’’کتب درسیہ کی قدیم و جدید طباعت ، ایک جائزہ !‘‘

محمد زعیم

10/07/2021

کتاب نے صاحب تصنیف کے املا کروانے سے نقول تیار کرنے تک اور نقل ہونے والے قلمی نسخوں اور مخطوطہ جات سے طباعت تک کا سفر تدریجا طے کیا ہے ۔ اس سفر میں جہاں ہر فن اور موضوع سے تعلق رکھنے والی کتاب شامل ہے وہیں درسیات سے متعلقہ کتب بھی بالخصوص اس سفر کا حصہ رہی ہیں ۔

ہم نے طالب العلمی دور کے اوائل میں فقط قدیم طرز پر طبع ہونے والی کتب دیکھیں جن میں اصل متن و شرح کسی خطاط کے لکھے ہوئے ہوتے تو حواشی تعویذات کی مثل ہوا کرتے ۔ لیکن پھر درسی کتب نئے رنگ اور لباس میں طبع ہونے لگیں ، جدید مطبوعہ کتب قدیم طبع شدہ کتابوں سے بہت منفرد نظر آتیں ۔ اصل مواد میں مواقفت کے باوجود نئی مطبوعہ کتابوں نے بڑی تیزی کے ساتھ بازار کی دکانوں اور طلبہ و اساتذہ کے دلوں میں جگہ بنائی ۔ اس کی وجہ جدید مطبوعہ کتابوں کی وہ انفرادی خصوصیات تھیں جو انہیں قدیم طرز طباعت کے مطابق شائع ہونے والی کتب سے ممتاز کرتی تھیں ۔ ان خصوصیات میں سے سب سے بڑی خصوصیت ان کتب کی قراءت کا انتہائی سہل ہونا ہے جو جدید کمپوزنگ، عنوانات کے اضافے، پیرا بندی، (تعریف،ضابطہ،مثال) اور معنی کے حساب سے جملوں کے اختتام کے موافق رموز و اوقاف کے اہتمام اور عنوانات کے اضافوں پر مشتمل ہے۔ گویا درسی کتب پڑھنے کو حد درجہ سہل اور آسان بنانے کی کوشش کی گئی جس کے نتیجے میں طلباء حتی کہ اساتذہ قدیم طرز طباعت کے مطابق شائع ہونے والی کتب کا مطالعہ چھوڑتے جا رہے ہیں ۔

من وجہ اس کا فائدہ بھی ہوا وہ یہ کہ جو طلباء پہلے متن تک پڑھنے سے جی چراتے تھے وہ اب حواشی تک پڑھنے کی جسارت کرنے لگے ۔

لیکن دوسری جہت سے دیکھیے تو اس وجہ سے گروہِ متعلمین و معلمین میں جو سہولت پسندی در آئی وہ ان کی مشکل اور ادق کتب پڑھنے کی صلاحیت کم ہونے کی صورت میں ظاہر ہوئی ۔ یہی وجہ ہے کہ اگر آپ ’’مکتبہ بشری‘‘ کے نسخہ سے کتاب پڑھنے والے طالب العلم سے ’’مکتبہ رشیدیہ‘‘ کے نسخہ سے عبارت پڑھنے کے لیے کہیں گے تو وہ عبارت پڑھنے کے دوران جگہ جگہ اڑتا اور ٹھوکریں کھاتا ہوا دکھائی دے گا۔

استعداد کی یہ کمی اس اعتبار سے بھی نقصان دہ ہے کہ اگر کل کو انہی نو فارغ طلباء و فاضلین سے کسی قلمی مخطوطہ پر تحقیق کرنے کو کہا جائے تو یہ بغلیں جھانکتے دکھائی دیں گے اور بالفرض امتثال امر کر بھی لیں تب بھی دورانِ تحقیق پیش آنے والی مشکل ان کے احوال دیکھ کر باآسانی معلوم کی جاسکتی ہے ۔

بہرحال قدیم طرز پر مطبوعہ کتب کو یکسر ترک کر دینا مناسب نہیں بلکہ طلباء کو اب بھی ان کتابوں کو پڑھنے کی ترغیب دلانی چاہیے تا کہ ان کی استعداد میں کمی واقع نہ ہو ۔

میں جدید طباعت کا ہر گز مخالف نہیں بلکہ اس بات کا قائل ہوں کہ اس سے فائدہ نہ اٹھانا بھی نا انصافی ہے ، اسی لیے جدید طباعت کے دفع ضرر اور اور قدیم طباعت سے جلب منفعت کے لیے تطبیقی صورت نکالی جانی چاہیے اور میری نظر میں وہ ممکنہ صورت یہ ہے کہ عبارت پڑھنے والے مبتدی طلباء کی ’’عبارت سے مانوسیت‘‘ اور ’’روانی‘‘ پیدا کرنے کے لیے ابتداءََ انہیں جدید مطبوعہ کتب پڑھائی جائیں اس کے بعد جن مخصوص طلباء کی عبارت خوانی درست ہو جائے انہیں یا جس درجہ میں طلباء کی عبارت میں روانی پیدا ہو جائے انہیں قدیم طرز پر شائع ہونے والی کتب پڑھنے کی ترغیب دی جائے ۔

(مذکورہ بالا تحریر کئی سال قبل زمانہ طالب العلمی جو تا لحد جاری رہے گا کے ایک مکالمہ سے ماخوذ ہے جو میرے اور ایک سینئر دوست حفظہ اللہ کے مابین ہوا۔ مولا تعالی ان کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے)