أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَقُّ قَالُوۡا هٰذَا سِحۡرٌ وَّاِنَّا بِهٖ كٰفِرُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور جب ان کے پاس حق پہنچ گیا تو انہوں نے کہا : یہ جادو ہے اور ہم اس کا کفر کرنے والے ہیں

تفسیر:

الزخرف : ٣٠ میں فرمایا : ” اور جب ان کے پاس حق پہنچ گیا تو انہوں نے کہا : یہ جادو ہے اور ہم اس کا کفر کرنے والے ہیں “ یہ لوگ عقیدہ ٔ توحید سے غافل ہوچکے تھے اور جب ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو خواب غفلت سے جگانے کے لیے اور اللہ تعالیٰ کی توحید کی طرف رہنمائی کرنے کے لیے آئے تو انہوں نے آپ کا اور آپ کے پیغام کا اور قرآن مجید کا انکار کیا اور کہا : ” یہ جادو ہے اور ہم اس کا انکار کرنیوالے ہیں۔ “

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تکذیب کرنا اور اللہ تعالیٰ کا کفر کرنا اہل دوزخ کی صفت ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کے قہر کے آثار سے ہے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تصدیق کرنا اور اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا یہ اہل جنت کی صفت ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کے لطف کے آثار سے ہے، حدیث میں ہے :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرا ہر امتی جنت میں داخل ہوگا، سوا اس کے جو انکار کرے گا، صحابہ نے کہا : یارسول اللہ ! انکار کرنے والا کون ہے ؟ آپ نے فرمایا : جو میری نافرمانی کرے گا وہ میرا انکار کرے گا۔ (المستدرک ج ١ ص ٥٥ طبع قدیم، المستدرک رقم الحدیث : ١٨٢، المکتبۃ العصریہ، ١٤٢٠ ھ، صحیح البخاری رقم الحدیث : ٧٢٨٠، مسند احمد ج ٢ ص ٣٦١ )

صحیح بخاری کی روایت میں یہ اضافہ ہے : جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہوگا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے انکار کیا۔

حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس فرشتے آئے، اس وقت آپ سو رہے تھے، بعض نے کہا : یہ سوئے ہوئے ہیں اور بعض نے کہا : ان کی آنکھیں سوئی ہوئی ہیں اور دل بیدار ہے، پھر انہوں نے کہا : اپنے اس صاحب کی کوئی مثال بیان کرو، پھر بعض نے کہا : یہ سوئے ہیں اور بعض نے کہا : ان کی آنکھیں سوئی ہوئی ہیں اور دل بیدار ہے، پھر انہوں نے کہا : ان کی مثال اسی طرح ہے جیسے کسی شخص نے ایک گھر بنایا اور اس میں ایک دستر خوان بچھا دیا اور ایک دعوت دینے والے کو بھیجا، پس جس شخص نے اس داعی کو دعوت قبول کی وہ گھر میں داخل ہوا اور اس نے دستر خوان سے کھایا اور جس نے دعوت قبول نہیں کی وہ گھر میں داخل نہیں ہوا اور اس نے دستر خوان سے نہیں کھایا۔ پھر فرشتوں نے کہا : اس مثال کی وضاحت کرو تاکہ یہ اس کو سمجھیں۔ پس بعض فرشتوں نے کہا : یہ سوئے ہوئے ہیں اور بعض نے کہا : ان کی آنکھیں سوئی ہوئی ہیں اور دل بیدار ہے، تب انہوں نے کہا : دار سے مراد جنت ہے اور داعی (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں، پس جس نے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کرلی اور جس نے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان فرق کرنے والے ہیں۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٧٢٨١، جامع المسانید والسنن مسند جابر بن عبداللہ رقم الحدیث : ١٠٦)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 43 الزخرف آیت نمبر 30