حضرت ابو مسلم الخولانی ، رحمة الله عليه.

وه عظيم المرتبت جلیل القدر تابعی ۔ جن کو شعلے مارتی آگ میں ڈالا گیا مگر کوئی بال تک بھی نہ جلا ۔

آپ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ظاہری حیات مبارکہ میں اپنے مولد یمن میں ہی اسلام لے آئے ۔ مدینہ منورہ حاضری میں بوجوہ تاخیر ہو گئی لیکن آپ کی عبادت و ریاضت اور استقامت مثالی تھی۔

اسود عنسی نے یمن میں دعوائے نبوت کیا ۔ خود بھی ظالم طبیعت اور قبیلہ بھی بڑا تھا سو اس پر ایمان لانے والوں کا تانتا سا بندھ گیا

تو ایسے پر خطر ماحول میں جو آواز سب کے سامنے گونجی کہ تم کذاب ہو وہ ابو مسلم خولانی کی تھی ۔

آخر وہ وقت آیا کہ اسود کذاب کے کہنے پر ایک بہت بڑی آگ جلائی گئی ۔ اور اس کے قریب جناب خولانی کو کھڑا کر کے کہا گیا کہ یا تو اسے نبی مان لو یا آگ میں ڈالے جانے کے لیئے تیار ۔

آپ جناب تو کذاب یے تو کذاب ہے کے نعرے لگاتے رہے ۔

آپ کو آگ میں ڈالا گیا تو آپ کو نماز اور ذکر و فکر میں مشغول دیکھا گیا ۔ آگ سرد ہونے پر آپ سب کے سامنے آرام سے چلتے بیچ مجمع کے آن کھڑے ہوئے ۔ سب کی عقلیں دنگ اور زبانیں گنگ ۔ اور کچھ بن نہ پڑا تو ازلی بد بخت اسود عنسی نے آپ کو فورا یمن چھوڑ دینے کا کہہ دیا ۔

آپ جناب نے مدینہ منورہ کی راہ لی

یہ عظیم کرامت بہت جلد پھیل گئی اور آپ کے پہنچنے سے پہلے ہی مدینہ طیبہ بھی پہنچ گئی

منزلیں طے کرتے جناب ابو مسلم مدینہ منورہ پہنچے تو سیدھے مسجد نبوی شریف حاضر ہوئے ۔ ایک ستون کی اوٹ میں نماز شروع کر دی

سيدنا أبو بكر الصديق رضي الله عنه اور سيدنا الفاروق عمر بن الخطاب رضي الله عنه دونوں ہی مسجد میں تھے ۔ حضرت عمر نے کچھ قیافہ وغیرہ لگا لیا ۔ آپ کے پاس آئے اور تعارف چاہا تو آپ نے کہا ، یمن سے آیا ہوں ۔ سیدنا عمر نے کہا کہ ہمارے اس دوست کا حال تو بتائیں جنھیں دشمن خدا نے آگ میں ڈالا اور وہ سلامت رہے ۔

ابو مسلم الخولانی نے اپنے کو پوشیدہ رکھنے کے لیئے جواب دیا ۔

وہ عبد اللہ بن ثوب ہیں ۔ لیکن حضرت عمر ، تو حضرت عمر ہیں ۔ کہا کہ میں اللہ کے حلف ساتھ پوچھتا ہوں کہ آپ وہ نہیں ہیں ۔ اب جناب خولانی کے پاس سوائے اللهم نعم کہنے کے اور کوئی چارہ نہیں تھا ۔

حضرت عمر نے جیسے ہی سنا آپ کو گلے لگایا ۔ آنکھوں کے درمیان بوسہ محبت و عقیدت و احترام ثبت کیا ۔ان کو آگے لے کر ائے ابو بکر اور اپنے درمیان بٹھایا اور فرمایا

اس اللہ کے لیئے تمام حمد و ثنا جس نے مجھے مرنے سے قبل اس بندے کی زیارت کی سعادت بخشی جس کے ساتھ اس نے وہی سلوک کرامت کیا جو ابراہیم خلیل الرحمان کے ساتھ کیا ۔

ذکر کیا ہے اسے بہت ائمہ نے چند یہ ہین

إمام البيهقي”دلائل النبوة”، ابن كثير “البداية والنهاية”، إمام ابن حبان صحيح ، إمام قرطبي “الاستيعاب في معرفة الأصحاب”، إمام ذهبي “سير أعلام النبلاء”، امام ابن عساكر “تاريخ دمشق ۔

آج بھی جو ہو ابراہیم کا ایماں پیدا

آگ کر سکتی ہے انداز گلستاں پیدا