مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما

عصر حاضر کے جدید مسائل اور ان کا حل

سوال:عہد حاضر میں مسائل جدیدہ حل کرنے والے مفتیان کرام پر کوئی شرعی حکم عائد ہو گا؟ یا وہ عند اللہ اجر کے مستحق ہوں گے؟

جواب:

1-شریعت اسلامیہ نے ہر کام کی اجازت ہر ایک کو نہیں دی ہے,مثلا شرع اسلامی نے غیر عالم کو فتوی دینے اور وعظ کہنے سے منع فرمایا ہے۔بعض کام نا اہل کے لئے ممنوع اور اہل کے لئے جائز ہے۔مجتہد کے عدم وجود کے وقت صاحب نظر مقلد فقیہ کو حوادث جدیدہ کا حکم بیان کرنے کی اجازت ہے۔دیگر مقلد فقہا کو اجازت نہیں۔جیسےجج کو فیصلہ کا حق ہے۔وکیل کورٹ میں صرف بحث کر سکتا ہے,حالاں کہ دونوں قانون داں ہوتے ہیں۔اسی طرح فقیہ اور صاحب نظر فقیہ میں فرق ہے,گرچہ دونوں علم فقہ سے واقف وآشنا اور فقہیات سے منسلک ہوتے ہیں۔ہر مفتی صاحب نظر فقیہ نہیں۔

2-عہد حاضر میں مسائل جدیدہ کے حل کے لئے فقہی مجالس بنائی گئی ہیں۔تجربہ کار اور کہنہ مشق مفتیان کرام مقالات لکھتے ہیں۔اپنی تحقیقات پیش کرتے ہیں۔مباحثے ہوتے ہیں۔اس کے بعد فیصلے ہوتے ہیں۔چوں کہ ملک بھر کے ماہر فقہائے کرام ایسی مجلسوں میں شرکت کرتے ہیں,اس لئے ان فقہی مجالس کو مسائل حاضرہ حل کرنے کی یقینا اجازت ہے۔

3-کئی صدیوں سے مجتہدین کا وجود نہیں۔اب مقلد فقہائے کرام کو ہی مسائل حاضرہ کا حل پیش کرنا ہے۔اللہ تعالی ہر عہد میں بعض فقہائے اسلام کو وہ رتبہ اور منزل عطا فرماتا ہے کہ وہ مسائل حاضرہ کو اصول وضوابط اور فقہی جزئیات کی روشنی میں حل کر سکیں۔اس کی صراحت اعلی حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان نے بھی فرمائی۔چند اقتباسات مندرجہ ذیل ہیں۔

(الف)”ان شاء اللہ العزیز زمانہ بندگان خدا سے خالی نہ ہو گا جو مشکل کی تسہیل,معضل کی تحصیل,صعب کی تذلیل,مجمل کی تفصیل کے ماہر ہوں۔بحر سے صدف,صدف سے گہر,بذر سے درخت,درخت سے ثمر نکالنے پر باذن اللہ تعالی قادر ہوں”-(فتاوی رضویہ:ج10-ص370-جامعہ نظامیہ لاہور)

(ب)”نئی پیدا ہونے والی باتیں گرچہ ختم ہونا نہیں مانتیں,مگر وہ علم جو ائمہ ہم کو دے گئے ہیں,اس سے کوئی باہر رہتی نہیں معلوم ہوتی۔اور اللہ نے چاہا تو زمانہ ایسوں سےخالی نہیں ہو گاجسے اللہ ان پوشیدہ باتوں کے نکالنے اور بخششوں اور فضیلتوں سے نفع اٹھانے پر قدرت دے”-(رسالہ:کفل الفقیہ الفاہم۔فتاوی رضویہ۔ج17-ص397-جامعہ نظامیہ لاہور)

(ج)”درمختار میں ہے:ولا یخلوا الوجود عمن یمیز ہذا حقیقۃ,لا ظنا۔وعلی من لم یمیز ان یرجع لمن یمیز لبرأۃ ذمتہ”-(فتاوی رضویہ ج18-ص:496-رضا اکیڈمی ممبئ)

4-عہد حاضر میں طبقہ ہفتم کے فقہائے کرام موجود ہیں۔اب ان حضرات ہی کو حوادث جدیدہ کا حکم بیان کرنا ہے۔طبقہ ہفتم کے جن فقہائے کرام کو انفرادی طور پر بھی مسائل جدیدہ حل کرنے کی اجازت ہے۔افہام وتفہیم کے لئے ان حضرات کو”صاحب نظر فقیہ”سے ملقب کیا جائے۔ان کے چند خصائص مندرجہ ذیل ہیں۔

