أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَجَعَلُوا الۡمَلٰٓئِكَةَ الَّذِيۡنَ هُمۡ عِبَادُ الرَّحۡمٰنِ اِنَاثًا‌ ؕ اَشَهِدُوۡا خَلۡقَهُمۡ‌ ؕ سَتُكۡتَبُ شَهَادَتُهُمۡ وَيُسۡئَــلُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور انہوں نے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیا جو رحمن کے بندے ہیں، کیا یہ لوگ ان کی پیدائش کے وقت گواہ تھے، ان کی یہ گواہی لکھ لی جائے گی اور عنقریب اس کے متعلق باز پرس ہوگی

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشا ہے :

اور انہوں نے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیا جو رحمن کے بندے ہیں، کیا یہ لوگ ان کی پیدائش کے وقت گواہ تھے، ان کی یہ گواہی لکھ لی جائے گی اور عنقریب اس کے متعلق باز پرس ہوگی اور انہوں نے کہا : اگر رحمن چاہتا تو ہم ان کی عبادت نہ کرتے انہیں اس کا کچھ علم نہیں، وہ محض اٹکل پچو سے باتیں کرتے ہیں کیا ہم نے اس سے پہلے انہیں کوئی کتاب دی ہے جس کو یہ مضبوطی سے تھامے ہوئے ہیں نہیں ! بلکہ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک دین پر پایا اور ہم ان ہی کے قدموں کے نشانات پر چل کر ہدایت پانے والے ہیں (الزخرف :19-22)

کفار کے اس قول کا رد کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں

اس آیت میں فرشتوں کے متعلق فرمایا ہے : جو رحمن کے بندے ہیں، اس میں کفار کا رد ہے کہ انہوں نے کہا تھا کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وہ رحمن کے بندے ہیں اور جو بیٹا یا بیٹی ہو اس کو غلام یا باندی نہیں بنایا جاسکتا، اگر کوئی شخص ناواقفی میں کسی غلام یا باندی کو خرید لے اور بعد میں پتا چلے کہ وہ اس کا بیٹا یا بیٹی ہے تو وہ فوراً آزاد ہوجائے گا، اس لیے کفار کا فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں کہنا غلط ہے کیونکہ درحقیقت وہ اللہ کے بندے ہیں۔

دوسرا رد یہ ہے کہ فرشتے اللہ کے پاس ہیں نہ کفار کے پاس، پھر ان کو کیسے معلوم ہوا کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔

ایک قول یہ ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کفار سے پوچھا کہ تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں ؟ انہوں نے کہا : ہم نے یہ بات اپنے باپ دادا سے سنی ہے اور ہم گواہی دیتے ہیں کہ ہمارے باپ دادا اس قول میں جھوٹے نہیں ہیں کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ان کی شہادت لکھ لی جائے گی اور ان سے اس شہادت کے متعلق آخرت میں سوال کیا جائے گا۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ١٦ ص ٦٨۔ ٦٨، دارالفکر، بیروت، ١٦١٥ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 43 الزخرف آیت نمبر 19