قادیانیوں (بشمول قادیانی و لاہری گروپ) کو غیر مسلم قرار دے دیا۔ آپ بہت سادہ تھے، بڑے وضع دار تھے، احسان کرکے نہ جتاتے تھے اور نہ ہی بتاتے تھے، انہوں نے مجھے اسلامی نظریاتی کونسل کا رکن بنوایا اور بڑے عرصے کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ آپ ہی کی سفارش سے مجھے یہ منصب ملا تھا، مجھے تاریخ دمشق کی ضرورت تھی، اس وقت اس کی قیمت ٤٥ ہزار روپے تھی اور میرے پاس اتنی گنجائش نہ تھی، آپ کو معلوم ہوا تو آپ نے مجھے ٤٥ ہزار روپے کا ڈرافٹ بھجوا دیا اور اس کے ساتھ اپنے نوازش نامہ میں لکھا : آپ کو اور بھی جس کتاب کی ضرورت ہو تو حکم فرمائیں، جو مخالفین شرح صحیح مسلم پر اپنے بغض وعناد سے بےشروپا اعتراضات کرتے تھے وہ ہمیشہ ان کے سامنے میری وکالت کرتے تھے اور میری طرف سے انہیں مسکت جوابات دیا کرتے تھے، وہ میرے مشن کے بہت بڑے حامی اور ناصر تھے، اللہ تعالیٰ ان کا آخرت میں حامی وناصر ہو، جب ہندوستان میں شرح صحیح مسلم چھپی تو آپ نے بےساختہ فرمایا : الفضل ماشھدت بہ الاعداء۔ اللہ تعالیٰ آپ کے درجات بلند فرمائے اور آپ کی قبر انور کو جنت کے باغات میں سے ایک باغ بنادے اور ایسے ولی کامل کی محبت کے توسل سے بتیان القرآن کو مکمل کرادے۔ آمین بجاہ سیدالمرسلین سیدنا محمد خاتم النبین وعلی آلہ و اصحابہ وازوجہ وعترتہ وامتہ اجمعین۔

غلام رسول سعیدی غفرلہٗ

خادم الحدیث، دارالعلوم نعیمیہ، کراچی ٣٨)

القرآن – سورۃ نمبر 42 الشورى آیت نمبر 52