سُن کر قلب کو صدمہ پہنچا ۔

۔

آج نارتھ کراچی کے قلب میں واقع ایک عظیم الشان دینی ادارے میں حاضری ہوئ ۔ادارے سے مُتّصِلْ ایک بڑی عالیشان مسجد بھی قائم ہے ۔ایسی مسجد کہ دیکھ کر آنکھیں ٹھنڈی ہوں ۔ ادارے میں سینکڑوں طلباء دینی تعلیم کی زیور سے خود کو آراستہ کررہے ہیں ۔یہاں اولٰی سے لے کر موقوف علیہ کی کلاسز ہیں ۔

۔

ہم ٹھہرے کتابی بندے۔۔۔۔پڑھنے لکھنے، لائیبریریز کی وزٹ کرنے میں ہمیں خاصی دلچسپی ہے ۔دورِ حاضر میں کھانے پینے کےلئے ہوسٹلز زیادہ اور لائبریریاں ویسے ہی کم ہیں جس کی وجہ سے اکثر لوگوں کے جسم موٹے اور عقلیں چھوٹی ہوتی جارہی ہیں ۔

۔

ادارے کے مُہْتمم سے ہم نے عرض کیا حضور والا! لائیریری وزٹ کروائیے ۔

بلاکسی خوف وجھجھک کے حضرت نے برملا فرمادیا “ادارہ ہذا میں لائیبریری نہیں ہے “

حضرت نے تو بنا کسی افسوس کے ہمیں یہ خبر سنادی ایسے لگ رہا تھا جیسے ادارے میں لائیبریری کا نہ ہونا باعث فخر بات ہے لیکن ہمیں افسوس ہوا اور دِلّی صدمہ بھی ۔

۔

عالیشان عمارات، بہترین طعام وقیام کی سہولیات قومیں نہیں بنتی ۔قومیں تعلیم سے بنتی ہیں اور حصول تعلیم کا ایک بہترین ذریعہ کتاب بھی ہے ۔علمی زندگی کو دوام بخشنے کےلئے نصابی تعلیم کے ساتھ ساتھ طلبائے علم دین کےلئے لائیبریری بھی بہت ضروری ہے ۔

۔

ایک طرف ہم کہتے ہیں دینی مدارس جامعات اسلام کا قلعہ ہیں دوسری طرف علم سے محبت کا یہ حال کہ کتاب سے کوئی دوستی ہی نہیں۔کیا دنیا میں کوئی ایسا بھی قلعہ ہوا ہے جس کے سپاہیوں کے پاس ہتھیار نہ ہوں؟

۔

جن مدارس میں لائبریریاں نہیں ہیں وہاں کے فارغ التحصیل طلباء کو مطالعہ کی عادت کیسے ہوگی ؟؟؟؟

آج کے طلباء کل کے اکابرین ہیں ۔کل اِنہی طلباء نے دینی ذمہ داریاں سنبھال کر قوم کا رہنما بننا ہے ۔جب کسی دینی رہنما کا مطالعہ محدود ہوگا تو وہ قوم کی رہنمائی کماحقّہ کیسے کر سکے گا؟

۔

پروفیسر ڈاکٹر محمد اسماعیل بدایونی صاحب کا قلم لکھتے لکھتے گِھس گیا ہے ۔ڈاکٹر صاحب تو عوام کو بھی مطالعہ کی ترغیب دے رہے تاکہ اسلام کی نظریاتی سرحدوں کا دفاع ہوسکے اور یہاں خواص کا حال یہ ہے کتابیں ہی نہیں اُن کے پاس۔

✍️ ابوحاتم

10/07/2021/