سنا ہے “گھریلو تشدد بل” اسلامی نظریاتی کونسل کے پاس شرعی نقطہ نظر سے دیکھنے کے لئے پہنچ چکا ہے دیکھتے ہیں اس کا کیا نتیجہ اخذ ہوتا ہے…

لیکن میرے نقطہ نظر سے یہ بِل پاکستان کے لیے ہو ہی سکتا…

مغرب سے امپورٹ کرنے والوں نے بہت جلد بازی کی…

اُس کی وجوہات ؟

(1) مثال کے طور پر عدالت نے باپ کو سزا دیتے ہوئے ایک سال کے لئے گھر سے دور کردیا.

تو کیا اُس باپ کو اِس بات کا پابند کیا جا سکے گا سزا والے سال یا اس کے بعد اپنی فیملی کے اخراجات کو برداشت کرے گا..

ہمارے کلچر میں میں عزت نفس بہت بڑا فیکٹر ہے جب کسی باپ کی عزت نفس مجروح ہوگی تو وہ اپنی فیملی کو خرچہ دینے سے ہاتھ کھینچ لے گا تو کیا اس صورت میں حکومت وقت اس کی فیملی کے 5/7 افراد کی کفالت کی ذمہ داری لے سکے گی ؟

اور تربیت کی ذمہ داری کس پر ہو گی؟ یا اس کی فیملی کو بے راہ روی کے رستے پر کھلا چھوڑ دیا جائے گا

یقیناً حکومت تو اس قابل ہے نہیں

نتیجہ!

خاندان کی مکمل تباہی و بربادی

یا پھر یتیموں جیسی زندگی

(2) بالفرض اگر عدالت نے کسی خاندان کے سربراہ کو تین سال کی سزا دے دی تو اس کے خاندان کی کفالت کی ذمہ داری کس کے سپرد ہو گی…؟

یقیناً حکومت تو اس قابل ہے نہیں

نتیجہ!

خاندان کی مکمل تباہی و بربادی

یا پھر یتیموں جیسی زندگی

ہاں یورپ میں ایسے قوانین موجود ہیں.

ایسے حالات میں یورپین سوشل ویلفیئر ادارے پورے خاندان کی رہائش، کفالت و تحفظ کی ذمہ داری لے لیتے ہیں، ….

یہ الگ بات ہے یورپین بوڑھے اولڈ ہاؤس میں اپنی موت کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں اکثر و بیشتر ملازمین سے مار بھی کھاتے ہیں…

جب کہ پاکستان میں حکومت کی طرف سے نہ تو رہائش و تحفظ ممکن ہے اور نہ ہی کفالت ..

اس سے زیادہ بہتر ہے کہ حکومت وقت تمام ٹی وی چینلز کو پابند کرے کہ وہ والدین کو تربیت کرنے کے اصول سکھانے کے لیے مختلف سکالرز کو دعوت دیں اور اولاد کے لیے آگاہی پروگرامز کا انعقاد کریں اور مسلسل اس کا انتظام کریں….

ویسے بھی سیاسی ٹاک شوز میں لوگوں کی دلچسپی کافی کم ہو گئی ہے…

تحریر :۔ محمد یعقوب نقشبندی