(الف)امام اہل سنت قدس سرہ العزیز نے ایسے فقیہ کی وصف بیانی کرتے ہوئے رقم فرمایا:”فقیہ ومتفقہ صاحب نظر وتصرفات صحیحہ”(فتاوی رضویہ:ج18-ص495-جامعہ نظامیہ لاہور)

(ب)علامہ شامی قدس سرہ نے رقم فرمایا:

(والتحقیق ان المفتی فی الوقائع لا بد لہ من ضرب اجتہاد ومعرفۃ باحوال الناس)

(شرح عقود رسم المفتی ص:41)

ترجمہ:تحقیق یہ ہے کہ واقعات(حوادث جدیدہ)کے بارے میں فتوی دینے والے کے لئے ایک قسم کا اجتہاد اور لوگوں کے احوال کی معرفت ضروری ہے۔

(ج)علامہ شامی نے اس سے متعلق ایک تفصیلی عبارت رقم فرمائی۔اس کا ابتدائیہ ہے:(قال فی آخر الحاوی القدسی:ومتی لم یوجد فی المسئلۃ:الخ)(شرح عقود رسم المفتی ص:28)

(د)امام بدر الدین زرکشی شافعی نے تحریر فرمایا:(والحق ان الفقیہ الفطن القیاس کالمجتہد فی العامی۔لا الناقل فقط)

(البحر المحیط ج6-ص207)

ترجمہ:حق یہ ہے کہ قیاس پر قدرت رکھنے والا ذہین فقیہ عام افراد کے حق میں مجتہد کی طرح ہے۔نہ کہ صرف اقوال فقہیہ نقل کرنے والا۔

5-مجتہد یا صاحب نظر مقلد فقیہ غیر منصوص مسائل کا حکم بیان کریں تو ان پر شرعا الزام نہیں۔ایسے فقہا کی ہرگز تفسیق نہیں کی جائے گی,گرچہ ان کا قول شاذ ومرجوح ہو۔

اصول وضوابط اور شرعی دلائل میں تدبر وتفکر اور محنت ومشقت کے بعد ان کی نظر میں جو صحیح ہو,ان کو وہی بیان کرنا ہے۔

بلا شرعی ضرورت وحاجت قول شاذ اور قول مرجوح پر عمل جائز نہیں,لیکن ان اقوال کے قائلین پر شرعی حکم نہیں۔قائلین بھی مجتہدین اور فقہائے معتمدین ہیں۔

فتاوی رضویہ(جلد 22-ص:515-جامعہ نظامیہ لاہور)کے چند اقتباسات مندرجہ ذیل ہیں۔

(الف)”قول شاذ ماننے والے پر شرعی الزام شدید عائد ہو گا,نہ کہ معاذ اللہ صاحب قول پر”-

(ب)”ائمہ میں کون ایسا ہے حتی کہ صحابہ جس کا کوئی نہ کوئی قول مرجوح نہیں۔وہ معاذ اللہ معاذ اللہ نہ جاہل,نہ فاسق”-

(ج)”ہر عاقل مسلمان جانتا ہے کہ نوع بشر میں عصمت خاصۂ انبیاء ہے۔نبی کے سوا کوئی کیسے ہی عالی مرتبے والا ایسا نہیں جس سے کوئی نہ کوئی قول ضعیف خلاف دلیل یا خلاف جمہور نہ صادر ہوا ہو۔

کل ماخوذ من قولہ ومردود علیہ الا صاحب ہذا القبر صلی اللہ تعالی علیہ وسلم”۔

منقولہ بالا اقتباسات سے واضح ہو گیا کہ اقوال شاذہ یا اقوال مرجوحہ کے قائلین پر کوئی شرعی الزام نہیں۔مجتہد صحت کو پا لے تو دو اجر۔اجتہادی لغزش ہو جائے تو ایک اجر۔

عہد حاضر میں کوئی مجتہد نہیں اور صاحب نظر فقیہ فضل الہی سے ہر عہد میں موجود ہوتے ہیں۔اگر صاحب نظر فقیہ کوئی فقہی تحقیق پیش کریں تو ان پر کوئی شرعی الزام نہیں۔ان پرطعن وتشنیع یا تفسیق غلط ہے۔

6-کئی صدیوں سے اصحاب الترجیح فقہا کا وجود نہیں۔طبقہ پنجم کے فقہائے کرام کو اصحاب الترجیح کہا جاتا ہے۔وہ متخالف فقہی اقوال میں راجح ومرجوح کا تعین فرماتے ہیں۔

عہد حاضر کے حل شدہ مسائل جدیدہ بلا ترجیح ہیں۔عصر حاضر میں کوئی صاحب الترجیح فقیہ نہیں جو متخالف ومتقابل فقہی اقوال میں یہ متعین کر سکیں کہ کون راجح ہے اور کون مرجوح۔

