أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَنۡ يُّضۡلِلِ اللّٰهُ فَمَالَهٗ مِنۡ وَّلِىٍّ مِّنۡۢ بَعۡدِهٖ‌ ؕ وَتَرَى الظّٰلِمِيۡنَ لَمَّا رَاَوُا الۡعَذَابَ يَقُوۡلُوۡنَ هَلۡ اِلٰى مَرَدٍّ مِّنۡ سَبِيۡلٍ‌ۚ‏ ۞

ترجمہ:

اور جسے اللہ گمراہ کردے اس کے لیے اس کے بعد کوئی کارساز نہیں ہے اور آپ دیکھیں گے کہ ظالم لوگ جب عذاب کو دیکھیں گے تو کہیں گے : کیا (دنیا میں) واپس جانے کی کوئی صورت ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

اور جسے اللہ گمراہ کردے اس کے لیے اس کے بعد کوئی کارساز نہیں ہے اور آپ دیکھیں گے کہ ظالم لوگ جب عذاب کو دیکھیں گے تو کہیں گے : کیا (دنیا میں) واپس جانے کی کوئی صورت ہے اور آپ ان کو دیکھیں گے کہ جب ان کو دوزخ پر اس حال میں پیش کیا جائے گا کہ وہ ذلت سے سرجھکائے ہوئے ہوں گے، کن انکھیوں سے دیکھ رہے ہوں گے اور ایمان والے کہہ رہے ہوں گے کہ بیشک نقصان زدہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنی جانوں کو اور ھگر والوں کو قیامت کے دن نقصان میں ڈال دیا، سنو ! بیشک ظلم کرنے والے دائمی عذاب میں ہیں اور اللہ کے سوا ان کے کوئی حمایتی نہیں ہیں جو ان کی مدد کرسکیں اور جسے اللہ گمراہ کردے اس کے لیے کوئی سیدھی راہ نہیں ہے (الشوریٰ :44-46)

اللہ تعالیٰ کی طرف ہدایت دینے کی نسبت کرنی چاہیے اور گمراہ کرنے کی نسبت شیطان ……کی طرف کرنی چاہیے

الشوریٰ : ٤٤ کا معنی ہے : اور جس کے لیے اللہ گمراہی کو پیدا کردے اس کا کوئی مددگار نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ کے گمراہ کرنے کے بعد اس کو سیدھی راہ پر لے آئے ماسوا اس کے جس کو اللہ تعالیٰ گمراہ کرنے کے بعد از خود ہدایت دے دے۔ (تفسیر کبیر ج ٩ ص ٦٠٨، مطبوعہ داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٥ ھ)

بندہ کے لیے اللہ تعالیٰ اسی چیز کو پیدا فرماتا ہے جس کو بندہ اختیار کرتا ہے ورنہ جزاء اور سزا بےمعنی ہوں گے اور بندہ جب کفر اور شرک کو اختیار کرتا ہے یا فحش اور برے کاموں کو اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ویسے افعال پیدا کردیتا ہے، تاہم ہمارے نزدیک یہ کہنا مناسب نہیں ہے کہ گمراہ کرنا اللہ کی طرف سے ہے، اللہ تعالیٰ کی طرف اچھائی کی نسبت کرنی چاہیے اور بُرائی کی نسبت بندہ کو اپنے نفس کی طرف کرنی چاہیے، ہرچند کہ ہدایت اور گمراہی دونوں اللہ کی طرف سے ہیں لیکن کہنا یوں چاہیے کہ ہدایت اللہ کی طرف سے اور گمراہی انسان کے اپنے اختیار اور اس کے نفس کی طرف سے ہے۔

اس کے بعد فرمایا :” اور آپ دیکھیں گے کہ ظالم لوگ جب عذاب کو دیکھیں گے تو کہیں گے : کیا دنیا میں واپس جانے کی کوئی صورت ہے ؟ “

اس کا معنی یہ ہے کہ جب کفار آخرت میں عذاب کی شدت کو دیکھیں گے تو اس وقت وہ دوبارہ دنیا میں واپس جانے کو طلب کریں گے اور اس قسم کی آیات قرآن مجید میں بہت ہیں لیکن ان کو دنیا میں واپس نہیں بھیجا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا علم ہے کہ اگر ان کو دنیا میں واپس بھیج دیا جائے تو وہ پھر وہی کام کریں گے جو وہ اس سے پہلے کرتے رہے تھے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 42 الشورى آیت نمبر 44