غیر ترجیح یافتہ اقوال کا جو حکم ہے,وہی حکم عہد حاضر کے حل شدہ مسائل جدیدہ کا ہے۔امت مسلمہ عمل کس پر کرے۔فقہی مجالس اس بارے میں کوئی متفقہ فیصلہ قوم کو پیش فرمائیں۔یہی امت مسلمہ کے حق میں بہتر ہے۔

7-مجتہدین کی عدم موجودگی میں صاحب نظر فقیہ حوادث جدیدہ کے باب میں مجتہد کے قائم مقام ہوتے ہیں۔جس طرح مجتہد کے لئے عدم تفسیق کا حکم ہے,وہی حکم صاحب نظر فقیہ کے لئے ہو گا,گرچہ ان کا قول شاذ ومرجوح ہو۔واللہ تعالی اعلم بالصواب والیہ المرجع والمآب

نوٹ:صاحب نظر فقہائے اسلام کی عدم تفسیق ہی ہمارے لئے ظاہر ہوئی۔وہ ہم نے اختصار کے ساتھ رقم کر دیا۔اس کے برخلاف کوئی تحقیق آئی تو ان شاء اللہ تعالی اس پر غور کیا جائے گا۔صرف سنجیدہ,مدلل اور تحریری تحقیق قابل قبول ہو گی۔مناظرہ ومباحثہ کی ہرگز اجازت نہیں۔جزاکم اللہ تعالی فی الدارین:آمین

8-اللہ ورسول(عز وجل وصلی اللہ تعالی علیہ وسلم)کے بتائے بغیر بندوں کو یہ علم نہیں ہو سکتا کہ کون مجتہد وفقیہ صحت کو پایا اور کن سے اجتہادی خطا اور تحقیقی لغزش واقع ہو گئی۔عقلی امکان موجود ہے کہ مرجوح وشاذ قول ہی اللہ تعالی کی مرضی کے موافق ہو۔

باب فقہیات میں کسی جانب اکثریت ہو تو یہ اکثریت اس قول کے حق ہونے کی دلیل نہیں۔

اعلی حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان نے ارشاد فرمایا:”اتباع سواد اعظم کا حکم اور من شذ شذ فی النار(جو جدا ہوا,وہ جہنم میں گیا۔ت)کی وعید صرف دربارہ عقائد ہے۔مسائل فرعیہ فقہیہ کو اس سے کچھ علاقہ نہیں۔صحابہ کرام سے ائمہ اربعہ تک رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین کوئی مجتہد ایسا نہ ہو گاجس کے بعض اقوال خلاف جمہور نہ ہوں”۔(فتاوی رضویہ:ج18ص492-جامعہ نظامیہ لاہور)

توضیح:باب فقہیات(ظنیات) میں جمہور کے قول کے خلاف جو قول ہو,وہ یقینی طور پر باطل نہیں ہے۔مخالف قول اسی وقت باطل ہو گا,جب جمہور کا قول یقینی طور پر صحیح ہو۔

جمہور کے قول پر یقینی دلیل ہی موجود نہیں تو جمہور کا قول یقینی کیسے ہو جائے گا۔اگر یقینی دلیل موجود ہوتی تو اجتہاد ہی جائز نہیں ہوتا۔ظنیات میں اجتہاد ہوتا ہے۔

باب عقائد(قطعیات)میں جو قول سواد اعظم کے قول کے خلاف ہو,وہ یقینی طور پر باطل ہے,جیسے باطل فرقوں کے عقائد باطلہ۔

9-ظنی واجتہادی مسائل میں یہ نظریہ رکھنا ہے کہ ہمارا قول صحیح ہے,اور اس میں خطا کا احتمال ہے۔مخالف کے قول کے بارے میں یہ نظریہ رکھنا ہے کہ اس کا قول مبنی برخطا ہے,لیکن صحت کا احتمال ہے۔ظنی واجتہادی مسائل میں اپنے قول کو سو فی صد حق ماننا اور مخالف قول کو سو فی صد غلط ماننا غلط ہے۔ظنیات میں جانب مخالف کا احتمال رہتا ہے۔قطعیات میں جانب مخالف کا احتمال نہیں ہوتا ہے۔قطعیات میں یہ عقیدہ رکھنا ہے کہ ہمارا عقیدہ سو فی صد حق ہے۔ہمارے مخالف کا عقیدہ سو فی صد باطل ہے۔

عوام الناس اور کم علم والوں کے نظریات غلط ہوتے جا رہے ہیں,اس لئے ان سب باتوں کو رقم کرنے کی حاجت درپیش ہوئی۔اس قسم کی بہت سی باتیں نظر میں ہیں۔اللہ رحم فرمائے:آمین

((ہمت مرداں مدد خدا))

طارق انور مصباحی

جاری کردہ:09:جولائی 2021